مغربی ممالک سمیت دنیا کے بہت سے ملکوں میں جانوروں کے حقوق کی ان گنت تنظیمیں سرگرم عمل ہیں جو ہمارے زخمی، اور قید جانوروں کو ریسکیو کرتی اور ان کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔ پڑوسی ملک بھارت میں تو جانوروں کی مدد کے لیے سرکار نے بہت سے ادارے قائم کر رکھے ہیں۔ ان بیشتر تنظیموں نے مہاتما گاندھی کے اس قول کو بہت پھیلایا ہے کہ ”اگر کسی قوم کے معیار اخلاق کو جانچنا ہو تو یہ دیکھو کہ جانوروں سے اس کا طرز عمل کیا ہے“۔ بہت اچھا قول ہے لیکن ان تنظیموں کو ان اسلامی احکام کا علم ہی نہیں جو اس نے جانوروں سے ہمدردی اور ان کے حقوق کی ادائیگی کے لئے دے رکھے ہیں۔ نہ انہوں نے اس کی کاوش کی ہے نہ ہم مسلمانوں نے انہیں اس کا بتایا ہے۔ بہرحال، مسلمان ملکوں میں جانوروں پر ہونے والے مظالم کی ویڈیوز یہ ادارے خوب دھوم دھام سے نشر کرتے ہیں، بالخصوص عرب ملکوں میں اونٹوں اور گھوڑوں سے جو کچھ ہوتا ہے، وہ بہت بھیانک ہے۔ اس کی صفائی نہیں دی جا سکتی اور نہ یہ کہنا کافی ہے کہ سب سازش ہے۔ پچھلے برسوں ایک پاکستانی ویڈیو بھی اسی طرح نشر کی گئی تھی۔ بلّی کا ایک چھوٹا سا بچہ کہیں نڈھال اور بے دم بیٹھا تھا۔ چند سکول کی عمر کے بچے آئے اور اس پلّے کو پچکار کر اپنی طرف بلایا۔ بھوکا بچہ لڑکھڑاتا ہوا ان کی طرف اس آس میں آیا کہ شاید کچھ کھانے کو ملے لیکن یہ بچے تو کچھ اور ہی منصوبہ بنا کر آئے تھے۔ ان کے پاس مٹی کے تیل کی بوتل تھی، انہوں نے بوتل سے بچے کے اوپر تیل چھڑکا۔ بچہ گھبرا کر بھاگا تو انہوں نے جلتی دیا سلائی اس پر پھینک ماری۔ وہ بچہ زندہ جل گیا۔ کسی نے اس کی آگ بجھائی لیکن تب تک اس کا آدھا جسم جل چکا تھا۔ کافی گھنٹے بعد وہ تڑپ تڑپ کر مر گیا۔
لیکن اہل مغرب کی اپنی صورت حال کیا ہے؟۔ وہاں سرعام ایسے مظالم کم ہوتے ہیں اور ہوتے ہیں تو بیشتر واقعات میں مدد پہنچ جاتی ہے لیکن چار دیواری کے اندر جو ہو رہا ہے، وہ نظروں سے اوجھل ہے۔ بہت سی تنظیمیں ان چاردیواریوں کے خلاف سرگرم ہیں لیکن ان چار دیواریوں کو بے پناہ دولت، کارپوریٹ سیکٹر اور طاقتور سیاستدانوں، ریاستی اداروں کا تحفظ حاصل ہے۔ ان سب چاردیواریوں کا احوال فی چاردیواری چند سطر میں بیان کیا جائے تو بھی اخبار کے پورے چار صفحات چاہئیں۔ یہاں محض ، بے ترتیب انداز سے چند ایک کا ذکر، محض سرسری انداز میں کر دیا جانا ہی مناسب رہے گا۔
سرفہرست ڈیری یعنی دودھ کی صنعت کو لے لیجئے۔ اس صنعت کے اشتہارات دیکھئے، سرسبز شاداب خوبصورت چراہگاہوں میں چرتی چگتی گائیں کتنی بھلی اور دلکش لگتی ہیں لیکن حقیقت اس اشتہار کے بالکل برعکس ہے۔
دنیا میں ہزارہا کے حساب سے دودھ کے فارم ہاﺅس ہیں۔ گائیں چھوٹے چھوٹے کٹہروں میں بند ہیں اور تمام عمر، ماسوائے آخری روز کے انہیں انہی کٹہروں میں بند رہنا ہے جن میں وہ آزادی سے ہل جل بھی نہیں سکتیں۔ انہیں کچھ پتہ نہیں کہ تازہ ہوا کیا ہوتی ہے، دھوپ کسے کہتے ہیں اور بارش کس شے کا نام ہے۔ اونچی چھتوں والی عمارتوں میں پیدائش سے لے کر آخری دن تک قید رہنے والی یہ گائیں اور بھینسیں زندگی کے آخری روز دھوپ اور ہوا کو دیکھتی ہیں۔ جب یہ دودھ دینے کے قابل نہیں رہتیں، اس روز انہیں اس قید خانے سے نکالا جاتا ہے اور گاڑیوں پر سوار کر کے بوچڑ خانہ لے جایا جاتا ہے۔ بس اسی روز انہیں پتہ چلتا ہے کہ کھلا آسمان، تازہ ہوا اور دھوپ کیا شے ہوتی ہے۔
عجیب اور پراسرار ماجرا یہ ہے کہ بوچڑ خانے کے دروازے تک یہ مویشی جیسے تھے ویسے ہی رہتے ہیں لیکن بوچڑ خانے کے دروازے کے قریب پہنچتے ہی انہیں پتہ چل جاتا ہے کہ انہیں قتل کرنے کے لیے لایا جا رہا ہے۔ ان کے منہ سے رونے کی آوازیں اور آنکھوں سے آنسو نکلنے لگتے ہیں۔
اندر بڑی بڑی عجیب الخلقت مشینیں ہیں جن میں ان کو جکڑ دیا جاتا ہے۔ پھر ان کے گلے پر کٹ لگا کر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس وقت ان کے تڑپنے اور ڈکرانے کی آوازیں ریکارڈ کی جاتی ہیں۔
اور ادھر فیکٹریوں میں موجود گائے بھینسیں بچے دیتی ہیں، انہی محدود گنجائش والے کٹہروں میں۔ تو بچوں کو فوراً ہی الگ کر لیا جاتا ہے۔ انہیں ماں کا پہلا دودھ، پہلا گھونٹ بھی پینے نہیں دیا جاتا، پچھلی ٹانگوں سے پکڑ کر دیواروں کے ساتھ، ان کی ماﺅں کے سامنے ہی پٹخ پٹخ کر ہلاک کردیا جاتا ہے۔ پیدائش کے فوراً بعد ہی انہیں اس عالم میں موت دے دی جاتی ہے کہ وہ پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں پی سکتے۔ بعض کارخانوں میں ان کے سر پر گولی ماری جاتی ہے یا یونہی اٹھا کر بیک یارڈ میں پھینک دیا جاتا ہے۔
مادہ بچھڑوں کو بھی ماﺅں کے پاس نہیں رہنے دیا جاتا۔ انہیں ماں کا دودھ نہیں پینے دیا جاتا۔ الگ باڑوں میں بند کر کے آٹے میدے کا محلول بوتلوں کے ذریعے پلایا جاتا ہے۔ ان کی ماﺅں کا دودھ انسانوں کے بچے پئیں گے، یہی کاروبار ہے۔
یہ تمام ہولوکاسٹ فیکٹریوں میں سے رحم دل صنعت کا حال ہے۔ وہ صنعت جسے ”میٹ انڈسٹری“ کہتے ہیں، اس کے اندر ہونے والے مظالم کی تفصیل لکھنا قلم کے بس میں ہے نہ اسے پڑھنا کسی کے بس میں۔ اس صنعت کے کارخانے دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہیں۔ ان کارخانوں میں روز کی بنیاد پر ہر طرح کے جانور، سب سے زیادہ سوّر ،پھر بھیڑ، بکریاں اور دوسرے جانور پیدا کئے جاتے ہیں۔ صرف امریکہ میں، امریکی ادارے اینمل کِل کلاک کے مطابق ہر روز 2 کروڑ 33 لاکھ مویشی قتل کئے جاتے ہیں۔ عالمی سطح پر یہ اعداد و شمار بہت زیادہ ہیں۔ مسوری سٹیٹ یونیورسٹی کی رپورٹ کے مطابق ہر روز دنیا بھر میں دو سو ملین جانور خوراک کے لیے ہلاک کئے جاتے ہیں۔ سب سے زیادہ سور ہیں۔ پیدائش سے لے کر ذبح ہونے کے دن تک یہ تمام جانور، بشمول گائے بھینس، ایک ہی چند فٹ کے پنجرے میں رہتے ہیں جہاں وہ گردن بھی نہیں موڑ سکتے۔ ان کا ذبیحہ نہایت ظالمانہ ہوتا ہے، دوسرے جانوروں کے سامنے ان کی گردن میں شگاف کیا جاتا ہے۔ اور یہ ”میٹ انڈسٹری“ کی وقت اور پیسہ بچانے کی مجبوری ہے