دنیا بھر میں اک عجیب،ان دیکھا خوف ہے جو دندناتا پھر رہا ہے،کوورونا وائرس نے دنیا وی طاقتوں کو ہلا کے رکھ دیا ہے۔کورونا وائرس کی دہشت او ر وحشت ایسی بے باک اور ظالمانہ ہے کہ انسان اپنے سائے سے بھی ڈرنے لگا ہے۔جب حشر کا منظر بیان کیا جاتا ہے تو نفسا نفسی کی صورتحال بیان کی جاتی ہے،میں سوچا کرتا کہ یوم حساب کیسے نفسا نفسی کے عالم کا نظارہ کرنا ہو گا۔لیکن کوورونا وائرس نے تو یہ منظر اسی دنیا میں دکھا دیا ہے۔اس درد ناک و خوفناک صورتحال پر حکومتیں پریشان ہیں،ڈاکٹرز سائنسدان پریشان ہیں۔اس سارے پس منظر میں ڈاکٹرز،نرسیں،پیرا میڈیکل سٹاف فرنٹ لائن سولجرز کا کردار ادا کر رہے ہیں،ڈاکٹرز،طبی عملہ اور صفائی کا عملہ مناسب حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے باوجود اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں،یہی وجہ ہے کہ ان کے عزت و وقار میں اضافہ ہو رہا ہے،ان کو سلامی دی جا رہی ہے۔بلاشبہ ڈاکٹرز کو سلام تحسین پیش کیا جانا چاہئے۔اس کے ساتھ صحافی برادری بھی خراج تحسین کی مستحق ہے کہ تمام تر مشکلات کے باوجود اپنا محاذ سنبھالے ہو ئے ہیں،رپورٹرز،کیمرا مین،نیوز روم میں ڈیوٹی دینے والے تمام صحافی صاحبان خو د کو خطرے میں ڈالے قوم کی خدمت میں لگے ہیں۔
چین نے بظاہر حالات کو کنٹرول کر لیا ہے،اٹلی،برطانیہ،اسپین اور امریکہ اب پریشان ہیں اور شدید حملے کی زد میں ہیں۔قدرت نے ایک بار دنیا کو اس کی بے بسی کا احساس دلا دیا ہے۔امریکہ اور نیٹو نے مسلمان ممالک میں جتنے مظالم توڑے ہیں،دہشتگردی کا بہانہ بنا کر اپنی بے بہا طاقت کا اظہار کیا ہے،دنیا کو احساس دلایا کہ ”جس کی لاٹھی اس کی بھینس“ اور کوئی اخلاقیات نہیں کوئی اصول نہیں۔اب قدرت کا نظام متحرک ہو چکاہے کہ طاقت کے نشے میں دُھت ان بد مست ہاتھیوں کو ان کی بے بسی کا احساس دلایا جائے۔جب اپنے لوگ مرتے ہیں تو کیا بیتتی ہے؟اللہ تعالیٰ سے استغفار کا وقت ہے،اللہ سب انسانیت کو محفوظ فرمائے۔
پاکستان بھی اس طرح کی پریشان کن صورتحال سے دو چار ہے۔اس سلسلے میں وفاق اور صوبائی حکومتیں دستیاب حالات میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔سندھ حکومت بہت متحرک انداز میں انتظامات کر رہی ہے۔پنجاب حکومت بھی اپنے تئیں اپنا محاذ سنبھالے ہوئے ہے۔بلوچستان اور کے پی کے بھی دستیاب سہولیات اور حالات میں اپنی توانائیاں صرف کیے ہوئے ہیں۔اس طرح کے عالمی اور قومی حالات میں بھگدڑ اور بے یقینی کی سی صورتحال ہے،حکومتوں کے انتظامات بھی کبھی مثالی نہیں ہو سکتے۔اتنی بڑی آبادی،محدود وسائل اور تباہ حال معیشت ایسے مسائل ہیں جومصیبتوں کوزیادہ بڑا کر دیتے ہیں۔بہرحال ایک مصیبت ہے جس کا مقابلہ پوری قوم کو کرنا ہے،اس میں پیپلز پارٹی کا کردار قابل ستائش ہے۔جناب بلاول صاحب نے بہت مثبت کردارادا کر رہے ہیں۔میں سمجھتا ہوں بحیثیت ِ قوم ایک کنفیوژن کا سامنا ہے،اسی طرح کی بے یقینی حکومتوں اور انتظامیہ کو بھی لا حق ہے۔سندھ حکومت نے سخت لاک ڈاوٗن کیا اب اس میں نرمی کر رہی ہے۔اسی طرح پنجاب حکومت بھی اپنے منصوبے اور حکمت عملی تبدیل کرتی رہتی ہے،اس میں کوئی حرج نہیں۔بلکہ بدلتے حالات کے ساتھ منصوبہ بندی تبدیل ہوتی رہنی چاہئے،پاکستان ایک غریب ملک ہے۔ اس کی معیشت یہ اتنا سخت اور طویل لاک ڈاوٗن نہیں برداشت کر پائے گی۔
اس سارے پس منظر میں میڈیااور خاص طور پر چند میڈیا اینکرز اور علماء کرام بھی اُلجھن کا شکار نظر آتے ہیں،ان میڈیا اینکرز نے وزیر اعظم سے ملاقات بھی کی تھی۔ علماء کرام نے بھی صدر پاکستان عارف علوی سے ملاقات کر کے ایک معاہدہ کر لیا ہے۔میں سمجھتا ہوں اس سلسلے میں حکومت نے لچک کا مظاہرہ کیا ہے،علماء کرام نے زیادتی کی ہے۔مفتی منیب الرحمان نے ضد اور انا کو اپنے فیصلوں پر غالب کر دیا۔میری نظر میں محترم علماء کرام نے اپنی حدود کو کراس کیا ہے۔اسلام دانشمندی،حکمت اور آفاقی مذہب ہے۔ اسلام نے حالات کے مطابق اپنے احکامات میں لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔اسکی،مثالیں نبیﷺ اور خلفاء راشدین کے زمانوں سے ملتی ہیں۔ مجھے سمجھ نہیں آتی میرے محبوب مولانامفتی منیب صاحب کبھی ایسی غیر منطقی بات پر اڑ جاتے ہیں کہ گُھٹن کا احساس ہو نے لگتا ہے۔میں اپنے محترم مفتی صاحب سے پوچھنا چاہتا ہوں کیا گارنٹی ہے کہ کرونا مساجد میں آنے والے نمازیوں سے دور رہے گا؟ کیا مکہ،مدینہ کے علماء کرام اپنی حکومت سے تعاون نہیں کر رہے؟ آپ کیوں قوم کو تقسیم کرنے کا سبب بنے ہیں؟ ا سی طرح کے رویے کا مظاہرہ کروونا کے ایجنڈے پر ہونے والی ملاقات میں میڈیا پرسنز کرتے رہے۔ان میڈیا اینکرز نے خود کو ایکسپوز کردیا،ان کے پاس کوئی تجاویز نہیں تھیں؟کوئی ہوم ورک نہیں تھا کہ سوال کیا کریں؟مقصد حکومت پر تنقید کرنے کا بہانہ ڈھونڈنا تھا؟ان کے مقابلے میں وزیر اعظم زیادہ پُر اعتماد،مثبت سوچ اور واضح نظر آئے۔انہوں نے جارحانہ انداز میں ان کی نوبالز پر بھی چھکے لگائے۔ان اینکرز کا ایسا بُرا حال کیا کہ اب تک اپنی صفائیاں پیش کرتے پھر رہے ہیں۔میرے خیال میں ان حضرات نے بھی اپنی آزادی اور حد ود کو کراس کر لیا،ایسے بے تُکے سوال کیے کہ وزیر اعظم نے ان کو سنجیدہ نہیں لیا۔کئی تو باہر نکل کر حکومت کو جاتا دیکھنے لگے۔ان کی آواز گنگ ہے،ایسے خاموش کہ کوئی آواز نہیں سُن رہا کہ فوج سرحدوں پر جائے۔کیوں کروونا کے سامنے کھڑی ہو گئی ہے؟یہ بد نیت جمہوریت کے چیمپین اپنے آقاوٗں سمیت غائب ہیں،ان کے سیاسی جمہوری رہنمابھی غائب ہیں۔جب فوج اس مسئلے کو سنبھال لے گی تو یہ بے ضمیر لوگ شور مچانا شروع کر دیں گے،فوج کا کام تو سرحدوں پر ہے،حکومت چلانا تو سیاستدانوں کا کام ہے۔بھئی کہاں ہیں وہ ملک لوٹنے والے سیاستدان؟اقتدار کے مزے لوٹنے والے؟اصل میں ان اینکرز کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کو وہ اہمیت نہیں مل رہی جو سابقہ حکومتوں میں ملتی تھی۔کئی تو اس دکھ میں ہلکان ہوئے جاتے ہیں کہ ہم نے تحریک انصاف کو بہت سپورٹ کیا تھا،اب عمران خان انہیں گھاس نہیں ڈال رہا؟کئی ایسے بھی ہیں جو عمران خان کے ساتھ اپنی تصویریں شیئر کر کے اپناقد بڑھاتے رہے اب ان کی حکومت کے مثبت پہلووٗں پر بھی تنقید کرتے ہیں۔
میں سمجھتا ہوں اس وقت وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنے دستیاب وسائل اور حالات میں اپنی بہترین کاوش کر رہی ہیں۔یقینا ان کے انتظامات مثالی اور اعلیٰ ترین نہیں ہونگے،ان میں کمی،کمزوری کا پہلو لازمی ہو گا لیکن ہمارا کام ان کوتاہیوں کو دور کرنے کا ہونا چاہئے،نہ کہ ُُلڈیاں ڈالنا شروع کردیں دیکھیں جی ایسے ہو گیا؟میری درخواست ہے قوم کو خوف میں مبتلا نہ کریں،ان کو ذہنی نفسیاتی مریض نہ بنائیں۔انکو معلومات دیں،بیماری کے خلاف شعور دیں کہ اپنی غذا اور صفائی کا خیال رکھنے پرتوجہ دیں۔میڈیا کو چاہئے کہ حکومت اور قوم کا دست و بازو بنیں۔عمران خان نے درست کہا کہ اگر یورپ جیسے قانون میڈیا کے خلاف استعمال ہوں تو کئی اینکرز کی شام کو لگنے والی دکانیں بند ہو جائیں۔ اس سلسلے میں مولانا فضل الرحمان کا رویہ انتہائی مثبت اور دانشمندانہ ہے،انہوں نے قابل تقلید کردار ادا کیا میرا مشورہ ہے کہ علماء کرام اور اینکرز صاحبان بھی حکومت اور اداروں کو طاقت دیں کہ اس کروونا کے خلاف متحد ہو کر کام کر سکیں،تنقید کے لیے ساری زندگی پڑی ہے۔