پاکستان اور GCC میں آزاد تجارتی معاہدہ 188

پاکستان اور GCC میں آزاد تجارتی معاہدہ

گزشتہ دنوں پاکستان اور خلیج تعاون کونسل (GCC) کے درمیان ایک آزاد تجارتی معاہدہ سعودی دارالحکومت ریاض میں ہوا جس پر GCC کے سیکریٹری جنرل جاسم محمد البدیو اور پاکستان کے نگراں وزیر تجارت ڈاکٹر گوہر اعجاز نے دستخط کئے۔ یہ معاہدہ GCC اور پاکستان کے مابین اقتصادی تعاون، تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ میں مدد گار ثابت ہوگا جس پر میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور وفاقی وزیر تجارت گوہر اعجاز کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔2009 کے بعد GCC ممالک کا کسی بھی ملک کے ساتھ یہ پہلا آزاد تجارتی معاہدہ ہے جس سے GCC اور پاکستان میں ڈیوٹی فری تجارت ہوسکے گی۔ 6 خلیجی ممالک ،جس میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، عمان، کویت اور بحرین شامل ہیں، کا اتحاد 25 اگست 1981 میں ریاض میں ہوا جہاں GCC کا ہیڈ کوارٹر ہے۔ خلیجی ممالک کی مجموعی آبادی 58.66 ملین ہے جس میں سعودی عرب کی 34.8 ملین (59 فیصد)، یو اے ای کی 9.8 ملین(17فیصد) ہے اور صرف دونوں ممالک کی آبادی GCC کی مجموعی آبادی کا 76 فیصد ہے جبکہ عمان کی آبادی 5.1 ملین، کویت کی 4.2 ملین، قطر کی 2.8 ملین اور بحرین کی آبادی 1.7 ملین ہے۔ آئل اور گیس سے مالا مال خلیجی ممالک کی مجموعی جی ڈی پی 1418 ارب ڈالر ہے جس میں سعودی عرب کی جی ڈی پی 700 ارب ڈالر، متحدہ عرب امارات کی 359 ارب ڈالر، قطر کی 144 ارب ڈالر، کویت کی 106 ارب ڈالر، عمان کی 74 ارب ڈالر اور بحرین کی 35 ارب ڈالر ہے ۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ صرف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جی ڈی پی 1059 ارب ڈالر (75 فیصد) سے زائد ہے جس میں سعودی عرب کی (49.4 فیصد) اور متحدہ عرب امارات (25.3 فیصد) شامل ہے ۔ GCC ممالک کی 2022 میں معاشی گروتھ 7.3 فیصد تھی جو جولائی 2023 میں کم ہوکر 2.5 فیصد پر آگئی ہے اور 2024 میں 3.2 فیصد متوقع ہے ۔

GCC ممالک سے پاکستان کے آزادانہ تجارتی معاہدہ (FTA) سے پاکستان کو جنوبی ایشیائی ممالک بالخصوص بھارت اور بنگلہ دیش سے خلیجی ممالک سے زرعی پیداوار کی ایکسپورٹ کرنے میں لیول پلینگ فیلڈ دے گا ۔ پاکستان نے GCC ممالک سے اگست 2004میں ایک فریم ورک ایگریمنٹ سائن کیا تھا لیکن اس پر پیشرفت نہیں ہوسکی۔ 2021 میں اس ایگریمنٹ پر دوبارہ مذاکرات شروع کئے گئے اور اسپیشل انویسٹمنٹ فیسی لٹیشن کونسل (SIFC) کے قیام کے بعد سول اور ملٹری قیادت نے خلیجی ممالک کو 5 شعبوں میں سرمایہ کاری کی پیشکش کی جس میں زراعت، معدنیات، آئی ٹی، آئل اینڈ گیس (ریفائنری) اور دفاعی پیداوار کے شعبے شامل ہیں۔ GCC ممالک پاکستان سے زرعی اجناس اور جانوروں کے چارے ’’الفا الفا‘‘ کی پاکستان میں کاشت اور پیداوار کی خلیجی ممالک ایکسپورٹ سے فوڈ سیکورٹی چاہتے ہیں جس کیلئے پاکستان کے پاس 9.1ملین ہیکڑ زمین کاشتکاری کیلئے دستیاب ہے جس میں سے 50فیصد زمین بلوچستان کے علاقے میں ہے ۔ خلیجی ممالک کے علاوہ چین بھی پاکستان میں جدید ٹیکنالوجی استعمال کرکے کارپوریٹ فارمنگ کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے ۔ پاکستان پہلے ہی خلیجی ممالک کو حلال گوشت، باسمتی چاول، فروٹ، ویجی ٹیبل، لائیو اسٹاک، پولٹری اور جانوروں کا چارہ ایکسپورٹ کررہا ہے ۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے زراعت کے شعبے میں 25-25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کیلئے کوشاں ہیں اور پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان حالیہ FTA معاہدہ اِسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جو پاکستان اور GCC ممالک میں تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی کے مطابق SIFC کے ماڈل کو بیرونی سرمایہ کاری کے حصول میں بہت پذیرائی ملی ہے اور اس سلسلے میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر سے جوائنٹ وینچرز کیلئے وفود جلد پاکستان آئیں گے جس میں سعودی ویژن 2030 کے تحت پاکستان اور خلیجی ریاستوں میں ریفائنری، معدنیات اور زراعت میں سرمایہ کاری کے بے حد مواقع موجود ہیں۔ یہاں میں سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات کے فروغ میں پاکستان میں تعینات میرے قریبی دوست سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی کاوشوں کا ذکر کرنا چاہوں گا جنہوں نے ہر مشکل حالات میں پاکستان کا ساتھ دیا ۔ سعودی آئل کمپنی آرامکو سے پاکستانی کمپنیوں کے ساتھ گوادر میں آئل ریفائنری کے جوائنٹ وینچر میں سعودی سفیر کا اہم کردار ہے۔ خلیجی ممالک میں فی کس آمدنی میں سب سے زیادہ قطر کی 50124ڈالر، یو اے ای کی 36284 ڈالر، کویت کی 34811 ڈالر، بحرین کی 20410ڈالر، سعودی عرب کی 20110 اور عمان کی14485 ڈالر ہے ۔ باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے علاوہ خلیجی ممالک پاکستانی ورکرز کیلئے ایک بڑی مارکیٹ ہیں جہاں 48 لاکھ سے زائد پاکستانی مقیم ہیں اور پاکستان کی 27ارب ڈالرکی ترسیلات زر میں آدھے سے زیادہ14.3ارب ڈالر خلیجی ممالک سے آتے ہیں ، جس میں سعودی عرب سے 6.5 ارب ڈالر، متحدہ عرب امارات سے 5.7ارب ڈالر، کویت سے ایک ارب ڈالر، قطر سے 483 ملین ڈالر، عمان سے 403 ملین ڈالر اور بحرین سے 305 ملین ڈالر شامل ہیں جو زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ روس یوکرین جنگ سے خلیجی ممالک کو زرعی اجناس کی سپلائی متاثر ہونے کے بعد پاکستان کیلئے یہ بہترین موقع ہے کہ خلیجی ممالک کو فوڈ سیکورٹی فراہم کرے جس میں SIFC اور پاکستان GCC آزاد تجارتی معاہدہ اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

بشکریہ ہم سب