دہلی ‘مسلمانوں کی حالت زار؟ 311

دہلی ‘مسلمانوں کی حالت زار؟

بھارت مےں نفرت کی کوکھ سے جنم لےنے والے تقسےم کے نظرےے نے مودی سرکار کی سےاست کی سےاسی بساط کو لپےٹ کر رکھ دےا ہے پنجاب‘چھتےس گڑھ‘راجھستان‘مدہےہ پردےش‘جھاڑ کھنڈ کے بعد صرف چودہ ماہ مےں بی جے پی حکومت کے ہاتھ سے دہلی کی حکمرانی بھی سرک گئی۔مودی نے شہرےت ترمےمی قانون‘شاہےن باغ‘مقبوضہ کشمےر سے آئےن ہند کی شق 370 کی برخواستگی‘رام مندر اور طلاق ثلاثہ جےسے حساس اور متنازع مسائل کی بنےاد پر الےکشن مےں حصہ لےا تھا لےکن بھارت کی عوام نے مودی کے متعصب اور انتہا پسند نظرےے کو اس دوام سے چاروں شانے چت کےا کہ اروند کجرےوال کی شاندار واپسی اور گجرات کی جوڑی مودی اور امےت شاہ کی عبرتناک شکست کو پوری دنےا نے دےکھا۔مودی حکومت کی بے حسی ‘ظلم و بربرےت اور اشتعال انگےز سےاست نے بھارت کو تقسےم کے دوراہے پر لا کھڑا کےا ہے حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہےں کہ بھارت مےں متنازع شہرےت قانون کےخلاف شروع ہونےوالے احتجاج کے دران فسادات مےں مزےد چودہ افراد جاں بحق ہوگئے اور اب جاں بحق ہونےوالوں کی تعداد ستائےس ہو چکی ہے شاہےن باغ مودی کے سےاہ قوانےن کےخلاف احتجاج کی علامت بن چکا ہے۔رےاست کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ ملک مےں بسنے والی اقلےتوں کے حقوق کی ضامن بن کر امن و امان کو ےقےنی بنائے لےکن بھارت مےں جب سے مودی کی دوسری مرتبہ حکومت بنی ہے اےسا محسوس ہو رہا ہے کہ پورے بھارت کا نظم و نسق تہہ و بالا ہو کر رہ گےا ہے اقلےتوں کے حقوق سلب کر لئے گئے ہےں اور ہندو توا کی تروےج کے لئے نفرت و اشتعال انگےزی کے ذرےعے دہلی کی گنگا جمنی تہذےب کو بھی پارہ پارہ کر دےا گےا۔دہلی مےں جو فسادات پھوٹ پڑے ہےں ان فسادات کی دل دہلا دےنے والی خبرےں اور وےڈےوز وائرل ہو رہی ہےں جو اس بات کی شاہد ہےں کہ مودی دہلی کو گجرات بنانے پر تلے ہےں۔دہلی نے مودی کو شکست سے دوچار کر کے شہرےت ترمےمی قانون کو مسترد کر دےا امرےکی صدر جب بھارت آئے تو احمد آباد کے موتےرا اسٹےڈےم مےں جب ٹرمپ اور مودی سوا لاکھ کے مجمع کے سامنے بھارت مےں مذہبی آزادی اور کثرت مےں وحدت جےسی باتےں کر رہے تھے تو دہلی فسادات کی آگ مےں جل رہا تھا مسلمانوں پر مسلح غنڈے حملہ آور تھے دوکانوں‘مارکےٹوں اور مساجد کو جلاےا جا رہا تھا باقاعدہ منصبوبہ سازی کے ذرےعے اقلےتوں کو دےوار کے ساتھ لگانے کی عملی کوشش کی جا رہی ہے ۔جواہر لال ےونےورسٹی کا معاملہ‘جامعہ ملےہ اسلامےہ کا سانحہ‘شاہےن باغ کے قرےب کا معاملہ دےکھ لےں کہےں بھارتی رےاست کی غےر جانبدار نظر نہےں آئے گی بلکہ ہر جگہ پولےس کی کارروائےاں ےک طرفہ ہےں پولےس جس کو رےاست کے بڑے انتظامی ستون کا درجہ حاصل ہے جس کا کام ملک مےں امن و امان کو ےقےنی بنانا ہوتا ہے اگر امن و امان قائم رکھنے والا پولےس کا ادارہ بھی خاموش تماشائی بن کر فسادات کو ہوا دےنے والوں کا ہمنوا بن جائے تو پھر محرکات بڑے واضح ہو جاتے ہےں کہ دہلی کےوں جل رہا ہے۔گذشتہ دنوں جعفر آباد مےٹرو اسٹےشن کے باہر سی اے اے اور اےن آر سی کےخلاف خواتےن دھرنا دئےے بےٹھی تھی ان کو اٹھانے کے لئے جو کپل مشرا نے جو پولےس کی موجودگی مےں اشتعال انگےزی کی اس کےخلاف اب تک کوئی کارروائی نہےں ہوئی اس سے اخذ کرنا مشکل نہےں کہ بی جے پی دہلی کو اپنے مذموم اےجنڈا کی بھےنٹ چڑھا کر وہاں کی عوام اور اقلےتوں سے اپنی شکست کا خونی بدلہ لےنا چاہتی ہے۔مودی کی گمراہ کن سےاست کے راز اب بھارت کی عوام پر آشکار ہونا شروع ہو چکے ہےں جس کے باعث مودی سرکار کو ہونےوالے انتخابات مےں شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے مودی کی انتہا پسند نظرےے کی سےاست نے بھارت کی عوام اور اقلےتوں کو اضطرابی کےفےت مےں مبتلا کر دےا ہے۔مودی کی سےاست کا ماضی مسلمان دشمنی کے سےاہ باب سے جڑا ہوا ہے بی جے پی وہ جماعت ہے جس نے اسے اعتدال پسند جماعت منوانے کے لئے اےک طرف آر اےس اےس کی نظرےاتی اساس کو استعمال کےا دوسری جانب واجپائی اور اےڈوانی جےسے چہرے متعارف کروائے تاکہ اس جماعت کے پس پردہ اس ملک کو ہندو راشٹر بنانے کے مذموم اےجنڈا کے راز سے پردہ نہ اٹھ جائے۔2014ءمےں الےکشن کے بعد آر اےس اےس نے کھل کر اپنے سےاسی تشخص کا اظہار کرنے کے لئے واجپائی اور اےڈوانی جےسی شخصےات کو پس پشت ڈال کر انتہا پسند نرےندرا مودی کو پارٹی قےادت سونپ دی اور پھر مودی نے آر اےس اےس کے بلوائی غنڈوں کے ذرےعے مسلمانوں پر کئے جانےوالے ظلم و بربرےت کی اےک خونی تارےخ رقم کرنا شروع کی جس کا تسلسل آج بھی پورے بھارت مےں جاری ہے۔دہلی مےں مسلمانوں کےخلاف جو مودی ہٹلر اپنی سفاکےت کی تارےخ رقم کر رہاہے ےہ بھارتی مسلمانوں کے لئے بڑا واضح پےغام ہے کہ ان ہونےوالے واقعات کو حکومتی سر پر ستی حاصل ہے بھارت مےں بسنے والے اٹھارہ کروڑ مسلمان جو کہ اےک بڑی اقلےت ہےں اتنی بڑی تعداد مےں مسلمانوں کے در و دےوار اگر خوف سے لرز رہے ہوں تو ےہ صورتحال مسلم امہ سمےت امن کی علمبردار قوتوں اور تنظےموں کے لئے باعث تشوےش ہونی چاہےے ۔پورا بھارت مودی سرکار کی سرپرستی مےں مسلمانوں کے لئے اےک قتل گاہ بنا دےا گےا ہے ےہ بات بڑی پرےشان کن ہے کہ جہاں مسلم اقلےت کے ساتھ دن دےہاڑے قتل و غارت گری کا کھےل رچا کر ہندو توا کو تقوےت دےنے کی ناپاک سوچ پروان چڑھ رہی ہے وہےں انسانی حقوق کی عالمی تنظےموں اور عالمی قوتوں کے در پر ےہ سوال بڑی شدت کے ساتھ دستک دے رہاہے کہ ان حالات مےں اےسا کون سا قانون ہے جو اےک بڑی مسلم اقلےت کو مودی کے عتاب سے بچا تے ہوئے ان کے جان و مال کے تحفظ کو ےقےنی بنائے عالمی اداروں ‘تنظےموں اور قوتوں کو اس صورتحال مےں اپنے کردار کے تعےن کی ذمہ داری ضرور پوری کرنی چاہےے۔کےاامرےکی صدر کو چاہےے تھا کہ جہاں مودی بھارت مےں حقوق اور مذہبی آزادی کا پرچار اپنے خطاب مےں کر رہے تھے تو انہےں اس بات کا اداراک کرواےا جاتا کہ جہاں بھارت ہندو‘سکھ‘عےسائی‘بدھ اور جےنوں کے حقوق کا ضامن ہے وہاں مسلم اقلےت کی حالت زار کو بھی بہتر بناتے ہوئے ان کے حقوق کا تحفظ کرے لےکن امرےکہ کی دوہری پالےسی اس کے اےجنڈا کا حصہ ہے اور مغرب کا مسلمانوں کے لئے ےہ دو رنگی روےہ تشوےش کا باعث ہے۔ مودی کا سفاک اےجنڈا ہی اس کی سےاست سے واپسی کی راہ ہموار کر رہا ہے وقت کی دستک بتا رہی ہے کہ مودی کے تقسےم پر مبنی نظرےات کے حامل سےاہ قوانےن ہی بھارت کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے لئے کافی ہےں بھارت مےں تحرےک کی صورت جنم لےنے والا احتجاج مودی سرکار کے خاتمے کی علامت بنتا جا رہا ہے۔مودی نے دو متنازع قوانےن کو منظور کر کے اقلےتوں کو بے گھر کرنے کی بنےاد رکھ دی ہے ان اقلےتوں کو بے گھر کر کے ان کا قتل عام کےا جائےگا ےا پھر ہندوستان چھوڑنے پر ےہ اقلےتےںمجبور ہو جائےنگی المےہ ہے کہ دنےا اقلےتوں کےخلاف بھارت کے رےاستی جبر پر خاموش ہے جو کہ مودی کی انتہا پسندی کی کھلی معاونت کے مترادف ہے بھارت کی ہٹ دھرمی اقوام متحدہ اور عالمی قوتوں کے لئے چےلنج بن چکی ہے اگر امرےکہ چاہتا ہے کہ خطے کا امن برقرار رہے تو اسے سنجےدگی کےساتھ کردار ادا کرتے ہوئے بھارت مےں مسلمانوں کے جان و مال کے تحفظ کو ےقےنی بنانا چاہےے۔
رابطہ نمبر:03066470055
 

بشکریہ اردو کالمز