192

عین اس وقت کہ جب ہم انڈیا کو پڑھا رہے تھے

ابھی کل ہی کی بات ہے کہ ہم ہندوستان کو انسانی حقوق کے چیپٹر کھول کھول کر پڑھا رہے تھے۔ وہاں کی جمہوریت اور سیکولر ازم کو بھی بھاڑ میں جھونکے ہوئے تھے۔ ہم بتارہے تھے کہ شہری اپنی ذات میں آزاد ہوتا ہے۔

اپنی زندگی اپنے اختیار سے جینے کا اسے حق حاصل ہے۔ حجاب لینا اس کا انسانی حق ہے اور یہ حق چھین کر اپنی مرضی مسلط کرنا خلافِ انسانیت ہے۔ عین اس وقت کہ جب ہم ہندوستان کو شخصی آزادی کا یہ فلسفہ سمجھارہے تھے، پاکستان کے شہر حافظ آباد میں احمدیوں کو آزادی کا شیو سینا والا مفہوم سمجھایا جا رہا تھا۔ احمدیوں کی پینتالیس ایسی قبروں کی نشاندہی کی گئی، جن کے کتبوں پر ماشاللہ، الحمدللہ، یا حی یا قیوم جیسے الفاظ درج تھے۔

عدالت میں کہا گیا کہ ان الفاظ کا استعمال نہ صرف یہ کہ غیر آئینی ہے بلکہ ہمارے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا سبب بھی ہے۔ ماشااللہ، الحمدللہ، سبحان اللہ اور نعرہِ حیدری جیسے الفاظ کبھی تہذیب کے دائرے میں آتے تھے مگر اب اس کے جملہ حقوق بالادست فرقوں کے نام محفوظ ہو چکے ہیں۔ چنانچہ استدعا کی گئی کہ کتبوں کو توڑا جائے اور اُن لواحقین کو سزا دی جائی، جو یاحی یا قیوم لکھنے جیسے جرم میں ملوث ہیں۔

سیشن جج نے کچھ دیر سر کھجایا ہو گا اور کیس خارج کر دیا۔ ہجوم عدالت کے فیصلے سے مطمئن نہیں ہوا۔ کیونکہ درست فیصلہ وہی ہوتا ہے، جو ہجوم کے حق میں ہوتا ہے۔ معاملہ عدالت سے نکل کر ضلعی انتظامیہ کے ہاتھ میں چلا گیا۔ انتظامیہ نے احمدی کمیونٹی کو پیار سے سمجھایا کہ دیکھو امن و امان کی صورت حال قابو سے باہر ہو رہی ہے۔ حالات پر قابو پانے کے لیے اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے کہ آپ کی شخصی آزادی کا ہتھیا چار کیا جائے۔ آپ کے پاس بھی شخصی آزادی سے دستبرداری کے سوا کوئی چارہ اس لیے نہیں ہے کہ ‘قانون آپ کی حق تلفی کا تقاضا‘ کرتا ہے۔ انجامِ کار احمدی کمیونٹی نے اپنا شہری حق اکثریت کی خواہش پر قربان کیا اور حالات معمول پر آ گئے۔

عین اس وقت کہ جب ہم ہندوستان میں مذہبی جبر کی نشاندہی کر رہے تھے، سندھ کے علاقے گھوٹکی کی عدالت میں ایک ہندو استاد کو عمر قید کی سزا سنائی جا رہی تھی۔ یہ نوتن لال نامی وہی استاد ہیں، جنہیں 2019 میں ایک ہنگامے کے بعد حراست میں لیا گیا تھا۔ ایک بچے نے گھر آ کر والد کو بتایا، ”آج نوتن لال کلاس میں آئے، پیغمبرِ اسلام کی توہین کی اور چلے گئے۔‘‘ چونکہ استاد ہندو تھا، اس لیے یہ سوچنے کی گنجائش ہی نہیں بچی کہ بچہ جھوٹ بول سکتا ہے۔ یہ بھی نہیں سوچا گیا کہ کلاس میں اور بھی بچے ہیں ذرا ان سے بھی پوچھ لیا جائے کہ معاملہ کیا ہے؟

یہ خیال بھی نہیں کیا گیا کہ کیا پتہ نوتن لال نے کچھ کہا ہو اور بچے نے کچھ اور ہی سمجھا ہو۔ دراصل سوچنا ہی نہیں چاہتے تھے ورنہ یہ تو سوچا ہی جا سکتا تھا کہ نوتن لال کو آخر کس جناور نے کاٹ لیا تھا کہ یونہی منہ اٹھا کر آیا اور مسلم اکثریت والی کلاس میں پیغمبرِ اسلام کو یاد کر کے چلا گیا۔

جس اسکول میں نوتن لال پڑھاتے تھے یہ نوتن لال کا ذاتی سکول تھا۔ جس بچے نے نوتن لال پہ الزام لگایا اس کی مونچھوں کا اب بھی بمشکل رُواں ہی اُبھرا ہے۔ گھر میں والدین، جس عمر کے بچے کا مشورہ نہیں سنتے، اس عمر میں والد نے بچے کی گواہی قبول کر لی۔ والد نے بتیس بور کا قلم دان اٹھایا اور فردِ جرم عائد کرنے بازار چلا گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے بازار بند ہو گیا اور نوتن لال کے سکول کا گھیراؤ ہو گیا۔

جلاو گھیراؤ میں کچھ کمی آئی تو رات کے اندھیرے میں نوتن لال کے بچے علاقہ چھوڑ گئے۔ ہجوم نے پورے اطمینان کے ساتھ اپنی عدالت میں جب آخری فیصلہ سنا دیا تو کیس سیشن کورٹ کے سامنے رکھ دیا گیا کہ لیجیے اب قلم نکالیے اور چپ چاپ فیصلے کی توثیق کر دیجیے۔ کیس کو جتنا کھینچا جا سکتا تھا کھینچا گیا مگر دروازے پر ہجوم کا بستر، جہاں لگا تھا، وہیں رہا۔ ماحول کو سمجھ آگیا کہ ”انصاف‘‘ کرنے کے سوا اب کوئی چارہ نہیں ہے، سو انصاف کر دیا گیا۔

عین اس وقت کہ جب ہم ہندوستان میں ہجوم کے فیصلوں پر تنقید کر رہے تھے، پاکستان کے علاقے تلمبہ میں ایک شخص کو ہجوم نے گھیر کر قتل کر دیا۔ بتایا گیا کہ اس شخص نے مقدس اوراق جلا دیے تھے یا پھینک دیے تھے۔ اس سے ہجوم کے جذبات کو ٹھیس پہنچی اور پھر اس کے بعد انہوں نے وہی کیا، جس کا قانون بھی تقاضا کرتا ہے۔ یعنی سزا ہی دینی تھی، یہ نہ دیتے تو قانون دے دیتا۔

ابھی جب یہ سطریں تحریر کی جا رہی ہیں تو فیصل آباد کے بازار میں پھر سے ایک ہجوم نکل آیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ اس ہجوم کی بھی خیر سے دل آزاری ہی ہوئی ہے۔ یہاں بھی وہی موسمی الزام ہے کہ کسی شخص نے مقدس اوراق جلا دیے ہیں یا پھینک دیے ہیں۔ مشتعل ہجوم نے اس شخص کو گھیر کر تشدد کا نشانہ بنایا ہے مگر بچ نکلا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ بچ نکلا تو گھر چلا گیا۔ سیدھا جیل گیا ہے۔ جبر کا چلن دیکھیے کہ اس شخص کے لیے اب سزا بھی یہ ہے کہ جیل میں پڑا رہے اور عافیت بھی اسی میں ہے کہ جیل میں پڑا رہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا یہ شخص اب کبھی عدالت سے بری ہو پائے گا؟ کیا کسی وکیل میں ہمت ہو گی کہ وہ اس شخص کا کیس لڑے؟ کیا سیشن کورٹ کے کسی جج میں حوصلہ ہو گا کہ وہ لمبی تاریخوں میں الجھائے بغیر اس کیس کو دیکھ سکے؟ دو چار سال کے التوا کے بعد بھی قانون کی کوئی تاویل یا مذہب کی کوئی تعبیر اس شخص کی مدد کر سکے گی؟

ظاہر ہے، اس غریب کا انجام بھی وہی ہو گا، جو گھوٹکی کے ماسٹر نوتن لال کا ہوا ہے۔ تب کسی نے اگر کہہ دیا کہ یہ جبر ہے تو بہت سہولت سے کہہ دیا جائے گا کہ قانون کا احترام کیجیے۔ جواب میں یہ پوچھنے کی گنجائش بھی نہیں ہو گی کہ جبر اگر قانون بن جائے تو کیا وہ جبر نہیں رہتا؟

اس سوال پر ہجوم کے جذبات مجروح ہو جائیں گے۔ حالانکہ اسے ٹھنڈے دل دماغ کے ساتھ اس نکتے پر غور کرنا چاہیے کہ اگر ہندوستان کا پارلیمان حجاب پر ازروئے مذہب پابندی عائد کر دے تو کیا ہم کسی مسکان کو یہ تجویز دے پائیں گے کہ وہ قانون کے احترام میں خاموش ہو جائے؟ ضرور سوچیے! نوتن لال کے لیے نہ سہی، بی بی مسکان کے لیے سہی۔

بشکریہ ہم سب
 

بشکریہ ہم سب