قاری شریف,جلال پور کی سیاست کا احوال  424

قاری شریف,جلال پور کی سیاست کا احوال 


کئ دنوں سے سوچ رہا تھا کہ پاکستانی سیاست پر کچھ لکھوں مگر دل نہیں مان رہا تھا کیوں کہ یہاں کی سیاست بہت آلودہ ہے,میدان سیاست میں شامل زیادہ تر لوگ ذات سے ذاتی مفاد تک کا جائزہ لےکر سیاست میں قدم رکھتے ہیں, لوگوں کا دل بہلانے ,سادہ مزاج لوگوں کے جزبات سے کھیلنے, ان کی مجبوریوں کا ہر طرح سے فائدہ اٹھانے,ان کے سامنے ہر طرح کا جھوٹ بولنے ,انہیں کے نام پر اور انہیں کے کام پر دولت کے انبار لگانے,مطلب پورا ہونے پر, پرسان حال تک نہیں پوچھتے, انہیں غریبوں پر انہیں کے تھانہ کچہری کے چٹی دلال جھوٹے مقدمات درج کراتے ہیں ہر طرح سے معصوم لوگوں کا خون چوستے ہیں, خیر میری مراد سب سیاستدان نہیں ,خیر میرے ہم جماعت اور بہت ہی پیارے دوست قاری محمد شریف برار ہیں,جو ملتان کے معروف ریسٹورنٹ النعمت والے جو آج کل اپنے ابائی حلقے این اے 153جہاں سے انہیں دو تین پارٹیوں کی طرف سے ٹکٹ کی پیش کش تھی وہ معذرت کرکے لیگی امیدوار رانا محمد قاسم نون کے پورے پینل کی مہم چلانے میں مصروف ہیں,قاری شریف صاحب کا نقطہ نظر یہ ہے کہ رانا محمد قاسم نون نے اس حلقے کی سیاست سے تھانہ کچہری اور چٹی دلالی کا خاتمہ کیا ہے ترقی کے کام بہت سارے کیے ہیں اور بہت سارے کاموں کا ابھی ہونا باقی ہے جبکہ حلقے کے بہت سارے لوگ اس کے برعکس بھی رائے رکھتے ہیں کہ رانا قاسم نون پرانی روایت پر چل پڑے ہیں کہ عام آدمی کی بجائے علاقے کے زمینداروں کے کام کرتے ہیں , اور انہیں کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں عام آدمی کو لفٹ تک نہیں کراتے, عام آدمی ویسے بھی پاکستانی سیاست اور سیاست دانوں سے کوئی خاطر خواہ مطمن نہیں کیوں کہ ان میں اقرباپروری, سفارش, اور دیگر معاشرتی برائیاں زدہ عام ہیں, دوست قاری محمد شریف برار کی وجہ سے مجبوراً مجھے سیاست کے ساتھ ساتھ حلقہ این اے 153,حقہ پی پی 223اور حلقہ پی پی 224میں کاموں اور کارناموں کی بنیاد پر کھوج لگانا پڑی, ویسے تو حلقہ این اے 153,ضلع ملتان کی آخری تحصیل جلال پور پیر والا پر مشتمل ہے یہ تحصیل ملتان کی پسماندہ ترین تحصیل ہے یہاں تھانہ کچہری کا کلچر عام ہے عام تصور یہ پایا جاتا ہے کہ یہاں اکثر ملازمین صرف اس وجہ تبادلہ کراکے آتے ہیں کہ یہاں من مانیاں کریں گے اور اپنے عہدہ کا غلط استعمال کریں گے, پیسہ کمائیں گے, اکثر غلط اور ناجائز کاموں میں معاون یہاں کے زمیندار اور سیاست دان ہیں, باقی رہی یہاں کی سیاسی صورت حال ,ویسے اس تحصیل پر دیوان خاندان کا سیاسی راج رہا ہے, 2002ءکے انتخابات میں ملک مشتاق احمد لانگ مرحوم نے, موجودہ لیگی امیدوار رانا محمد قاسم نون کو یہاں سے انتخاب لڑایا, قومی حلقے سے ہار گئے اور صوبائی نشست پر کامیاب قرار پائے, صوبائی وزیر زرعی مارکیٹنگ بھی رہے, قومی نشست پر دیوان خاندان کامیاب رہا, اسی طرح 2008ءکے الیکشن میں دیوان, لانگ, لنگاہ اتحاد بنا پورا پینل کامیاب قرار پایا, موجودہ لیگی امیدوار رانا محمد قاسم نون پورے پینل سمیت آزاد حیثیت سے شکست کھاگئے, اسی طرح 2013ءکا الیکشن بھی دیوان, لانگ, لنگاہ اتحاد کامیاب قرار پایا, موجودہ لیگی امیدوار رانا محمد قاسم نون  پورے پینل سمیت شکست کھاگئے, یہاں ضمنی الیکشن 2016ء میں ہوا رانا محمد قاسم نون, دیوان, لانگ, لنگاہ, نون اتحاد کے متفقہ امیدوار تھے جس کی وجہ سے رانا محمد قاسم نون یہ الیکشن بھاری مارجن سے جیت گئے, 2018ءکا الیکشن رانا محمد قاسم نون نے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر لڑا کانٹےدار مقابلے کے بعد رانا محمد قاسم نون یہ الیکشن جیت گئے, تحریک انصاف کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں رانا محمد قاسم نے پی ڈی ایم اتحاد پر مشتمل جماعتوں کا ساتھ دیا, اب موجودہ الیکشن 2024ء مسلم لیگ ن نے اپنے دیرینہ ساتھی دیوان عاشق حسین بخاری کو ٹکٹ جاری کرنے کی بجائے رانا محمد قاسم نون کو ٹکٹ جاری کیا, دیوان, لانگ اتحاد ٹوٹ گیا, اب اس حلقے میں ویسے تو کئی قومی اور صوبائی امید وار حصہ لے رہے ہیں اصل مقابلہ قومی نشست پر چار امید واروں کے درمیان ہے سابقہ صوبائی وزیر, دو بار سابقہ ایم این اے دیوان سید عاشق حسین بخاری, سابقہ صوبائی وزیر, دوبار سابقہ ایم این اے رانا محمد قاسم نون, سابقہ ایم پی اے سردار قاسم عباس خاں لنگاہ اور ڈاکٹر ریاض حسین لانگ, اس حلقے پر دھڑے کی سیاست زیادہ اثر انداز ہوتی ہے ماضی میں مقامی سیاست کا عمل دخل رہا ہے اب حالات بدل گئے ہیں لوگ مروت میں ہاں تو سب کو کہہ رہے ہیں مگر خاموش ووٹ ہار یا جیت میں اہم کردار ادا کرے گا ویسے اس حلقے سے دو بار ایم این اے منتخب ہونے والے دیوان عاشق حسین بخاری شرافت کی سیاست کے حوالے سے مشہور ہیں اس بار آزاد حیثیت سے حصہ لے رہے ہیں ان کا مقامی سیاست کا پورا گروپ ان کی مہم چلا رہا ہے ن لیگ کی مقامی تنظیم بھی دو دھڑوں میں تقسیم ہے زیادہ تر ن لیگی دھڑے دیوان عاشق حسین بخاری کی مہم چلا رہے ہیں اور دیوان عاشق حسین کو ہمدردی اور شرافت کا ووٹ بھی مل سکتا ہے مقابلے کی پوزہشن میں ہیں کیوں کہ کوئی مقامی بڑا دھڑا انہیں چھوڑ کر نہیں گیا ہاں ان کے پرانے ساتھی سردار خورشید عباس خاں لنگاہ الگ گروپ کی قیادت کر رہے ہیں, جس کی وجہ سے دیوان عاشق حسین بخاری کے لیے سیاسی مشکلات ضرور ہیں, سردار مہدی عباس خاں لنگاہ دیوان صاحب کے ساتھ ہیں , اگر ان کے پورے پینل کی بات کی جائے تو دیوان صاحب کے بڑے بیٹے حلقہ پی پی 224سے سابقہ چئیرمین ضلع کونسل ملتان دیوان محمد عباس بخاری حصہ لے رہے ہیں جو کافی مضبوط تصور کیے جارہے ہیں جبکہ حلقہ پی پی 223سے دو بار ایم پی اے منتخب سردار مہدی عباس خاں لنگاہ حصہ لے رہے ہیں, بہر حال سردار مہدی عباس خاں لنگاہ مقابلے کی پوزیشن میں ضرور ہیں اپنے بھائیوں کی سیاسی علیحدگی کی وجہ سے کافی مشکلات کا سامنا ہے -
اسی طرح رانا محمد قاسم نون پاکستان مسلم لیگ ن انتخابی نشان شیر پر الیکشن لڑ رہے ہیں اگرچہ اس بار رانا محمد قاسم کا نیا صوبائی پینل ہے مسلم لیگ ن کی وجہ قومی سیٹ پر کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے, حلقے میں رانا محمد قاسم نون کے حوالے سے کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ترقی یاتی کام کرائے ہیں, ممکن ہے ایسا ہو کہیں باقی ترقی یاتی کام پوری تحصیل میں خاطر خواہ نہیں ہوئی وہاں ہوئے ہیں جہاں مقامی زمیندار  یا چٹی دلال کسی دھڑے کا حصہ ہیں باقی عام آدمی کے ہاں نہ کام ہوئے نہ ملازمت ملی ہے ابھی تحصیل کے بیشتر علاقے ترقی سے محروم ہیں مثال موضع عنایت پور کی بستی نون سیال, بستی نون آباد وغیرہ, رانا محمد قاسم نون کے پینل میں حلقہ پی پی 223سے ,سابقہ ایم پی اے ملک مشتاق احمد لانگ مرحوم, تین بار ایم پی اے منتخب ہونے والی محترمہ نغمہ مشتاق کے بیٹے ملک نازک کریم لانگ حصہ لے رہے ہیں اس حلقے میں لانگ برادری کا خاصا ووٹ بنک ہے دوسرا ن لیگ کے ٹکٹ کی وجہ سے مضبوط امید وار تصور کیے جارہے ہیں حالانکہ ملک مشتاق احمد لانگ مرحوم کے پرانے دوست ساتھی حاجی ملک اکرم کنیرا سیاسی طور کسی اور امیدوار کو سپورٹ کر رہے ہیں -
جبکہ حلقہ پی پی 224سے ملک لعل محمد جوئیہ حصہ لے رہے ہیں,ملک لعل محمد جوئیہ پہلی بار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں مقامی سیاست میں بڑا اچھا اثر رسوخ رکھتے ہیں شیر کے انتخابی نشان اور پینل کی وجہ سے مقابلے کی صورت میں ہیں -
 اسی طرح آزاد امید وارسابقہ ایم پی اے سردار قاسم عباس خاں لنگاہ کا بھی یہ ذکر عام ہے کہ انہوں نے بھی ترقی یاتی کام کرائے, حلقہ 153میں لنگاہ برادری کا بھی اچھا خاصا ووٹ بنک موجود ہےسردار قاسم عباس خاں لنگاہ رانا قاسم کے پرانے پینل کے اوپر قومی نشست حصہ لے رہے ہیں بڑی پر جوش طریقے سے اپنی مہم چلا رہے ہیں کوئی بڑا سرپرائز دے سکتے ہیں-
ان کے پینل میں حلقہ پی پی 223سے سابقہ ایم پی اے ملک عباس کھاکھی مرحوم کی اہلیہ محترمہ شازیہ عباس کھاکھی حصہ لے رہی ہیں,ملک غلام عباس کھاکھی مرحوم بڑے وضع دار انسان تھے قومی اور صوبائی سیاست میں حصہ لیتے رہے ہیں کھاکھی برادری کا اچھا خاصا ووٹ بنک موجود ہے کھاکھی لنگاہ اتحاد کی صورت میں کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے -
 جبکہ حلقہ پی پی 224سے ملک محمد اکرم کنہوں حصہ لے رہے ہیں, ملک اکرم کنہوں عوامی سطح پر بہت مقبول ہیں چاروں انتخابات میں کم ووٹوں کے فرق سے ہارتے رہے ہیں ویسے
اس بار بھی ماضی طرح مقابلے کی صورت میں ہیں -
اسی طرح  پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ڈاکٹر ریاض حسین  لانگ قومی اسمبلی کی نشست پہلی بار حصہ لے رہے ہیں اس حلقے میں لانگ برادری کا ووٹ بنک خاصہ ہے اور دوسرا پی ٹی آئی کا بھی بنک ووٹ ہر حلقے میں ہے ڈاکٹر ریاض حسین لانگ آس کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں, ڈاکٹر ریاض حسین لانگ ووٹ لیں گے اس کا نقصان رانا قاسم نون کو ہوگا سیاسی طور پر اگر ان کے پینل کی بات کی جائے  حلقہ پی پی 223سے رانا طفیل احمد نون حصہ لے رہے ہیں یہ پی ٹی آئی کے ووٹ کے علاوہ آزاد امیدواران کو سیاسی طور پر نقصان پہنچا سکتے ہیں -
 جبکہ حلقہ پی پی 224سے میاں ارشد وقاص چھجڑا حصہ لے رہے ہیں ,یہ صوبائی حلقہ شہری آبادی پر مشتمل ہے یہاں لیگی امیدوار کو سیاسی طور پر نقصان پہنچا سکتے ہیں -

بشکریہ اردو کالمز