اداروں میں افراد کی اہمیت 223

اداروں میں افراد کی اہمیت

ہماری حالیہ تاریخ میں یہ پروپیگنڈہ عام ہے کہ فی زمانہ افراد کی نہیں اداروں کی اہمیت ہے۔ افراد آتےجاتےجبکہ ادارے ہمیشہ رہتے ہیں اس لئے ان کی اہمیت مسلمہ ہے۔ زمانہ قدیم میں جب بادشاہتیں ہوتی تھیں تو شاہ کا فرمان ہی قانون ہوتا تھا۔ یوں اداروں کی اہمیت نہ ہونے کے برابر تھی تاہم جب سے ماڈرن نیشنل اسٹیٹس یا جدید ریاستوں نے سلطنتوں کی جگہ لی ہے تو شاہی و سلطانی کا خاتمہ ہوگیا ۔البتہ ان جدید ریاستوں میں جہاںفوجی حکومتیں یا سویلین لبادے میں آمریتیں چھائی ہیں وہاں آج بھی شخصی جبر کے نمونے ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔ آج بھی دنیا سے حکمرانی کا کلی خاتمہ نہیں ہوسکا۔جدید جمہوری ریاستوں میں فردِ واحد کی بجائے، عوامی منتخب پارلیمنٹس میں Collective public wisdom کو استعمال میں لاتے ہوئے ہر پہلو سے بحث و تمحیص کے بعد نہ صرف قوانین سازی ہوتی ہے بلکہ تمام تر معاملات طے کئے جاتے ہیں۔سچائی اور حقیقت بیانی میں اگر ایک محتاط قدم مزید آگے رکھتے ہوئے حریتِ فکر سے کام لیا جائے تو تمام قدیمی قوانین و ضوابط چاہے ان کی بنیادیں مذہبیت پر استوار تھیں یا سیکولر اپروچ پر۔ ان میں سب سے بڑا سقم ہی یہ تھا کہ ان کی بنیادیں فردِ واحد کی فکر رساپر استوار تھیں، ایک انسانی ذہن خواہ وہ کتنا ہی قابلیت سے مالا مال ہو وہ collective human wisdom کا متبادل ہرگز نہیں ہوسکتا ۔ آج کی ترقی یافتہ دنیا میں جب تمام ترذرائع و وسائل اور وسیعResearch based knowledge کے باوجود مکانی و زمانی تبدیلیوں سے ایسی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے جس میں یہ قوانین و ضوابط ناقابلِ عمل ہوکر رہ جائیں۔ ایسے میں رومن لاز ہوں یا ازمنۂ وسطیٰ کے شخصی ہنگامی یا ماورائی ضوابط کیسے دائمی قرارپاسکتے ہیں ؟ ہمارے روشن خیال فقہانے ایک اصول طے کیا تھا کہ حالات بدلنے سے حکم بھی بدل جاتا ہے لیکن بالفعل اس سنہری اصول کو نہ تو پوری طرح عامۃ الناس کو ذہن نشین کروایا گیا اور نہ ہی اپنا یاگیا۔ البتہ سوسائٹی اپنے طور پر بغاوت کرتے ہوئے آگے چلی جائے تو یہ الگ بات ہے۔ بحث یہ ہے کہ شخصی فیصلے خواہ وہ بادشاہوں یا سلاطین کے ادوار کے ہوں یا آج کے جدید جمہوری دور کے، عامۃ الناس کیلئے اٹل قرار نہیں دیے جاسکتے۔ لازم ہے کہ سوسائٹی اور میڈیا میں ان پر آزادانہ ،غیر مشروط اور کھلا مباحثہ ہونے دیا جائے بلکہ اگر نئے قوانین و ضوابط کی تشکیل مطلوب ہو تو مثبت و منفی ہر دو زاویوں سے ان کا جائزہ ماہرین کی پارلیمانی کمیٹیوں اور مابعد پارلیمنٹ کے اوپن فورم میں کروایا جائے۔ مانا کہ آج کی ادارہ جاتی ریاستوں میں افراد کی شخصی اہمیت کمتر ہوکر رہ گئی ہے لیکن اسی چیز کا دوسرا پہلو یہ ہے یہ افراد ہی ہیں جو اداروں کو تشکیل دیتے ہیں یا ان کو برباد کردیتے ہیں۔ جنرل ایوب نے یہاں دس برس آمریت مسلط کئے رکھی لیکن اس شخص نے زراعت اور انڈسٹری کو بڑھاوا دیا کئی سائنٹیفک لبرل قوانین دیے اس کے برعکس بھٹو کی پہچان آئین اور جمہوریت کے حوالوں سے کروائی جاتی ہے لیکن موصوف نے غیر منتخب قومی ادارے کیا ،منتخب اداروں کا بھی کچومر نکال کر رکھ دیا ، اقتدار کو طول دینے کی ہوس میں ایسے ایسے متنازع و خوفناک قوانین کو آئین کا حصہ بنادیا جن پر نصف صدی سے قوم نفرت اور خلفشار کا شکار ہے، آگے کی طرف ترقی کیا کرتی ؟ بعض معترضین یہ کٹ حجتی کرسکتے ہیں کہ آئین و قوانین بہتر بنانے سے کیا فرق پڑ گیا، سماجی طور پر سوسائیٹیاں تو ہر دو اطراف ایک جیسی ہی ہیں۔ ایسے سطح بینوں کو ادراک ہونا چاہئے کہ سوسائیٹیاں جتنی بھی پسماندہ ہوں اگر آئین میں مساوات اور شہریوں کی برابری کا اہتمام ہو تو وہ کمزور و مظلوم طبقات کا سہارا بنتا ہے بصورت دیگر کمزور طبقات کا ایسی متعصب اور نفرت انگیز سوسائیٹیوں میں بغیر آئینی و قانونی ڈھارس کے جینا محال ہوجاتا ہے۔ نیلسن منڈیلا ایک فرد ہی تھا جس نے جنوبی افریقا کو کیساباوقار بنا دیا، امریکہ میں کتنے صدور آئے ،یہ جارج واشنگٹن تھا جس نے قوم کے سامنے ہاتھ کھڑے کردیے کہ میں مزید اقتدار پر براجمان نہیں رہناچاہتا ،دوسرے باصلاحیت لوگوںکو بھی موقع ملنا چاہئے۔ ابراہم لنکن نے نہ صرف اپنے ملک بلکہ پوری دنیا سے انسانی غلامی کی زنجیریں کاٹ کررکھ دیں۔ اس کے بالمقابل ہٹلر بھی ایک فرد ہی تھا جس نے مہذب سماج کی چولیں ہلاکررکھ دیں اپنی قوم کیلئے ہی نہیں پورے یورپ کیلئے بھیانک موت کا پیامبر ثابت ہوا۔ ٹرمپ اتنے باوقار امریکی اداروں میں ایسا گھسا کہ صدیوں کے تسلسل سے آگے بڑھنے والے ادارے اس سے پناہ مانگنے لگے اور جاتے جاتے بھی وہ کانگریس پر حملہ آور ہوگیا۔ہمارے موجودہ پاکستان میں جناح تھرڈ بھی ایک ایسی ہی مثال ہے صرف یہ اکیلا نہیں ایسے کتنے ہی افراد ہیں جو ہمارے اعلیٰ اداروں میں ہیں لیکن ان معزز اداروں کی تعمیر نہیں تخریب کا باعث بنے۔ ثاقب نثار، کھوسہ اور گلزار تو کل کی بات ہیں ایسے ہی مزید تین نفوس قدسی ہنوز یہاں براجمان ہیں،ہمارا جناح تھرڈ تنہا نہیں۔ عسکریت میں بھی ایسے’’نابغہ روزگار ‘‘ رہے ہیں جن کے فیوض و برکات سے پوری قوم کا کون سا فرد ہے جو آگاہ نہیں ، کیا ان کو انکے مضبوط ادارے اعلیٰ انسانی اقدار یا آئینی و جمہوری اطوار سکھلا سکے؟ اس کے بعد یہ کہنا کہ افراد کے آنے جانے سے فرق نہیں پڑتا شاید درست نہیں ہے۔

بشکریہ ڈان ںیوز