گزشتہ سال ایک دوست دوڑا دوڑا آیا اور کہنے لگا یار کشمیر میں ایک اردو کانفرنس کروانی ھے ، کوئی جگہ بتائیں میرا خیال سیدھا احمد شاہ صاحب کی طرف گیا ، ھم تو اردو یا اردو ادب کی کسی گنتی میں ہی نہیں آتے البتہ دوست کا کافی پڑھنے اور سننے کا شوق ہے ، ھم محض کمزور ذوق کے لوگ ہیں ، خیر میں نے اسے کہا کہ راولاکوٹ بہترین جگہ ہے موسم اچھا اور ادیبوں کے لیے بہترین ماحول ھے ، میں نے سرگرم مجلسی دوست وسیم اعظم صاحب سے بات کی انہوں نے ھمیشہ کی طرح کہا کہ جگہ اور دیگر انتظامات کے لیے ھم حاضر ہیں ، خیر بعد میں طے پایا کہ دارالحکومت مظفرآباد اس کے لیے بہتر ریے گا ، اس کانفرنس کا انعقاد تو ھوا ھم ھمیشہ کی طرح نہ جا سکے ، 2022ء کی عالمی اردو کانفرنس کراچی آرٹس کونسل میں احمد شاہ کے تسلسل کی عکاسی کرتی ہے جس میں جناب انور مقصود نے بجا کہا تھا کہ احمد شاہ انسان نہیں" جن" ھے. واقعتا اتنا کام بابائے اردو مولوی عبد الحق کے بعد احمد شاہ ھی کر سکا ھے ، جو ابھی تک جاری ھے اور 30 نومبر کو پھر سولہویں عالمی اردو کانفرنس انعقاد پذیر ہے جو چار دن جاری رہے گی ، عالمی اردو کانفرنس میں پاکستان ، بھارت اور دنیا بھر سے مندوب شریک ھوتے ہیں ، کانفرنس میں مشاعرے ، مذاکرے ، مکالمے ، قوالی ، مجلس غزل ، کتابوں کے سٹال سمیت فن و ثقافت سے جڑی ایک جامع منظر کشی ھوتی ھے،
قائد اعظم محمد علی جناح نے خطاب میں وضاحت کے ساتھ فرمایا تھا کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ھوگی ، مگر مولوی عبد الحق اور چند ان جیسے ہی سر پھروں نے اپنی کوششیں جاری رکھیں لیکن باقی چیزوں کی طرح یہ بیل بھی منڈھے نہ چڑھی ، گویا ھم "ادھے پائی" تھے اور ابھی تک ادھے پائی ہی رہے ، نظام ابھی تک سیاسی ھو یا تہذیب و ثقافت کا آدھا تیتر آدھا بٹیر والا محاورہ ہی صادق آتا ہے ، گویا صبح قیامت تک جاری رہنے کی توقع ھے ، کسی بڑے خواب کی ضرورت نہیں قومی پہچان بلکہ اجتماعیت کے لیے زبان ، فنون لطیفہ اور تعلیمی نظام میں اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ، اردو بھی بچاری تھی آج تک بیچاری ھے ، کوئی چیز ھم طے نہیں کر سکے ، انگریزی ہی کیوں نہ ھوتی کم از کم کسی ایک طرف تو لگتے، مگر کنارے لگتے لگتے بالکل ہی "کنارے" لگ گئے ، اس اندھیرے میں احمد شاہ کی اردو کانفرنس چراغ ہی نہیں ایک چمکتا دمکتا سورج ھے ، جس کی روشنی اب ملک نہیں بیرون ملک بھی پھیل چکی ہے ، بائیس میں اس کانفرنس کے 45 سیشن ھوئے تھے اور سینکڑوں اہل قلم و فن ایک چھت تلے جمع تھے،اُردو کا ایک بڑا سرمایہ بھارت میں میں موجود ہے بلکہ زیادہ ہے ، اس سے استفادہ کرنا ھمارے لئے ایک اچھا عمل ھے ، کہتے ہیں علم کی کوئی سرحد نہیں ہوتی ، اقبال اور غالب ھوں کہ میر و انیس دنیا ان کے ادب سے لگاؤ رکھتی ہے ، احمد شاہ صاحب نے بیسویں اور اکیسویں صدی کے اہل قلم و فن کو ایک جگہ اکٹھا کر کے نہ صرف اردو زبان کی خدمت کی بلکہ مقامی زبان و تہذیب کو بھی ایک بڑا مقام دیا ہے ، امسال بھی نامور ادیب ، شاعر افتخار عارف، مفکر ، رائٹر انور مقصود ، کشور ناہید ، عبدااللہ ھاشم ، انور مسعود ، نور الہدیٰ شاہ ، وسعت اللہ خان ، مشہور بھارتی شاعر گلزار ، متعدد اہل قلم ، صحافی اور دانشور اس کانفرنس کی زینت ہیں ، کراچی آرٹس کونسل ، احمد شاہ ، انور مقصود اور نور الہدیٰ شاہ کی کاوشیں اور ادیبوں کی تخلیقات دنیا کو ایک نیا اردو نامہ اور ترویج واشاعت میں بڑا مقام دیں گی،
کراچی اردو کا مرکز ہے پاکستان کی فلم ، ٹی وی اور ادب میں جب تک اہل زبان کا غلبہ تھا ذوق اور شوق بھی نمایاں تھا جب سے یہ کور ذوق لوگوں کے ھاتھ بھاگ ڈور آئی بتدریج زوال ھی ھے ، بڑے فنکار ، بڑے اہل قلم اور ادیب پیدا ھونا بند ہو گئے ۔کراچی میں منعقدہ عالمی اردو کانفرنس کے اثرات ذوق مطالعہ ، شوق فن اور ادب کی آبیاری کے لیے ایک بڑا کام ہے جس کے سرخیل جن نما انسان احمد شاہ ہیں
210