انسان ایک واحدایسی مخلوق ہے جو کبھی چھوٹے چھوٹے واقعات کے مشاہدے سے اور کبھی مختلف بے ربط اور بے ہنگم چیزوں کو آپس میں مربوط کر کے نتائج برآمد کر لیتا ہے۔اور پھر کچھ ایسے ہی مشاہدات بعض اوقات کوئی بھولی بسری بات یاد کروا دیتے ہیں،جو ذہن کے نہاں خانوں میں دبکی بیٹھی ہوتی ہے اور پھر تاروں سے گرین سگنل ملنے کے بعد بڑی مستعدی سے آ دھمکتی ہے۔آج کچھ ایسا ہی معاملہ میرے ساتھ بھی پیش آیا ۔ایک بات جو میں اکثرسوچتی تھی اور سوچتی ہوں اور میرے خیال میں ہر باذوق انسان ،اپنی ذبان و ثقافت سے محبّت رکھنے والا انسان یہ محسوس کرتا ہو گا کہ کس بے دردی سے ہم بہ حیثیت پاکستانی اپنی ذبان و ثقافت کو تباہ کر رہے ہیں اور کس حد تک بے رغبتی و بے اعتنائی برت رہے ہیں۔اسی بات نے مجھے B.Sc کی انگریز ی کا ایک بھولا ہوا سبق یاد کروا دیا،گو کہ محض دو سال پہلے کی بات تھی لیکن کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو اپنے وقت پر جس جوش سے یاد رہتی ہیں وقت گزرنے کے ساتھ اُس سے بھی زیادہ جوش سے بھول جاتی ہیں۔یہ سبق بھی میری short term memory سے تقریباً مِٹ چکا تھا لیکن long term memory میںہمیشہ سے محفوظ تھا اور وہ اس لیے کیونکہ یہ میرا پسندیدہ ترین سبق تھا۔
اسکا مصنّفAlphonse Daudet ہے،جو ایک فرانسیسی ناول نگار ہے۔اسکا یہ مضمون ایک کہانی کی صورت میں پیش کیا گیا ہے،جسکا مین کیریکٹر ایک استاد ''مسٹر ہیمل'' اور اسکا ایک شاگردہے۔میں ذاتی طور پر مصنّف کی جذبہِ حبّ الوطنی اور اُسکی اپنی ذبان و ثقافت سے محبّت کی بناہ پر بہت متاثر ہوںکہ اُس نے ایک ایسے وقت میں اپنے لوگوں میں اپنی ذبان کی اہمیت بیدار کی جب قابض اقوام کی طرف سے اُن کی قومی زبان پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔اِختصار کے ساتھ بیان کروں تو کہانی یہ ہے کہ "Mr. Hamel" ایک فرنچ سکول ٹیچر ہے۔وہ اپنے ملک پر بیرونی قبضہ کی وجہ سے بہت دکھی ہے۔وہ اپنے لوگوں سے بہت پیار کرتا ہے اور یہ بالکل نہیں چاہتا کہ اُس کی قوم غلامی کی ذندگی بسر کرے۔وہ چاہتا ہے کہ اُس کے لوگ اپنی زبان اور اپنی ثقافت کو اپنائے رکھیں اور بلا شبہ یہی اُن کی پہچان ہے۔وہ یہ اِیمان رکھتا ہے کہ اگر اُسکی قوم اپنی زبان اور اپنی ثقافت اپنائے رکھے گی تو وہ ایک وقت آئیگا جب وہ دوبارہ آزادی حاصل کر لیں گے۔اُس کے نزدیک قومی زبان ایک ایسی طاقت ہے جو اُنھیں آپس میں جوڑے رکھے گی اور پھر اسی اتّحاد و یکجہتی کی بُنیاد پر وہ ایک دن پھر سے آزاد اور خود مختار قوم بن جایئںگے۔
لیکن جو حالات اُس کے پیشِ نظر ہیں اُن میں وہ یہ خدشہ محسوس کرتا ہے کہ شاید اُسکی قوم اپنی زبان کھو جائے اور نتیجتاً باہمی اِتحاد سے محروم ہو جائے۔کیونکہ اُن کی زبان کو جرمن زبان سے بدل دیا گیا ہے اور اب اُن کے سکول میں بھی قومی زبان پڑھانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔مصنّف کہتا ہے کہ ایک حاکم اور قابض قوم اپنی پوری کوشش کرتی ہے کہ وہ غلام قوم کے دماغ اور اُس کی نفسیات پر چھا جائے اور ایسا کرنے کے لیے وہ اپنی زبان وثقافت کوغلام قوم کے لوگوں میں پھیلانے کی بھرپور سعی کرتی ہے۔اور آخر کار ایک وقت ایسا آتا ہے جب جب غلام بنائی ہوئی قوم اپنی زبان و ثقافت کے متعلق انتہائی احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتی ہے۔اپنی زبان و ثقافت کو اپنانے میں عار اور شرمندگی محسوس کرنے لگتی ہے۔بقول مصنّف یہ مقام غلامی کا انتہائی بدترین مقام ہے کہ جب ایک قوم جسمانی غلامی کے ساتھ ساتھ ذہنی غلامی کا بھی شکار ہو جاتی ہے۔
اپنے سکول کے آخری دن کے موقع پر"Mr.Hamel"اپنے اسٹوڈنٹس اور اپنے لوگوں کو یہ باور کرواتا ہے کہ اُن کی زبان اور ثقافت اُن کے لیے کس قدر اہمیت کی حامل ہے۔اُس کے یہ الفاظ سنہری حروف میں لکھے جانے کے قابل ہیں۔وہ کہتا ہے کہ ''اگر کوئی قوم غلام بنا دی گئی ہے تو اُسے چاہیے کہ اپنی قومی زبان سنبھالے رکھے کہ یہ اُس کے لیے چابی ہے جو ایک نہ ایک دن اُس کی قید کا خاتمہ کر دیگی''۔
غالباً کچھ ایسی ہی کیفیات سے دوچار ہماری قوم نے بھی اپنی قومی زبان اور ثقافت کو تقریباً پسِ پُشت ڈال رکھا ہے۔لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم الحمدللّہ جسمانی طور پر تو بفضل ِتعالیٰ آزاد ہیں پھر اس قدر ذہنی غلامی کا شکار کیوں ہیں؟خاص طور پر ہماری نوجوان نسل مغربی کلچرکو Idealiseکیوں کرتی ہے؟ہم اُن کی زبان و ثقافت کے دلدادہ کیوں ہیں؟ اور وہ سب اپنانے میں برتری کیوں محسوس کرتے ہیں؟اسکا جواب Alphonse Daudetنے بہت ہی خوبصورت الفاظ میں دیا تھا کہ ہم دراصل نفسیاتی طور پر غلام بن چکے ہیں۔ہم مغربی کلچر اڈاپٹ کر رہے ہیں۔اور ان سب چیزوں کو ہم نے ترقی کے ساتھ relateکر دیا ہے۔درحقیقت اس وقت ہمارا معاشرہ ایک گلیمر کا شکار ہے،اور پھر یہ انسانی فطرت ہے وہ اپنے سے طاقتور یا کسی بھی اعتبار سے برتر شخص سے متاثر ہوتا ہے،اُس کی پرسنالٹی سے لیکر اس کی بول چال اور رہن سہن تک ہر ایک چیز کو حسرت بھری نگاہ سے دیکھتا ہے اور اسکی نقل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔بالکل یہی معاملہ اقوام کے ساتھ بھی پیش آتا ہے۔
لیکن میری ناقص رائے کے مطابق کہیں نہ کہیں اس کے ذمہ دار ہم خود ہوتے ہیںکہ ہم خود اپنا mind setupبناتے ہیں،اپنا معیار بناتے ہیں۔یہ سب تو تب ہی ہوتا ہی جب ہم نے اپنے معیارات اور ترجیحات میں اُس ظاہری چکاچوند کو صفِ اوّل کا درجہ دیا ہوتا ہے جو کہ مغربی معاشرے میںپائی جاتی ہے۔حالانکہ ہمارا دین اسکے بالکل منافی ہے۔اور ستم در ستم یہ کہ ہم اسکو ماڈرنزم کا نام دے دیا ہے،اسی ماڈرنزم کی وبا میں لپٹ کر ہی ہم اپنی قومی زبان اور اپنی ثقافت اپنانے میں احساسِ کمتری کا شکار ہیں اور اسکے برعکس مغربی زبان و ثقافت اپنا کر betternessمحسوس کرتے ہیں۔یہ سب اس لیے کیونکہ ہم نے اپنی ترجیحات بدل دی ہیںاور یہ غلامی کی بدترین صورت ہے کہ ہم نے ایک غیر قوم کی زبان وثقافت اپنانے کوmodernismیعنی جدید خیالات کا حامل اور اپنی زبان وثقافت اپنانے کوstodginessیعنی دقیانوسیت جیسے القابات سے نواز دیا ہے۔
اس وقت ہمارے معاشرے کے ہر فرد پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی زبا ن وثقافت کی حفاظت کرے،اور یہ تو ایک انسان کا کسی بھی ریاست کا شہری ہونے پر اس ریاست کی ہر چیز کی حفاظت اس کے فرائض میں شامل ہے۔یہ کبھی مت بھولیں کہ کسی بھی قوم کی زبان و ثقافت بلاشبہ اُس قوم کی پہچان ہوتی ہے،ہمارا مذہب ،ہماری زبان اور ہماری ثقافت ہماری شناخت ہیں۔یہی وہ شناخت تھی جس کی بنیاد پر دو قومی نظریہ پیش کیا گیا تھا اور جسکے بل بوتے پر ہمیں آزاد ی جیسی انمول نعمت ملی۔اس وقت چونکہ انگریزی کو بین الاقوامی زبان کا درجہ حاصل ہے اس لیے آپ اسے بھی ضرور سیکھیے مگر ساتھ ہی اپنی زبان اور اپنی ثقافت کو حددرجہ اہمیت دیجیے۔یاد رکھیے آپ کی قومی زبان،آپکا کلچر آپکی شناخت ہے اور جو قوم اپنی شناخت کھو دے وہ بے مول ہو جایا کرتی ہے،پھر اُس کی کوئی قیمت نہیں رہتی۔۔۔۔