23لاکھ کے بدلے موت  173

23لاکھ کے بدلے موت 

 

تین روز قبل کی ایک خوفناک خبر نے حیران اور پر یشان کر ڈالا، ایران کے راستے انسانی سمگلنگ میں ملو ث مذید 2افراد گرفتار اور دو درجن سے زائد نو جو انوں کو غیر قانونی طور پر سر حد عبور کر تے حراست میں لیا گیا۔ 20جون کو وطن عزیز میں قومی سوگ منایا گیا ، آزادکشمیر حکومت کی طرف سے سوگ جاری ہے ،وزیر اعظم میاں شہباز شریف کی ہدایت پر ملک بھر میں انسانی سمگلروں کیخلاف گھیراتنگ کیا جا رہا ہے ۔ گجرات ، شیخوپورہ، منڈی بہاو الدین ، لا ہور ، مظفر آباد، ساہی وال اور راولپنڈی سے 22/23لا کھ روپے لے کر غیر قانونی طور پر یو رپ بھجوانے والے انسانی سمگلروں کو گرفتار کر لیا ہے ۔ وفاقی و صوبائی حکومتوں کی طرف سے سخت ترین اقدامات کے باوجود نہ انسانی سمگلر اپنی مذموم حرکتو ں سے باز آتے ہیں اور نہ ہی اداروں (ایف آئی اے اور پو لیس ) کو اپنے فرائض منصبی سے غرض…اگر ان اداروں کو  حقیقی احساس ہو جائے تو خو شیوں کے مصنوعی آنسوو ں میں مو ت کے سفر کی طرف  آخری رخصتی نہ ہو تی ۔ پا کستان میںغم زدہ خاندان اور متاثرین اپنے پیاروں کی لا شو ں کے منتظر ہیں،دوسری طرف ڈنکی محاذ پر نئے سفر کا آغاز کرتے ہو ئے  انسانی سمگلروں کو شر م وحیا تک نہیں آتی ۔  وفاقی حکومت کو سخت ترین اقدامات کا سلسلہ دراز کر تے ہو ئے ایف آئی اے ان اہلکاروں اور افسران کے گرد گھیرا تنگ کر نا چاہئے جو چند ٹکوں کی خاطر غیر قانونی رعایتوں کی چھتری تان کر خاندانوں میں اذیت ،تکلیف اور آلام کی فصل کا شت کرتے ہیں ۔ آخری اطلاعات کے مطابق ڈوبنے والوں کی تلاش ختم کر دی گئی  جس کا یونانی حکومت نے باقاعدہ اعلان بھی کردیا ھے کم و بیش 500 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں ، تلاش کیلئے جاری آپریشن روک دیا گیا کیونکہ مزید کسی کے زندہ بچنے کی امید باقی نہیں رہی ۔  جنوبی یونان کے علاقہ پیلوس میں تارکین وطن کا جہاز بحیرہ روم میں ''پانی کی قبر'' میں دفن ہو گیا جہاز پر سوار لگ بھگ800 تارکین وطن سوار تھے  ان میں 310 پاکستانی تھے جن میں سے 12 افراد کو بچایا جا سکا ۔یہ جہاز بحیرہ روم کے سب سے گہرے مقام پر بین الاقوامی پانیوں ( 5000 میٹر کی گہرائی) میں دفن ہو گیا اب کسی کے زندہ بچنے کی امید ختم ہو چکی جنمیں بڑی تعداد بچوں اور عورتوں کی ہے… یاد رہے ! یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں. اس سے قبل بھی اسی طرح کے روح شکن واقعات رونما ہو چکے ہیں جن میں ہزاروں نوجوان لقمہ اجل بن چکے ہیں ۔ بسا اوقات خوش قسمتی ساتھ دے جاتی ہے.اور لوگون کی زندگی بدل جاتی ہے.آج بھی انسانی اسمگلر بے روزگاروں کو بیرون ملک لے جانے کو تیار بیٹھے ہیں. ان کے عزیزوں و اقارب بیرون ملک مقیم ہیں. وہ جس طریقہ کار کے تحت خود باہر گئے تھے. اسی طریقہ کار پر چلتے ہوئے. اپنے رشتے داروں کو بھی وہ اپنے پاس بلانے کی جستجو میں مگن ہیں. اللہ تعالیٰ نے انہیں رزق سے نوازا ہے. اب انہیں یہ غیر قانونی راستہ ہرگز اختیار نہیں کرنا چاہیے. رزق کمانے کے چکر میں اپنی جان تک کھیلنے سے گریز نہیں کرتے.. اگر آپ اپنے بھائی، بیٹے کو اپنے پاس بلانا ہی مقصود سمجھتے ہیں .تو پھر قانونی طریقہ اختیار کرتے ہوئے. ویزہ کا عمل مکمل کروا کر بلائے. انسانی اسمگلنگ بہت بری بات ہے. اس سے بھی زیادہ  بری بات سب کچھ جانتے ہوئے. خود موت کے منہ میں گود جانا ہے. اس سے بہتر ہے کہ اپنے ملک میں رہ کر محنت مزدوری کرکے دو وقت کی عزت کی روٹی کھا لی جائے. محنت مزدوری کرنے والا انسان کبھی مار نہیں کھا سکتا. کاش حکمران خواب غفلت سے بیدار ہو جائیں اور نوجوان نسل کے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کر دیں.، روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کریں. بیرون ممالک سے معاہدے طے کئے جائیں. جن کے تحت ہنر مند افراد کو بیرون ممالک بھیجا جاسکے. اسی طرح سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کو آمادہ کیا جائے کہ وہ ہمارے ملک میں اپنے یونٹ لگائیں. جن میں ہمارے نوجوانوں کو ملازمت ملے تو بیرون ملک جانے کی کسی کو ضرورت نہیں ہو گی. سانحہ یونان کی وجہ سے ہر آنکھ اشکبار ہے مگر ساتھ ہی یہ سوال کر رہی ہے کہ کب تک ہمارا روشن مستقبل اس طرح سے ذلیل و رسوا ہوتا رہے گا. ہمارے گھر اسی طرح سے کب تک اجڑتے رہیں گے یہاں ایک اور بات غور طلب ہے کہ ہمارے سکیورٹی ادارے کتنے کمزور ہے کہ ان کی ناک تلے سے انسانی اسمگلر نوجوانوں کو غیر قانونی طریقہ سے پار کروا لیتے ہیںاگر یہ لوگ چند ٹکوں پر اپناضمیر فروخت کرنے ہر آمادہ ہو جاتے ہیں تو سوچے ملک دشمن عناصر کس حد تک جا کر ان کو رشوت دیتے ہو گے ان جیسے چند ضمیر فروش لوگوں کی وجہ سے ہماری سرحدیں غیر محفوظ ہیں  اور ملک دشمن عناصر بلاخوف خطرہ ہماری سرحدی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے  یہاں دہشت گردانہ کاروائیاں کرتے ہیں. مغرب کو بھی اپنی ویزہ پالیسی پر نظر ثانی کرنی ہوگی انہیں غریب ممالک کے شہریوں کے لیے  ویزہ سروس کو آسان بنانا ہو گا

بشکریہ اردو کالمز