گوجرانوالہ جلسہ  ناکام ہو گیا تو 397

گوجرانوالہ جلسہ  ناکام ہو گیا تو

 ہمارے دوست اور ساتھی کالم نگارجناب زید حبیب کا کالم''گوجرانوالہ جلسہ کامیاب ہوگیا تو'' ١٥ اکتوبر کو روزنامہ خبریں کے ادارتی صفحے کی زینت بنا،اس میں بعض حقائق اور اعدادوشمار حیرت انگیز طور اس تاثر کو یقینی بنا رہے تھے کہ پی ڈی ایم کا جلسہ کامیاب ہو جائے گا،اگر ایسا ہو گیا تو حکومت کے لئے مشکلات کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔کالم نگار لکھتے ہیںاور دلائل کے ساتھ کہ گوجرانوالہ مسلم لیگ ن کا مضبوط قلعہ ہے،انہوں نے مسلم لیگ ن کے قومی اسمبلی میں ممبران کی تفصیل بھی لکھی،سرگودھا،سیالکوٹ ،گجرات،شیخوپورہ لاہور ،نارووال،ساہیوال سمیت کئی اضلاع میں مسلم لیگی طاقت کو بیان کیا۔سب سے بڑا محرک اس وقت ملک میں بپا مہنگائی کا طوفان ہے ،جس کو بنیاد بنا کر پی ڈی ایم عوام کو اپنے ساتھ کھینچنے میں کامیاب ہو سکتی تھی۔جس کا امکان بھی تھا ،میں بھی سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ اپوزیشن نے صحیح وقت کا انتخاب کیا ہے اور مناسب مقام یعنی گوجرانوالہ کو نقطہء آغاز بنایا ہے ،ایک محرک یہ بھی مجھے اپنی رائے بدلنے پر مجبور کر رہا تھا کہ اس بار مجھے مسلم لیگ ن تحریک چلانے میں سنجیدہ دکھائی دیتی تھی،اس سنجیدگی کو میں اس لیے محسوس کر سکتا ہو ںکہ شہنشاہ مفاہمت جناب شہباز شریف اس بار جیل میں ہیں،انہوں نے کمال دانشمندی سے اپنی ضمانت واپس لے کر خود کو چکی کے دوپاٹوں کے درمیان پسنے کی بجائے خود کو محفوظ کر لیا ہے،کیونکہ مریم نواز کے کیمپ میں ان پر شک و شبہات کا سلسلہ جاری تھا ،وہ ایک طرف بھائی اور بھتیجی کی نظر میں اور دوسری طرف مخالف فریق کی نظر میں بھی مشکوک بنے ہوئے تھے،انہوں نے فیصلہ کیا کہ انا اور ضد کی انتہاوںمیں مست طوفانوں کو ٹکرانے دیا جائے،خود جیل میں بیٹھ کر محظوظ ہوا جائے۔
ایک اور ایسی وجہ نظر آرہی تھی کہ جس کی بنا پر کہا جا رہا تھا کہ ن لیگ اس بار سنجیدہ ہے ، محمد زبیر کی اسٹیبلشمنٹ سے خفیہ ملاقاتوں کے فاش ہونے پر ن لیگ اخلاقی سطح پر سبکی کا شکار تھی اور اتحادیوں کی نظر میں مشکوک بن گئی،جس کی وجہ سے ن لیگ کی مرکزی قیادت اپنے قول و فعل سے ثابت کرنا چاہتی تھی کہ وہ سنجیدہ ہے اور واقعی ''انقلابی '' بن چکی ہے۔ان تمام محرکات کو ذہن میں رکھتے ہوئے میں بھی یہ رائے قائم کرنے لگا کہ گوجرانوالہ جلسہ ایک کامیا ب شو ہو گا۔شام کو میڈیا پر مناظر دیکھ کر ایسا تاثر بنا بھی کہ کثیر تعداد میں لوگ شریک ہیں۔لیکن پی ڈی ایم کی قیادت کی غیر مناسب منصوبہ بندی اور ایک دوسرے پر اعتماد کی کمی نے اس پہلے پاور فل شو کو ناکامی میں بد ل دیا ہے،ناکام اس لئے کہہ رہا ہوں کہ اس شو کے نقطہ عروج کو کیش نہیں کیا جا سکا۔عوام آئے لیکن قیادت کا رویہ غیر سنجیدہ نظر آیا۔گوجرانوالہ ایک دیہاتی پس منظر رکھنے والا شہر ہے،دیہاتوں سے آئے ہوئے لوگ ،دوسرے اضلاع سے آئے ہوئے لوگ جناح اسٹیڈیم میں موجود تھے اور مولانا ابھی لاہور گھوم رہے تھے،ان لوگوں کا پرائم ٹائم بس رات نو بجے تک ہوتا ہے ،دیہاتی لوگ جلدی سونے اور جلدی جاگنے کے عادی ہیں،کئی دوسرے اضلاع سے آئے تھے، تھکے مارے لوگ بندھے بیٹھے ہیں اور قیادت سڑکوں پر گھوم رہی ہے۔پی ڈی ایم کی قیادت کو چاہئے تھا کہ دس بجے تک تقاریرختم کر لیتے ،جبکہ فضل الرحمان کی باری ایک بجے کے قریب آئی جب عوام گھروں کو نکل چکے تھے،میڈیا اگر دکھا بھی رہا تھا تو کون دیکھ رہا ہو گا،میں سمجھتا ہوں کہ یہ پی ڈی ایم کی قیادت اور انتظامیہ کی ناکامی ہے،انہوں نے اچھے بھلے بنے بنائے تاثر کو خود ہی سبوتاژ کر دیا۔مریم نواز کی تقریرایک روایتی بیانیہ ،مزاحمتی بیانیہ ،طنزیہ جملے بازی اور محض ناکامی و شرمندگی میں ڈوبے الفاظ جاری تھے۔محترمہ کے بیش بہا قیمتی لباس اور جوتے ہی واحد قابل ذکر کہے جا سکتے ہیں۔جبکہ بلاول بھٹو زرداری نے بہت مناسب سیاسی اپروچ کا مظاہرہ کیا ،بہت محتاط الفاظ میں تقریر کی جو کہ ان کو ذمہ دار سیاسی شخصیت ثابت کرنے کے لئے ضروری بھی تھا،بلاول صاحب اور پیپلز پارٹی میرے خیال میں بہت مثبت حکمت عملی لے کر چل رہے ہیں،انہوں نے منصوبہ بنا رکھا ہے کہ خود اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نہیں بولنا ،انتقام اور بدلے کی آگ میں جُلستے مریم نواز اور نوازشریف کو تھپکی دیتے رہنا ہے کہ وہ اپنی تقاریر میں فوج کی قیادت کو رگیدتے رہیں۔پیپلز پارٹی پہلے ہی 'اینٹ سے اینٹ' بجانے کا انجام دیکھ چکی ہے اور یہ جانتے ہیں کہ نوازشریف کالا کوٹ پہن کر سپریم کورٹ میں ان کے خلاف پیش ہوچکے ہیں۔
بات ہو رہی ہے کہ گوجرانوالہ جلسہ کامیاب ہوا؟کیا اس جلسے سے مطلوبہ نتائج برآمد ہو سکیں گے؟ میں سمجھتا ہوں اس جلسے کی کامیابی کے تاثر کو نوازشریف نے زائل کر دیا بلکہ یہ جلسہ ن لیگ کی مقامی قیادت کے لئے مشکلات کا سبب بنے گا۔نواز شریف نے جو بیانیہ اختیار کیا ،وہ تو الطاف حسین بھی نہ کر پایا۔الطاف حسین کی دہشت گردی کا نیٹ ورک بہت متحرک اور مضبوط تھا،چند منٹوں میں کراچی شہر میں آگ و خون کی لپیٹ میں آ جاتا۔ان کے پاس کارکنان کی شکل میں غنڈے اور قاتل تھے جو امن و امان کا مسئلہ کھڑا کر دیتے تھے۔ان کا انجام ایسا عبرت ناک تھا کہ ایم کیو ایم کو اپنی جان کی پڑ گئی اور الطاف حسین سے لا تعلقی کا اظہار کرنا پڑا۔نوازشریف نے بھی مسلم لیگ ن کو مشکلات میں ڈال دیا ہے ،پنجاب کے عوام کا مزاج ہے وہ اپنی افواج کے خلاف کسی بھی بیانیے کو مسترد کر دیتے ہیں۔نوازشریف نے خود جسطرح کی اداکاری کرتے ہوئے جیل سے رہائی حاصل کی وہ بھی ہتک آمیز انداز تھا۔اس لئے ان سیاسی و اخلاقی ساکھ بری طرح مجروح ہو چکی ہے،نواز شریف نے ن لیگ کو جس تصادم کی طرف ڈال دیا اس کا نقصان صرف ن لیگ کو ہو گا۔ٹکراو کی صورتحال کو سنبھالنے والے چوہدری نثار علی خان اور شہبازشریف اس وقت میدان میں موجود نہیں ہیں۔اسلئے اس تحریک کا انجام کم از کم ن لیگ کے لئے کوئی اچھی خبر نہیں ہو گا۔میرا''گمان'' ہے اس ساری صورتحال میں پیپلز پارٹی کو فائدہ ہو گا ،اس کو مذاکراتی میز پر بہتر و مضبوظ پوزیشن حاصل ہو جائیگی۔مولانا بھی کچھ نہ کچھ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
اس جلسے کے بعد ن لیگ کی مقامی قیادت تقسیم ہو جائیگی،وہ لوگ جو شہباز شریف بیانیے کو پسند کرتے ہیں وہ الگ ہو جائیں گے،عقل مند سیاستدان سیاسی خود کشی نہیں کریں گے،اپنا سیاسی مستقبل محفوظ بنانے کی کوشش کریں گے،ویسے بھی سیاستدان سمجھتے ہیں کونسی جمہوریت اور آئین کی بات ہو رہی ہے؟ کرپشن بچاو مہم کے لیے جلائی گئی آگ میں وہ کیوں خود کو ایندھن بنائیں گے؟جمہوریت اور ملک سے بھاگنے کے بعد ہی کیوں یاد آتا ہے؟میرا خیال ہے کہ ''ن'' سے ''ش'' نکلنے کا عمل تیز ہو جائے گا ۔جب شہبازشریف کی بات نہیں سنی جا رہی تھی ،تب ہی انہوں نے جیل جانے کو ترجیح دی۔
سیاسی و جمہوری حلقوں میں یہ تشویش پائی جا رہی ہے کہ مسلم لیگ ن کے قائد نے ''خود کش'' حملہ کر دیا ہے ،اب ہوشمند آوازیں ہی ہونے والے نقصان کو کم کرنے کی کوشش کر سکتی ہیں۔فوج کے خلاف بیانیہ کبھی بھی عوام کو متاثر نہیں کر سکے گا۔ان سارے عوامل کا احاطہ کرتے ہوئے اگر تجزیہ کیا جائے تو گوجرانوالہ جلسے نے ابھرتی ہوئی تحریک پر منفی اثرات ڈالے ہیں۔نواز شریف نے اپنے خیالات کو ظاہر کر کے فوج کو پوری طرح عمران خان کے ساتھ کھڑا دیا ہے۔نوازشریف کی اس تقریر کا گویا حکومت اتظار کر رہی تھی،مسکراتے ہوئے نوازشریف کو باہر بھیجنے والوں کو کہا ہو گا '' ہور چوپو''۔وزیر اعظم عمران خان کی تقریر میں نظر آنے والا اعتماد بتا رہا تھا کہانہیں اب پورا اعتماد حاصل ہو گا ،ن لیگ نے اپنے قائد کی قیادت میں گرم پانیوں میں قدم رکھ دیے ہیں۔گوجرانوالہ جلسہ نے خود ہی اُبھرے ہوئے کامیابی کے تاثر کو زائل کر دیا ہے ۔
 

بشکریہ اردو کالمز