عدم اعتماد اور عمران خان 455

عدم اعتماد اور عمران خان

آج 27مارچ2022ہے۔  سنا ہے کہ ایک جم غفیرعمران خان کی حمایت میںنکلنے والا ہیے  اور یہ بات  یقین سے کہی جاسکتی ہیے کہ اس مجمع میں  80% نوجوان  ہونگے  جن میں سے   70%عمران خان  کے بیانیہ (narrative) کے حامی ہونگے  جبکہ بقیہ 10%  خان صاحب کی اندھی تقلید کرنے والے ہونگے  جنکے نزدیک  نظریے اور ایک سوچ سے زیادہ  شخصیت پرستی  کی سیاست اہمیت  رکھتی ہیے جو جزباتیت  پر مبنی ایک سوچ  ہیے جسکا  پیرامیٹر خوبیوں اور خامیوں سے بالاتر ہیے اور باقی ماندہ 20%  درجہ بالا کی  دو کیٹگریز میں سے کسی ایک کیٹگری سے تعلق رکھتے ہیں۔میری نظر میں70% نوجوان اورر باقی ماندہ 20% جو ایک بیانیہ کے حامی ہیں ، زیادہ  اہمیت کے حامل ہیں جبکہ10%  جو شخصیت پرست ہیں اگرچہ پارٹی کی سیاست کا محور ہوتے ہیں لیکن مجموعی طور انکا بیانیہ عوام کی نظر میں قابل توجہ نہیں ہوتا۔
میرے کالمز میں سیاست کا کم ہی تزکرہ ہوتا ہیے اور زیادہ تر میں معاشرتی مسائل اور انکا حل میراموضوع  ہوا کرتے  ہیں ۔ یوں توموجودہ ملکی سیاست  نے کافی عرصہ سے ایک عام شہری کوآزردہ خاطر کردیا ہیے  لیکن اسکے باوجود بعض اوقات سیاست کوئی ایسی غیر معمولی کروٹ لیتی ہیے جس پر قلم اٹھانا مجبوری  بنتی ہیے حالانکہ  یہاں سیاست کے نام تو ایک  سرکس جاری ہیے جہاں ہر پرفارمر سامنے بیٹھے حاضرین کو لطف اندوز کرنے کی کوشش میں جتا ہے۔ راقم نے اپنے کالم میں نومبر 2018 میں پی ٹی آیی کی نومنتخب حکومت کی جانب سے عوام سے کیے گیے وعدوں کے تناظرمیں لکھا تھا جسمیںخود بھی بہت سی امیدیں جگائیں تھیں جو کہ وقت گزرنے کیساتھ ساتھ دم توڑتی چلی گئیں۔ وہ  وعدے ایفا نہ ہوسکے اور عوام کو مہنگایی کی عفریت نے بے حال کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر بے پناہ مسایل کا شکار ہکر دیا ۔ حکومت کی جانب سے دکھائے گئے سبز باغ خشک سالی کا شکار ہو گیے اور خان صاحب  کے بلند بانگ دعوے ہوا میں تحلیل ہوکررہ گیے ۔رہی سہی کسر پنجاب میں وسیم اکرم پلس کی صورت میں پوری ہوگیی لیکن خان صاحب ماننے کو تیار ہی کہاں تھے انہیں لگا تھا کہ مافیاز میں جکڑا یہ نظام وہ دنوں میں اکھاڑ پھینکیں گے ، بھئی جب آپکو اس سارے نظام کا نہ تو کوئی خاص علم ہے اور نہ ہی آپ وہ دائو پیچ آزمانا جانتے ہیں جو پٹواریوں کا خاصہ مانا  جاتارہا ہے ، تو کم از کم آپ یہ تو اعتراف کریں نا کہ ہاں آپ کی ٹیم نا اہل ہے کچھ بھی ڈیلیور نہ کر سکی لیکن نہیں وہی اناڑی پن۔۔۔خیر اب جب جناب کو اپنے سر پر سے  ' 'بڑوں' '  کا دست شفقت اٹھتا ہوا محسوس ہوا تو سمجھ میںآیا کہ اچھا یہ شور بے سبب نہیں تھا۔ اب تو نئی جنگ بھی لڑنا ہے، اپنی بقا کی  جنگ جو کہ لازم ہے۔ ایک طرف جانے مانے چوروں کا ٹولہ ہے جو اقتدار کی خواہش لیے کھڑا ہے بلکہ شہباز شریف صاحب تو میرے خیال میں تب سے آیئینے کے سامنے کھڑے  بطور وزیر اعظم پیش کی جانے والی اپنی پہلی تقریر رٹ رہے ہیں۔ اور دوسری طرف خان صاحب ریاست مدینہ کا خواب لیے کھڑے ہیں ۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اگر خان جیت جاتا ہے تو یقینا ایک نئی جدوجہد شروع ہو گی لیکن اگر اس کے برعکس ہوتا ہے تو بمطابق اس کے  "He has nothing to lose" اوربات بھی درست ہے اسکے پاس واقعی میں کھونے کو کچھ نہیں ہے کیونکہ لڑنا تو وہ نہیں چھوڑے گا اور اپوزیشن  میں ایک  مضبوط پوزیشن کے ساتھ موجود رہے گا۔  وہ ایک سپورٹس مین ہے ، سپورٹس مین سپرٹ رکھتا ہے ۔ ہار جیت اس کے لیے معنی نہیں رکھتی ہاں مگر ڈٹے رہنا۔۔ یہاں حیرانگی تو ان دیوانوں پہ ہے جو اپنے پورے ہوش و حواس میں ہوتے ہوئے ایک کرپٹ، چور اور دھوکے باز انسان کو اپنا ہیرو کہہ رہے ہیں۔ یعنی پسماندگی کی انتہا دیکھیے کہ ہماری ترجیحات میں ایک  کرپٹ انسان اس لیے افضل ہے کہ بقول ہمارے اگر وہ ہمارے ہی گھر سے لوٹے ہوئے مال میں  سے 90% خود کھا رہا ہے تو 10%ہمیں بھی تو دیتا ہے۔اس سوچ پہ ماتم سے سوا بنتا بھی کیا ہے؟  مطلب اخلاقی گراوٹ اپنے عروج پر ہے کہ آپ کے سامنے ایک نظریہ، ایک" Narrative"  اور ایک تصور کی کوئی اہمیت نہیں ۔ ریاست مدینہ اور امر بالمعروف جنہیں ایک مذاق لگتا ہے وہ کیا یہ نہیں جانتے کہ یہ ایک معاشرے کے مل کر کرنے کا کام ہے۔ کیا آپ نے جلایا ہے اپنے حصے کا دیا؟ نہیں۔۔
 اس کے باوجود ایک چمتکار کا خواب ۔۔ Applause! Wao .... ۔

    
 

بشکریہ اردو کالمز