انتخابات میں تاخیر کی ذمہ دار پی ڈی ایم جماعتیں 210

انتخابات میں تاخیر کی ذمہ دار پی ڈی ایم جماعتیں

قومی اسمبلی تحلیل کے بعد پاکستانی قوم عام انتخابات کی تاریخ کے اعلان کاانتظار کررہی تھی لیکن الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابات کی تاریخ کے اعلان کی بجائے آئین پاکستان کے آرٹیکل 51کے تحت پاکستان بھر میں حلقہ بندیوں کے لئے اک نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔ جس کے مطابق انتخابات سے پہلے سال 2023کی مردم شماری کی بنیاد پر سب سے پہلے حلقہ بندیاں کی جائیں گی۔ اور حلقہ بندیوں کی اشاعت کی حتمی تاریخ 14دسمبر2023طے پائی ہےاور بقول الیکشن کمیشن حلقہ بندیاں نوٹیفکیشن میں درج تواریخ سے پہلے ہونا ناممکن ہے۔ یعنی اسمبلی تحلیل سے چار ماہ تک صرف حلقہ بندیاں فائنل ہونگی اسکے بعد انتخابات جو بظاہر فروری یا مارچ 2024سے پہلے ممکن دیکھائی نہیں دیتے۔ایک طرف الیکشن کمیشن کو آئین پاکستان کا آرٹیکل 224جو اسمبلی تحلیل کے بعد معینہ مدت یعنی 60یا 90روز میں انتخابات منعقد کروانے کا پابند کرتا ہے جبکہ دوسری طرف الیکشن کمیشن نے آرٹیکل 51 اور آرٹیکل 218کی کلاز 3 کے تابع حلقہ بندیوں پر کام شروع کردیا ہے۔ آرٹیکل 51کی کلاز 5کے مطابق قومی اسمبلی کی نشستیں ہر صوبے اور وفاقی دارالحکومت کو آبادی کی بنیاد پر سرکاری طور پر شائع ہونے والی پچھلی مردم شماری کے مطابق مختص کی جائیں گی۔الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقہ بندیوں پر تین صفحات پر مشتمل فیصلہ بھی جاری کیا گیا ہے۔ جسکے مطابق الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں کے لئے آئین پاکستان کے آرٹیکل 218کی کلاز 3کا سہارا لیا ہے۔ اس آرٹیکل کے مطابق یہ الیکشن کمیشن کا فرض ہوگا کہ وہ انتخابات کا انعقاد کرے اور ایسے انتظامات کرے جو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ انتخابات ایمانداری، انصاف کے ساتھ، منصفانہ اور قانون کے مطابق ہوں اور بدعنوانی کے عمل کو روکا جائے۔سادہ الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ جس طرح پنجاب و خیبر پختونخواہ صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات میں  آئین پاکستان کے آرٹیکل 224کی کلاز 2 اور سپریم کورٹ کے صوبہ پنجاب میں 14مئی 2023انتخابات کے حکم کا حشر نشر ہوا تھا، بالکل ویسی ہی صورتحال قومی اسمبلی و چاروں صوبوں کے عام انتخابات میں دیکھنے کو مل رہی ہے۔یاد رہے جنوری 2023 میں صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ اسمبلیوں کو تحلیل کیا گیا تاہم آج کی تاریخ تک دونوں صوبوں میں نگران سیٹ اپ کے ذریعہ حکومتی اُمور سرانجام دیئے جارہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن و اجلاس میں طے پائے جانے والے فیصلوں پر طرفین کی جانب سے انتہائی مایوسی اور تشویش کا اظہار کیا جارہے ۔ پاکستان میں وکلاء کی سب سے بڑی تنظیم پاکستان بار کونسل نے عام انتخابات کے التواء پر سخت تشویش کا اظہار کردیا۔ بارکونسل نے اپنے اعلامیے میں کہا ہے کہ الیکشن کمیشن آئین کے مطابق مقررہ مدت میں انتخابات کروائے، حلقہ بندیاں دوبارہ ترتیب دینے کا شیڈول انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔آئیے دیکھتے ہیں کہ مردم شماری کی بناء پر ریاست پاکستان میں اک مرتبہ پھر آئینی بحران جیسی صورتحال پید ا کیسے ہوگئی؟ اور کون اسکا ذمہ دار ہے؟ یاد رہے ڈیجیٹل مردم شماری 2023 یکم مارچ 2023سے22 مئی 2023 تک جاری رہی جبکہ ڈیٹا اکٹھا کرنے کے بعد کا سروے 8 سے 19جولائی 2023 تک جاری رہا۔ جبکہ 5اگست 2023کو اس وقت کے وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدرات مشترکہ مفادات کونسل کا 50واں اجلاس منعقد ہوا جس میں مردم شماری 2023 کے نتائج کی منظوری دے دی گئی۔حیران کن بات یہ ہے کہ ماہ جولائی تک پی ڈی ایم اتحادی جماعتوں سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے مردم شماری کے نتائج پر خدشات کا اظہار کیا جارہا تھا۔ 15جولائی کو نجی ٹی وی کے ٹاک شو میں بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وفاقی حکومت 2023 کی مردم شماری کے نتائج کا اعلان نہیں کرے گی اور نہ ہی نتائج کو نوٹیفائد کرے گی تو الیکشن کمیشن آف پاکستان گزشتہ مردم شماری کی بنیاد پر انتخابات کرانے کا پابند ہو گا اور آئندہ انتخابات 2017 کی مردم شماری کی بنیاد پر ہوں گے۔پھر یکدم اسمبلی تحلیل سے کچھ دن پہلے تمام اسٹیک ہولڈر نے ناصرف مردم شماری نتائج کی منظوری دی بلکہ حکومت نے ان نتائج کو شائع کرکے الیکشن کمیشن کو آئین کے آرٹیکل 51کی کلاز 5کے مطابق حلقہ بندیاں کرنے پر مجبور کردیا۔ اس وقت ہر پاکستانی الیکشن کمیشن کو حرف تنقید بنا رہا ہے۔ جبکہ درحقیقت ریاست پاکستان کو آئینی بحران میں دھکیلنے میں پی ڈی ایم حکومت نے بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ اور اب پی ڈی ایم جماعتیں انتخابات میں تاخیر پر مگرمچھ کے آنسو بہاتے دیکھائی دے رہی ہیں۔ پی ڈی ایم جماعتوں نے نئی مردم شماری کا اعلان کرنے سے پہلے الیکشن کمیشن سے نئی حلقہ بندیوں بارے بریفنگ لینا کیوں مناسب نہ سمجھا؟ کاش پی ڈی ایم حکومت اسمبلی تحلیل سے پہلے مردم شماری کے اعلان کا فیصلہ نئی منتخب اسمبلی اور حکومت پر چھوڑ دیتی ۔ تاکہ الیکشن کمیشن پر  آئین کے آرٹیکل 51کی کلاز 5 کے تحت انتخابات نئی مردم شماری کے تحت کروانا لازم نہ ہوتا۔صوبہ پنجاب، خیبر پختونخواہ کے ریاستی و حکومتی افعال تقریبا سات ماہ سے نگران سیٹ اپ کے تحت چلائے رہے تھے اور باقی ماندہ دونوں صوبوں بلوچستان ، سندھ اور وفاق بھی غیر معینہ مدت کے لئے نگران سیٹ اپ کے تحت چلائے جائیں گے۔ اس تمام تر صورتحال سے نکلنے کا واحد حل یہی ہوسکتا ہے کہ پاکستان کی تمام تر ریاستی مشینری الیکشن کمیشن کی حلقہ بندی کی سرگرمیوں میں شبانہ روزاپنی خدمات فراہم کرے اور 14دسمبر کا حلقہ بندیوں کا ہدف صرف ایک یا ڈیڑھ ماہ تک حاصل کرلیا جائے تاکہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 224کی کلاز 2کے تحت عام انتخابات کا انعقاد 90روز میںماہ نومبر کے پہلے ہفتے تک ممکن ہوسکےکیونکہ موجودہ حالات میں نہ تو 90روز میں انتخابات کا آئینی تقاضہ پورا ہوتا دیکھائی دے رہا ہے اور نہ ہی فروری، مارچ 2024میں بھی عام انتخابات کے انعقاد کے آثار دیکھائی دے رہے ہیں۔ یاد رہے کسی بھی ریاست میں عوام کوزیادہ دیر اقتدار سے دُور رکھنے کے سنگین نتائج برآمد ہوتے ہیں اور پاکستان 1971میں ملک دولخت کی صورت میں سنگین نتائج پہلے ہی بھگت چکا ہے۔

بشکریہ اردو کالمز