ضلع ٹھٹھہ کی 82فیصد آبادی دیہات اور اٹھارہ فیصد شہروں میں آباد ہے اس ضلع کے تاریخی مقامات و نوادرات کو یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا ہے۔ ٹھٹھہ کراچی کے مشرق میں 198کلو میٹرکے فاصلے پر ہے۔ اس ضلع میں کوہستانی علاقہ بھی ہے اور دلدلی زمین بھی۔یہاں سب سے زیادہ گنا کاشت ہوتا ہے ۔
ٹھٹھہ شہر کو سومرو، سما، ارغون، ترخان اور مغلوں نے اپنا پایہ تخت بنایا۔ چودہویں صدی عیسوی میں ٹھٹھہ شہر بہت اہمیت کا حامل رہا، اس وقت یہ سندھ کا دارالحکومت تھا، اسلامی فنون کا مرکز تھا۔ پورے 95برس یونہی رہا بلکہ دہلی کے سلطان محمد تغلق کا انتقال اسی شہر میں ہوا۔ چودہویں صدی سے لیکر 1739ء تک یہاں سما، ارغون، ترخان اور مغل حکمرانوں کی حکومت رہی ۔1739ء میں کرنال کے میدان میں ایرانی بادشاہ نادر شاہ جنگ جیت کر قابض ہو گیا، اس نے تاریخی شہر ٹھٹھہ کو نظر انداز کیا۔ ٹھٹھہ شہر اسلامی فن تعمیر کے تاریخی ورثے سے مالا مال ہے۔ یہ سب سولہویں اور سترہویں صدی کا کمال ہے ۔ویسے تو ٹھٹھہ کی تاریخ دوہزار سال سے زیادہ پرانی ہے۔اس شہر کی عظمت کی علامتیں اب بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔کہا جاتا ہے کہ سکندر اعظم یہاں اپنی فوج کے ساتھ رہا ۔ ٹھٹھہ کی باقیات میں مزارات، مقبرے اور مساجد بھی ہیں۔ٹھٹھہ کی شاہجہانی مسجد بہت مشہور ہے ۔تاج محل تعمیر کروانے والے مغل بادشاہ شاہ جہاں نے یہ مسجد تعمیر کروائی، جو 1647ء سے لیکر 1649ء تک کے عرصے میں تعمیر ہوئی ۔ اس شاندار مسجد میں 93گنبد ہیں اسے اس شاندار انداز میں تعمیر کیا گیا ہے کہ امام مسجد کی آواز مواصلاتی برقی آلہ کے بغیر پوری مسجد میں گونجتی ہے۔ٹھٹھہ میں عیسیٰ خان ترخان کا مقبرہ قابل دید ہے ۔1644ء میں انتقال کرنے والے عیسیٰ خان ترخان نے یہ مقبرہ اپنی زندگی ہی میں بنوا لیا تھا ۔ مقبرہ بنتے ہی عیسیٰ خان ترخان نے مقبرہ بنانے والے ہنرمند کے ہاتھ کٹوا دیئے تھے تاکہ کوئی دوسرا بادشاہ اس طرح کا مقبرہ نہ بنوا سکے۔ عیسیٰ خان ترخان کے شاندار مقبرے کے علاوہ یہاں مرزا جانی بیگ، مرزا تغرل بیگ اور دیوان شرفا خان کے مقبرے بھی مشہور ہیں ۔
ٹھٹھہ ضلع کے سیاحتی مقامات میں شاہ جہانی مسجد،مکلی قبرستان، کینجھر جھیل، کیٹی بندر، ہالیجی جھیل اور ہڈیری جھیل شامل ہیں ۔ شاہ جہانی مسجد اور مکلی قبرستان کا تفصیلی ذکر کر چکا، اب کینجھر جھیل پر بات کرتے ہیں اسے کلری جھیل بھی کہا جاتا ہے ۔یہ کراچی سے ایک سو بائیس کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔یہ پاکستان میں میٹھے پانی کی دوسری بڑی جھیل ہے ۔یہ کراچی اور ٹھٹھہ کو فراہمی آب کا ذریعہ ہے اس جھیل پر پرندوں کے غول نظر آتے ہیں۔ یہاں بہت قدرتی وسائل ہیں کینجھر جھیل کو رامسر کنونشن کے تحت رامسر سائٹ قرار دیا گیا ہے ۔ایران کے شہر رامسر میں آب گاہوں کے تحفظ کا ایک عالمی معاہدہ ہوا تھا ۔یہ معاہدہ 1975ء میں دنیا میں نافذ ہوا جس کے تحت غلاظت، گندگی یا کوئی کیمیکل ایسی آب گاہوں میں نہیں پھینکا جا سکتا جو رامسر سائٹ ہوں، اس معاہدے کے تحت پاکستان کی 19آب گاہوں کو رامسر سائٹ کا درجہ حاصل ہے ۔ ان 19جھیلوں میں سندھ کی نو جھیلیں شامل ہیں ۔محکمہ جنگلی حیات سندھ کے مطابق کینجھر جھیل جنگلی حیات کی مکمل پناہ گاہ ہے ۔اس جھیل سے ہزاروں خاندانوں کا روزگار وابستہ ہے۔ یہاں طرح طرح کے پرندے تو ہیں ہی مگر اس جھیل سے ایک رومانوی داستان بھی جڑی ہوئی ہے۔نوری جام تماچی کی کہانی اسی جھیل سے منسوب ہے ۔سما حکومت کا بادشاہ جام تماچی کینجھر کے ماہی گیر گھرانے کی لڑکی نوری پر عاشق ہوا اور اس سے شادی کی، ان دونوں کی قبریں کینجھر جھیل کے وسط میں ہیں نوری جام تماچی کی رومانوی داستان کو عظیم سندھی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی نے اپنی شاعری کا حصہ بنایا آج بھی ہزاروں مچھیرے کینجھر جھیل سے مچھلیاں پکڑتے ہیں، یہاں ریستوران ہیں جھیل میں اگنے والے سرکنڈوں سے چٹائیاں اور جھونپڑیوں کی چھتیں بنائی جاتی ہیں۔ہالیجی جھیل کراچی سے 82کلو میٹر دور ضلع ٹھٹھہ میں ہے یہ ایشیا میں پرندوں کی سب سے بڑی اور محفوظ پناہ گاہ ہے یہاں پرندوں کی دو ڈھائی سو اقسام ہیں اس جھیل کو دوسری جنگ عظیم میں برطانوی حکام نے ذخیرہ آب کے طور پر تعمیر کیا تھا ۔یہ جھیل بائیس ہزار ایکڑ پر مشتمل ہے ہڈیری جھیل کو ہڈیرو جھیل بھی کہا جاتا ہے یہ ٹھٹھہ شہر سے چودہ کلو میٹر کے فاصلے پر ہے یہاں مہاجر پرندے سردیاں شوق سے گزارتے ہیں۔
کیٹی بندر وہ بندر گاہ ہے جسے دیبل کی باقیات بھی کہا جاسکتا ہے کیٹی بندرگاہ، گھارو سے 120کلو میٹر کے فاصلے پر ہے مسٹر ہڈسن کی سروے رپورٹ کے مطابق یہ شہر 1848ء سے تجارت کا مرکز رہا کراچی، کچھ، کاٹھیاواڑ اور گجرات تک اناج یہیں سے جاتا تھا یہ مشہور اناج منڈی تھی مگر 1948ء میں دریائی بہائو بدل گیا اور کیٹی بندر کی خوشحالی بھی ڈوب گئی۔1946ء تک یہ خشکی سے جڑا ہوا تھا مگر اب یہ جزیرے کی صورت اختیار کر چکا ہے اس کی زمین سمندر اپنے زیر اثر کرتا جا رہا ہے ۔
ٹھٹھہ کے آٹھ ریلوے اسٹیشن خاصے مشہور ہیں ان میں برائود آباد، بھولاری، جنگ شاہی، جھم پیر، رن پٹھانی، لطیف چھانگ، میٹنگ اور گھارو شامل ہیں ۔آگے چل کر بھنبھور ، جام مبارک خان اور جنگ شاہی کا تذکرہ تفصیل سے کروں گا، ابھی تو جھرک، میر پور ساکرو اور گھوڑا باری کا تذکرہ بھی باقی ہے۔ (جاری ہے)