پاکستان میں یہ امر خوش آئند ہی کہا جائے گا کہ 2018ء کی اسمبلی اپنی آئینی مدت پوری کرنے کے بعد تحلیل ہو گئی یوں ن لیگ کی قیادت میں اتحادی حکومت بھی فارغ ہو گئی ،اس سے پہلے اس اسمبلی کی منتخب کردہ پی ٹی آئی حکومت پچھلے برس اپریل 2022ء میں ہٹائی گئی تو وہ بھی تمام تر منفی پروپیگنڈے کے باوجود بہرحال ایک آئینی اقدام ہی تھا، جس کے خلاف پی ٹی آئی چیئرمین نے منافرت کا ایک طوفان اٹھائے رکھا ۔امریکاسے لیکر محسن نقوی تک بشمول جنرل باجوہ کس کس پر الزامات کی بوچھاڑ نہیں کی! یہ الگ بات کہ ان کے اپنے ساتھی اب ان سے لاتعلقی اختیار کرچکے ہیں۔ اس کے بالمقابل ہم 2017ء میں نواز شریف کے ہٹائے جانے کو ملاحظہ کرتے ہیں تو تصویر کا رخ اس کے قطعی برعکس نظر آتا ہے۔ نواز شریف کا تو کوئی ممبر اسمبلی نہیں ٹوٹا تھا کیا ان پر طاقتوروں کی کاوشیں نہیں ہوئی ہونگی مگر ان کی پارٹی کے ممبران اسمبلی سمیت اتحادی پوری استقامت کے ساتھ آخری وقت تک ان کی حمایت میں بنیان مرصوص بنے پائے گئے ۔2022ءمیں ن لیگ کی قیادت اگر سیاسی بالغ نظری کا مظاہرہ کرتی تو کبھی اس تباہ حال معیشت اور ابتر سیاسی صورتحال میں اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہونے کی کوشش نہ کرتی ، بدلے ہوئے حالات سے فائدہ اٹھانے کی بہترین صورت یہی تھی کہ یہ لوگ خود حکمرانی میں شامل ہو کر کوئلوں کی دلالی میں منہ کالا کرنے کی بجائے دیگر اپوزیشن یا اتحادیوں کو آگے کرتے اور خود پیچھے رہ کر انہیں سہارا دیئے رکھتے اس کا فائدہ یہ ہوتا کہ آج ان کی مقبولیت نواز شریف دور کی طرح بلندیوں پر ہوتی ۔ شہباز شریف کے فیصلے نے ن لیگ کو کمزور کر دیا اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہمارے دو بالغ نظر سیاست دانوں محترمہ بے نظیر اور میاں نواز شریف نے دہائیوں کی محنت سے سویلین بالادستی جس قدر منوائی یا حاصل کی تھی وہ ساری برباد ہو کر رہ گئی اور آج بھی دو تین بڑے چاپلوسوں نے کٹھ پتلی کا رول اس کم ظرفی سے نبھایا ہے کہ اس وقت سویلین بالادستی نامی کوئی چیز بچی ہی نہیں ۔ آج چھوٹے بڑے تمام معاملات اور اہم فیصلے کلی طور پر طاقتوروں کی مٹھی میں جا چکے ہیں یوں حالات ایسے بنا دیئے گئے ہیں کہ آنے والے برسوں میں سیاسی کامیابی کیلئے مقابلہ اس بات پر ہو گا کہ کون کتنا بڑا خوشامدی و چاپلوس بننے کیلئے تیار ہے۔ اگر کسی کو شک ہے تو وہ نگرانی کیلئے آنے والے وزیراعظم کاکڑ صاحب کا شان نزول بھی ملاحظہ فرمالے اور سبکدوش ہونے والے بلند پرواز کے آخری بیانات بھی سن لے۔فارغ ہوتے ہوئے چھوٹے میاں صاحب فخریہ قوم کو یہ بتا رہے ہیں کہ میں تو تیس برس سے اسٹیبلشمنٹ کی آنکھوں کا تارہ رہا ہوں اور مجھے اس پر فخر ہے ،میں نے ان کی جو خدمت کی ہے اس سے یہ امید رکھتا ہوں کہ آئندہ بھی وہ مجھے خدمت کے ایسے مواقع سے نوازیں گے۔ آئینی طور پر وزیر اعظم کی حیثیت ایک عوامی و قومی قائد کی ہوتی ہے جس کا وقار و احترام ہر طاقتور سے طاقتور عہدیدار اور ادارے یا محکمے پر لازم ہے مگر موصوف الٹی گنگا بہاتے ہوئے ہر لمحہ طاقتوروں کی قصیدہ خوانی کرتے پائے گئے ۔ جب میڈیا والوں کی طرف سے اس نوع کا سوال اٹھایا جاتا ہے کہ آپ کیوں ہمہ وقت طاقتوروں کے گن گانے اور قصیدے پڑھنے میں رطب اللسان رہتے ہیں تو جواب ملتا ہے کہ اس میں کیا حرج ہے ؟بلند پرواز صاحب اس میں یہ حرج ہے کہ اس سے وزارت عظمیٰ کا باوقار عہدہ بے توقیر ہوتا ہے پچیس کروڑ عوام کی آن طاقت تلے دب جاتی ہے، آئین و جمہوریت کی سانسیں اکھڑنے لگتی ہیں ،طاقتور خود کو آقا و وائسرائے سمجھتے ہوئے قوم کی گردنوں پرسوار ہو جاتے ہیں اور نفسیاتی طور پر سیاست دانوں کو کمتر و حقیر خیال کرنے لگتے ہیں ،سویلین بالادستی کا خواب چکنا چور ہو جاتا ہے وہ مارشل لاء لگائے بغیر مارشل لاء کے مزے لوٹ رہے ہوتے ہیں ،میاں صاحب آپ کے بھائی نے اتنے طویل برسوں سے سویلین بالادستی کیلئے جو قربانیاں دی تھیں آپ نے اس سولہ ماہ کے ٹھاٹ باٹ اور آنیوں جانیوں کی ظاہری چمک دمک کیلئے انہیں تہس نہس کرکے رکھ دیا ہے تین مرتبہ منتخب ہونے والے چٹان جیسے مضبوط اعصاب اور ارادوں والے نواز شریف کو اتنا نقصان راحیل، باجوہ، ثاقب، کھوسہ یا تیس مار خاں نہیں پہنچا سکے جتنا آپ نے بھائی بھائی کے کھیل میں پہنچادیا ہے اور باقی کسرخیر سے آپ کی لاڈلی بھتیجی نے پوری کر دی۔ اگر آپ نے آنکھوں کا تارہ بنے رہنے کی بجائے وزارت عظمیٰ کے وقار کا کچھ خیال رکھا ہوتا تو آپ اتحادیوں کو اعتماد میں لیتے ہوئے نگران وزیراعظم کے ایشو پرا سٹینڈ لے سکتے تھے۔ راجہ ریاض صاحب بیچارے توخود ن لیگ کے ٹکٹ کے امیدوار بن کر ہاتھ باندھے کھڑے تھے،جب آپ خود سراپا تسلیم بنے ہوئے تھے تو وہ کیسے نظریں اٹھانے کی جرات کرسکتے تھے ؟ میرے خیال میں بہتر تھا کہ پرویز رشید یا فرحت اللہ بابر میں سے کسی پر اتفاق رائے کر لیا جاتا اگر بلوچستان کی مجبوری بن گئی تھی تو باپ کی بجائے اختر مینگل جیسے عطا اللہ مینگل کے بیٹے سے مشاورت کی جاسکتی تھی اگر آپ قطعی آئینی ایشو پر اسٹینڈ لینے کی بجائے ڈھیر ہوگئے تو پھر آنکھوں کا تارہ بننے پر فخرکرنا بنتا ہے یا ندامت ؟
210