متوقع نگران وزیر اعظم ! 447

متوقع نگران وزیر اعظم !

ماضی میں ہمیشہ نگران وزرائے اعظم کے انتخاب میں سیاسی جماعتوں میں ذہنی ہم آہنگی کم دیکھی گئ ہے سیاسی لوگوں نے ہمیشہ اپنی برادری سے انتخاب نہیں کیا جس کا ماضی میں خمیازہ بھی بھگتا ہے اس بار قومی جماعتیں سوائے چند ایک کے سب حکومت میں شامل تھیں قومی اتفاق رائے سے نگران وزیر اعظم کا انتخاب ہونا چائیے-
متوقع نگران وزیر اعظم کی دوڑ شامل کچھ نام درج ذیل ہیں -
میاں عامر محمود سابقہ ضلع ناظم لاہور،چئیرمین دنیا میڈیا گروپ، چئیرمین پنجاب گروپ آف کالجز اور کئی یونیورسٹیوں کے چانسلر , ایک نجی ائیرلائن لبرٹی ائیر کے مالک ہیں۔
میاں عامر محمود ماضی میں 8 سال تک پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور کے ناظم رہ چکے ہیں۔ اس دوران لاہور شہر نے خاصی ترقی دیکھی۔ 
میاں عامر محمود  پاکستان کی بڑی کاروباری شخصیت کے طور اپنی پہچان رکھتے ہیں- 
سابقہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی 1988ء میں اپنے والد کی وفات کے بعد سیاست میں داخل ہوئے اور پہلے ہی انتخابات میں قومی اسمبلی کے رکن  منتخب ہوئے۔ تب سے اب تک عباسی 6 بار رکن قومی اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں۔ 1997ء تا 1999ء نواز شریف کی وزارت میں پی آئی اے کے چیئرمین رہے-
شاہد خاقان عباسی 2013ء تا 2017ء تک وفاقی وزیر پٹرولیم رہے۔ جب کہ اس سے پہلے سید یوسف رضا گیلانی کی وزارت عظمی میں 2008ء میں وزیر تجارت رہے۔ یکم اگست 2017ء سے لے کر 31 مئی 2018 تک آپ پاکستان کے وزیر اعظم رہے۔
موجودہ چئیرمین سینٹ صادق سنجرانی بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ نواب ثنااللہ زہری کے ساتھ خصوصی اسسٹنٹ کے طور پر کام کیا -
بلوچستان میں صوبائی حکومت کے خاتمے کے بعد سامنے آنے والے نئے اتحاد نے انہیں سینیٹر منتخب کیا جس کے بعد پی ٹی آئی اور پی پی پی نے مشاورت کے بعد چیئرمین سینیٹ کا امیدوار نامزد کیا اور ڈرامائی انداز میں پہلی مرتبہ ایوان میں آنے والے امیدوار چیئرمین سینیٹ منتخب ہوگئے۔
صادق سنجرانی کو سابقہ حکومتوں میں کام کرنے کے باعث انتظامی معاملات میں خاصا تجربہ حاصل ہے جہاں ہو وہ 1999 تک وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر، شکایات سیل، انسپکشن سیل اور وزیراعظم سیکریٹریٹ کے رکن رہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے دورحکومت میں 2009 میں وزیراعظم سیکریٹریٹ، چیف کوآرڈینیٹر، مشیر اور وزیراعظم کے شکایات سیل سے وابستہ رہے۔
صادق سنجرانی 2018 میں بلوچستان سے سینیٹر منتخب ہوئے اور اس وقت پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے دور میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کی صورت میں چیئرمین سینیٹ منتخب ہوئے۔
صادق سنجرانی کو وزیر اعظم عمران خان نے چیئرمین سینیٹ کے لیے حکومتی اتحاد کا امیدوار نامزد کیا اور وہ 12 مارچ 2021 کو پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدوار یوسف رضا گیلانی کو شکست دے کر ایک بار پھر چیئرمین سینیٹ منتخب ہوئے۔
 سابقہ وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان جون 2013ء سے مئی 2018ء تک قومی اسمبلی کے رکن رہے۔ وہ نواز شریف کی وزارت عظمی (2013ء - 2017ء) اور شاہد خاقان عباسی کی وزارت عظمی (2017ء - 2018ء) کے عہد میں وزیر پیٹرولیم و قدرتی وسائل رہے۔ 
جام کمال کا تعلق بلوچستان کے ضلع لسببیلہ سے ہے۔ وہ بلوچستان عوامی پارٹی کے بانی صدر ہیں۔ ان کے والد جام میر محمد یوسف اور داد جام غلام قادر بھی بلوچستان کے وزیراعلیٰ رہے ہیں۔
 میاں محمد سومرو ماضی میں  نگران وزیراعظم ، قائم مقام صدر ، چیئرمین سینٹ اور گورنر سندھ رہ چکے ہیں -
16 نومبر 2007ء سے 24 مارچ 2008ء تک نگران وزیراعظم رہے۔آصف علی زرداری کے صدر بننے سے قبل 18 اگست سے 9 ستمبر 2008ء تک قائم مقام صدر بھی رہے۔ اس سے قبل گورنر سندھ اور چیئرمین سینٹ کی عہدوں پر فائز رہے۔ نجکاری کی وزارت پر بھی فائز رہے۔
میاں محمد سومرو ، ایک بااثر سندھی جاگیردار خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور بنیادی طور پر ایک بینکار ہیں جنھوں نے ملکی اور بین الاقوامی بینکوں میں اپنی خدمات کا لوہا منواچکے ہیں -
آفتاب احمد خان شیرپاؤ قومی وطن پارٹی کے سربراہ ہیں اور پاکستان کے 35 ویں وفاقی وزیر داخلہ رہ چکے ہیں ۔ اس سے پہلے وہ وفاقی پانی و بجلی کے وزیر (واپڈا)، امور کشمیر اور شمالی علاقہ جات کے وزیر اور ریاستوں اور سرحدی علاقوں (کنا اور SAFRON) اور بین الصوبائی رابطہ کے وزیر کے طور پر کام کر چکے ہیں۔ شیر پاؤ نےصوبہ خیبر پختونخوا کے 14th اور 18th وزیر اعلی کے طور پر کام کیا ہے -
مخدوم سید احمد محمود ایک  سیاسی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے۔ اس سے پہلے مسلم لیگ فنکشنل کا  حصہ رہے وہ دسمبر 2012 سے جون 2013 تک  پنجاب کے گورنر رہے۔ ماضی پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان مسلم لیگ ف کی طرف سے انتخابات میں حصہ لے چکے ہیں۔
محترمہ ملیحہ لودھی صاحبہ کامیاب  سفارت کار، دانشور اور سیاست دان ہیں۔ وہ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ہیں۔ اس سے قبل وہ دو مرتبہ ریاستہائے متحدہ میں پاکستان کی سفیراور مملکت متحدہ میں پاکستان کی ہائی کمشنر بھی رہ چکی ہیں۔ 
میاں محمد منشا پاکستان کی ایک معروف کاروباری شخصیت ہیں میاں محمد منشا کا شمار پاکستان کے امیر ترین لوگوں میں ہوتا ہے -

بشکریہ اردو کالمز