ایران،چین تعلقات۔نئی امیدیں،نئے خدشات۔ 481

ایران،چین تعلقات۔نئی امیدیں،نئے خدشات۔

ایران اور چین کی قربتوں اور تعاون کی خبریں دنیا بھرکے ممالک اورعالمی میڈیا کی حیرانیوں کا سبب بنی ہوئی ہیں۔عام طور پر چین بہت محتاط  انداز میں بغیرکسی ٹکراوٗ کے اپنے مفادات اور معاشی استحکام کی جانب مرکوز تھا،چین براہ راست امریکہ کے ساتھ ٹکراوٗ سے گریز کرتا رہا ہے،جب امریکہ نے ایران پر پابندیاں لگائیں تو چین نے محض سفارتی انداز میں رسمی سا مذمتی بیان جاری کیا۔چین بہت ہی دانشمندانہ پالیسی پر گامزن رہا،لیکن حالیہ بھارت و چین کی لداخ لڑائی نے دنیا کو نئی صف بندیوں پر مجبور کر دیا ہے۔جب امریکہ نے اپنا وزن بھارتی پلڑے میں ڈالا تو چین نے بھی امریکی پابندیوں کی پرواہ کیے بغیر ایران سے نئے تجارتی و معاشی معاہدے کرلئے،ایران پہلے ہی امریکی پابندیوں کی وجہ سے عالمی تنہائی اور معاشی بد حالی کا شکار ہے،اس نے موقع غنیمت جانتے ہوئے چین کے ساتھ نئے تعلقات کا آغاز کر دیا۔

تہران،بیجنگ اتحاد سے خطے میں استحکام،امن اور تجارتی سرگرمیوں کی نئی راہیں کھلی ہیں،ایران کی سی پیک منصوبے میں اگر شمولیت ہوتی ہے تو سی پیک کی کامیابی کی راہ میں حائل رکاوٹیں کم ہو جائیں گی بلکہ تعاو ن میں بدل جائیں گی۔اس سے پاکستان کو مغربی سرحد پر بھارتی مداخلت کے حوالے سے شکایات بھی ختم ہو جائیں گی۔اسطرح چین،پاکستان اور ایران کو معاشی مفادات کے حصول کے لئے مشترکہ راستے پر چلنا ہو گا۔اگر ایسا ہو گیا تو اس خطے میں امن و ترقی کی نئی راہیں کھل جائیں گی۔نئی امیدیں،نئے مستقبل کی راہیں کھول دیں گی۔ 

بیجنگ،تہران تعلقات جہاں نئی اُمیدوں کا پیغام ہیں وہیں نئے خدشات بھی ان امیدوں کے ڈراوٗنے سائے بن کر خطے میں داخل ہو گئے ہیں۔کیونکہ ان تعلقات نے امریکہ اور بھارت کے خطے میں مفادات کو براہ راست چیلنج کر دیا ہے۔ایران نے بھارت کو چاہ بہار بندگاہ  اور ریلوے لائن کے منصوبے سے الگ کر دیا ہے،ایران بھارت سے امید کرتا تھا کہ وہ امریکی وعالمی پابندیوں کے باوجود ایران کے ساتھ تجارتی و معاشی تعلقات قائم رکھے گا،لیکن بھارت نے واضح انکار تو نہ کیا لیکن عملی طور پر تعلقات کو سست روی کا شکار کر دیا،جس سے ایران نے تاثر لیا کہ بھارت کو ایران میں جاری ترقیاتی معاشی منصوبوں سے زیادہ پاکستان کے اندر مداخلت اور جاسوسی میں دلچسپی ہے،اور خاموشی سے منصوبوں کی فنڈنگ روک کر امریکہ کو راضی کر رہا ہے۔اسی طرح چین نے بھی محسوس کیا کہ امریکہ لداخ تنازع میں بھارت کو چین کے خلاف استعمال کرکے بھارت میں چین کی تجارتی و معاشی سرگرمیاں محدود کر چاہتا ہے تو چین نے بھی اپنی نئی تجارتی راہیں ایران میں ڈھونڈنے کی کوشش شروع کر دی،اسطرح ایک نیا معاہدہ ایران اور چین میں طے پا گیا۔جس سے عالمی میڈیا اور امریکہ میں اضطراب کی سی کیفیت پیدا ہو گئی۔اب اگر امریکہ اور چین کے درمیان بھارت اور ایران کے حوالے سے اضطرابی کیفیت کسی مہم جوئی اور عملی محاذ آرائی کی طرف بڑھتی ہے تو پورے خطے کومشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔امریکہ اگر اس اتحاد کو ناکام یا کمزور کرنا چاہتا ہے تو اسے ایران کو اپنے قریب کرنا ہو گا،ایران کی پابندیاں ختم کرنا ہو نگی،یا پھر چین کے ساتھ مذاکرات کرنا ہو نگے جس کے امکانات کم ہیں۔جس کی وجہ سے خطے میں کشیدگی بڑھے گی اور نئے خدشات کے اژدھے منہ کھولے بربادیوں اور جنگوں کے منتظر ہو نگےاسلئے بیجنگ، تہران تعاون اور معاہدوں پر جشن منانے کی ابھی ضرورت نہیں،تیل دیکھو اور تیل کی دھار دیکھوکے مصداق انتظار کرو کہ حالات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔کیونکہ چین اور امریکہ میں سفارتی تناوٗ بڑھتا جا رہا ہے۔اس حوالے سے دیگر خدشات میں امریکہ اپنے دوست ممالک کو چین سے بائیکاٹ کرنے پر مجبور کر سکتا ہے،امریکہ سعودی عرب کو مجبور کر سکتا ہے کہ ایران اگر چین کے بلاک میں شامل ہو گیا ہے تو سعودی عرب،امریکہ کا اتحادی بنے،اسطرح چین اور امریکہ کے بڑھتے ہوئے اختلافات دنیا میں نئے بلاک اور نئے دھڑوں کی بنیاد رکھنے جا رہے ہیں۔

 ماہر مبصرین اور تجزیہ نگاروں کی نظر میں دنیا کی اس نئی گروپ بندی میں کئی ممالک امریکہ کی جارحانہ اور غیر منصفانہ پالیسیوں کی وجہ سے چین کے بلاک میں شامل ہو جائیں گے۔امریکہ نے پچھلے چند عشروں سے جارحیت،دھمکی اور خوف سے معاملات کو چلایا ہے،ٹرمپ صاحب تو کھل عام دھمکیاں دیتے ہیں۔خاص طور پر مسلمان دنیا امریکی عتاب کا شکار رہی،اعراق،شام،لیبیا اور یمن میں امریکہ ڈبل گیم کھیلتا رہا ہے،پیٹروڈالر لُوٹ کر وہاں کی معیشت برباد کر دی۔ان ممالک میں فرقہ واریت کو ہوا دی اور مسلمانوں کو ایک دوسرے سے مروا یا،خود لوٹ مار میں مصروف رہا۔فلسطین اور کشمیر مسلمانوں کی قتل گاہ بنے ہوئے ہیں۔اسرائیل اور بھارت کو تھپکی دی جا رہی ہے۔

امریکہ کے بر عکس چین کا رویہ مختلف ہے،چین دیگر ممالک کے ساتھ تجارتی و معاشی تعلقات قائم کرتا ہے،معاشی،فوجی اور تزویراتی نقطہ نظر سے دوستانہ تعلقات کو پروان چڑھاتا ہے۔اسطرح چین نے خود کو قابل اعتبار پارٹنر کی حیثیت میں ثابت کروادیا ہے۔اسطرح چین کے دیگر ممالک کے ساتھ مشترکہ مفاداتی تعلقات ہیں،جبکہ امریکہ نے دھونس،دھمکی اور لوٹ مار کے تعلق کو قائم کر رکھا ہے۔جس کا امریکہ کو آنے والے وقت میں نقصان ہو گا۔

امریکہ اگر چاہتا ہے کہ دنیا میں اسکا اثر و رسوخ قائم رہے،اسکو اپنی خارجہ پالیسی بدلنا ہو گی،مسلم دنیا کے ساتھ بدمعاشی اور لوٹ مار بند کر ہو گی،ایران سے تعلقات کو بحال کرنا پڑے گا،سعودی عرب کو احترام دینا ہو گا،ایسا نہیں کہ یمن کے ذریعے سعودی عرب پہ حملے بھی جاری رہیں اور سعودی عرب سے معاشی اہداف بھی حصول بھی جاری رہے۔پاکستان کے ساتھ باعزت تعلقات بحال کرنا ہو نگے،پاکستان اپنے دفاع کے حوالے سے امریکہ پر اعتبار نہیں کرتا،آزاد،خود مختار فیصلے کرتا ہے،معاشی حوالوں سے ابھی کچھ مجبوریاں ہیں جن کے ذریعے اسے بلیک میل کیا جا سکتا ہے۔لیکن پاکستان کے پاس بھی امریکہ کا توڑ ہوتا ہے۔

بہر حال امریکہ نے حالات کی سنگینی کو سمجھنے میں دیر کر دی ہے،ٹرمپ نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔میرا ”گمان“ ہے کہ امریکہ میں اب یہ  احساس پایا جاتا ہے کہ آئندہ انتخابات میں ٹرمپ کی کامیابی نقصان دہ ہے،اسلئے کسی معتدل قیادت کو منتخب کروایا جائے گا جو مسلمانوں کے ساتھ بھی اچھے تعلقات قائم رکھ سکے۔اگر امریکہ ایسا نہیں کرتا تو دنیا میں نئے بلاکس کی دوڑ میں امریکہ کی دھونس دھمکی کام نہیں کرسکے گی۔جنوبی ایشیا میں صرف انڈیا کی حمایت امریکہ کی رہی سہی عزت کا جنازہ بھی نکال دے گی۔چین نے اپنے پڑوس میں پاکستان،نیپال،بھوٹان،بنگلہ دیش اور اب ایران کے ساتھ بھی مضبوط معاشی چین کی خواہش ہے کہ خطے سے متنازعہ معاملات کو ختم کیا جائے،مذاکرات کئے جائیں،امن ہو تجارت ہو،اس سے خطے کے عوام خوش حال ہو نگے اور امریکہ کی مداخلت کے بہانے بھی ختم ہونگے۔لیکن امریکہ اس خطے کے متنازعہ معاملات کو حل نہیں ہونے دیتا کہ اس بہانے مداخلت کا جواز باقی رہ سکے۔

چین نے خطے میں امن کی خاطر پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان اختلاف کم کرنے کی کوشش کی ہے،جس کے نتیجے میں وزیراعظم پاکستان اور وزیر اعظم بنگلہ دیش کی ٹیلیفون پر بات بھی ہوئی،ایک دوسرے کے بارے میں اچھے اور مثبت خیالات کا اظہار کیا گیا۔اس طرح پاکستان کا امیج اپنے پڑوسی ممالک اور دنیا میں بہتر ہو رہا ہے جبکہ انڈیا تنہائی کا شکار ہو چکا ہے۔انڈیا کے شر سے بنگلہ دیش،میانمر،نیپال،سری لنکا،بھوٹان اور پاکستان بلکل محفوظ نہیں ہیں۔انڈیا کے اندرونی حالات بھی دگر گوں ہیں،اس کے ذمہ دار نریندر مودی کی انتہا پسند پالیسیاں ہیں۔ٹرمپ اور مودی گٹھ جوڑ نے دنیا کو خوف اور جبر کے تحت جینے پر مجبور کر دیا ہے۔دونوں رہنماوٗں کی انتہاپسندانہ سوچ نے انکے ممالک کو نقصان پہنچایا ہے۔

تہران،بیجنگ تعلقات نے امریکہ کے لئے ”گرتی ہوئی دیوار کو ایک دھکا اور دو“ کے مصداق اس خطے سے اسکا بوریا بستر گول کرنے کا سامان پیدا کر دیا ہے۔امریکہ نے اس خطے میں رہنا ہے تو ایران سمیت دیگر ممالک سے دوستانہ تعلقات بنانے ہیں۔دوستانہ تعلقات نہیں بنتے تو خطے میں رہنے کا دوسرا آپشن بھارت کے ساتھ ملکر چین کے ساتھ جنگ ہے،جسکے بہانے امریکہ، انڈیا میں بیٹھ جائے گا۔چین کی سرحد پر چھیڑ چھاڑ اور مداخلت کر کے چین کو جنگ یا سرد جنگ میں الجھایا جائے گا،اس کو معاشی جن بننے سے روکا جائے گا۔

اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ ایران چین تعلقات سے جہاں استحکام،خوشحالی کی امید پیدا ہوئی ہے،وہیں خدشات کی بھی لمبی فہرست بھی ہے۔

 

تعلقات قائم کر لئے ہیں۔۔

بشکریہ اردو کالمز