اقبال کا ایک شعر اور معرفت ذات ۔3 177

اقبال کا ایک شعر اور معرفت ذات ۔3

اقبال کے ایک شعر'
خودی کا سرِ نہاں لا الہ الااللہ
خودی ہے تیغ فساں لا الہ الااللہ 
سے آغاز کیا تھا تاکہ معرفتِ ذات سے معرفتِ الٰہی کے کچھ گوشے کھل سکیں اور اس سے اقبال کی فکر کا آسان مفہوم آگے بڑھا سکوں ، اسی دوران ناقدین نے کچھ سوالات اور اپنا نقظہ نظر پیش کیا ، جن کو سن کر خوشی ہوئی کہ لوگ اقبال کو پڑھنے کے بعد سمجھتے بھی ہیں ، میں تعریف سے زیادہ ناقدانہ تبصرے کا زیادہ قائل ہوں تاکہ لکھنے سے زیادہ باتیں کھل کر سامنے آئیں ، انہوں نے کہا کہ اقبال کو زمان و مکاں کی قید میں رکھ کر دیکھنے کی بجائے انسانیت کا شاعر اور مفکر سمجھنا چائیے جہاں مذھب کی قید نہ ہو ، انہوں نے تبصرہ کیا کہ اقبال نے مغربی مفکرین نطشے اور گوئٹے سے متاثر ہو کر تصور خودی پیش کیا ، یہ الزام یا تنقید نئی نہیں ہے یہ بات اقبال کے زمانے میں ہی لوگوں نے کی اور جس کا جواب اقبال نے دیا ہے ، مغربی مفکرین کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ مابعد الطبیعیات ھی نہیں ، انسان کی ابدی زندگی سے مکمل منکر یا نابلد ہیں ، اور اس میں جب خالق کائنات کی بات آتی ہے تو وہ مذھب کی بو محسوس کر کے پہلو تہی کرتے ہیں ، حالانکہ تمام مزاہب میں خدا کا کوئی نہ کوئی تصور ضرور موجود ہے ، جس سے انکار کر کے انسانیت کے اعلیٰ منصب اور خودی کو بے خودی میں تبدیل ہو کر ابدی زندگی سے گھبراتے ہیں ، یہ مسئلہ مذھب کا نہیں ہے انسان کی اعلیٰ انسانیت کا جس تک پہنچنے کے لیے خودی کی تربیت اور مراحل طے کرنے ہیں ، مر کے بھی رایگان نہ جائیں گے ھم ، کا تصور بھی یہی ہے کہ انسان کی ظاہری زندگی ھی نہیں ھے بلکہ باطنی زندگی بھی ھے جو مرتی نہیں سفر کرتی رہتی ہے یہاں تک کہ واپس اپنے تخلیق کار تک پہنچ جاتی ہے اور یہاں اسے دوام حاصل ھے ، نطشے کا نظریہ "بقائے دوام" ، اقبال کے نزدیک ہربرٹ اسپنسر سے ملتا ہے ، جس کا تصور مغربی مادی فکر کی ترقی یافتہ شکل ھے ، اقبال کے نزدیک نطشے کی نظر کائنات میں زماں کے خارجی یعنی بیرونی پہلوؤں تک محدود رہتی ہے ، 
وہ اسے کہتے ہیں کہ ، 
ہر نقش اگر باطل و تکرار سے کیا حاصل 
کیا تجھ کو خوش آتی ہے آدم کی ارزانی ،
مطلب انسان اتنا بھی سستا نہیں کہ مادی ترقی کے بعد اس کا اختتام ھو جائے ، اسے تخلیق کیا گیا دوام کے لیے ،ھمیشہ رہنے کے لیے دوسرا مغربی مفکرین بعد از موت زندگی کے قائل نہیں ، نطشے کا نظریہ فوق البشر اور اقبال کا تصور مرد مومن میں واضع فرق یہی ہے بلکہ خود اقبال نے نطشے کو ظاہر میں کھویا ھوا ایک فلسفی قرار دیا اقبال کے نزدیک نطشے کے فوق البشر کا ظہور بار بار ھوچکا اور آئیندہ بھی اس کی پیدائش ھوگی مگر وہ اس لذت یکتائی سے محروم ھے جو علامہ اقبال کے نزدیک اصل نکتہ ھے ، یہاں انسان کے آرزوئے بقائے دوام کو اصل نکتہ قرار دیا گیا جہاں بندہ خدا کے ھاتھ کو اللہ کا ھاتھ قرار دیا یعنی وہ اپنی تخلیقی راز سے جان چکا ہے کہ دراصل اس کی یہاں کوئی منزل نہیں ، ذات کو پہچان کر ، اپنے خالق کو پہچان لیتا ہے اور بقائے دوام کا سفر جاری رکھتا ہے ، 
ہاں دوسرا اعتراض کہ اقبال گوئٹے سے متاثر تھے تو یہ ضرور ہے کہ علامہ اقبال نے گوئٹے کی تعریف کی ، اس جرمن مفکر کو خراج تحسین پیش کیا کیونکہ مغرب میں وہ بڑا فلاسفر تھا مادیت کا توڑ روحانیت بیان کرتا ھے اور جو مادی ترقی کو سب کچھ نہیں سمجھتا بلکہ اخلاق اور روحانیت پر انسان کے اعلی مدارج کو پرکھتا ہے ، گوئٹے کے" دیوان مغرب" کے جواب میں علامہ اقبال نے "پیام مشرق" لکھی ، میں باقاعدہ حوالے بھی دے سکتا تھا مگر میرا مقصد کلام اقبال کو آسان مفہوم میں آگے پہچانے کا سفر ھے ، دین اسلام ایک جز نہیں ہے بلکہ ایک کل کی طرح انسانی تخلیق ، اس کے تخلیق کار اور پھر عملی طور پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو کامل انسان کے طور پر تمام پہلوؤں کو پرکھ کر دلیل کے طور پر پیش کرتا ہے ایسا کسی اور فکر میں نہیں ھے اگر ھے بھی تو مسخ ھوچکا ھے ، اس سے ہر گز مراد صوفی ھونا یا تصوف نہیں بلکہ عملی دلیل موجود ہے ، 
اقبال نطشے اور گوئٹے کی طرح محض فلاسفر ہی نہیں ھے بلکہ اسلامی تعلیمات اور اس کی حقانیت کا پوری طرح قائل ھے ، وہ رومان پسند بھی ھے ، حکیم و دانا بھی ھے ، مغرب اور مشرقِ کے علوم سے واقف اور، اہل علم کی تعریف بھی کرتا ہے مگر جب اقبال کو بطور فلاسفر پرکھیں تو وہ کسی سے متاثر ھوتا تو خود کیسے فلاسفر ھوتا اس نے اپنی ایک مکمل فکر پیش کی جو خودی سے سفر شروع کرتی ہے اور بے خودی کی منزلیں طے کر کے بقائے دوام یعنی ھمیشگی حاصل کرتی ہے ، 
خودی کو محدود پیمانے پر پرکھنے سے بات خارجی اور مادی دنیا تک رہ جائے گی ،جیسا کہ پہلے مضمون میں بیان کر چکا ہوں کہ اپنے ظاہر و باطن کو ساتھ لے کر چلنا ہے ، جس سے مرد مومن بنتا ہے، نطشے کے خیالات ایسے نہیں ہیں ، خود اقبال نے کئی مرتبہ اس کی تردید کی ، اقبال جس سفر میں ریے انہوں نے سیاسی اور انقلابی فکر رکھنے والے لوگ ھوں یا حکمت و فلسفہ کی گھتیاں سلجھانے والے سب سے ملے ، پھر قرآن اور تاریخ اسلام ، تہذیب و تمدن ، زبان و مکاں کو باریکی سے مطالعہ کیا ، ایک پہلو شاید کسی کو دلکش نہ لگے مگر وہ خود کہتے ہیں یہ علوم اور فن و فکر جو مجھے ملی اس کی بنیاد محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ھے ، میں اس نکتے پر زیادہ اس لئے بات نہیں کرتا کہ وہ جو دوسرے مذاھب والے معیارات تشکیل دیتے ہیں ان کو شاید پڑھنے سے دور رکھے ،انسان کا خالق تو ھے نا پھر لا الہ الااللہ کا سفر کیوں نہ بیداری پیدا کرے ؟ سوال کرنے سے کوئی نقصان نہیں ھوتا مگر تفہیم کے لیے وسعت نظری ضروری ہے ، آپ یا میں ہر پہلو سے پڑھے اور جانے کے بغیر آگے بڑھیں تو پھر وسعت نظری پیدا نہیں ھو سکتی ، اقبال انسان کو اس کی اپنی حیثیت اور مقصد تخلیق یاد دلا رہا ہے ، اور اس کا سفر خودی ، فقر اور روحانی بالیدگی سے شروع ہوتا ہے ،

بشکریہ اردو کالمز