میری دیرینہ خواہش ہوتی ہے کہ میں آپ سے کچھ سیکھوں، پوچھوں، سمجھنے کی کوشش کروں۔ الجھے ہوئے معاملوں کو آپ کی مدد سے سلجھانے کی کوشش کروں۔ بھٹک جائوں تو راہ راست پر آنے کے لیے آپ سے مد دمانگوں۔ایک سرائیکی کہاوت ہے، پچھنا، نہ منجھنا۔پچھنا کا مطلب ہے پوچھنا۔منجھنا کے معنی ہیں، حیران پریشان ہونا، زچ ہونا۔کہاوت کا مطلب ہے کہ جو لوگ پوچھتے ہیں، معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ دقیق حالات میں پریشان اور حواس باختہ نہیں ہوتے۔ وہ الجھنوں کو سلجھا سکتے ہیں۔ یہ حکمیانہ ہدایتیں میری اپنی بنائی ہوئی نہیں ہیں۔ حکیمانہ ہدایتیں میرے والدین اور اساتذہ کی طرف سے مجھے ملی ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اس نوعیت کی حکیمانہ ہدایتیں آپ کو بھی اپنے والدین اور اساتذہ کی طرف سے ملی ہوںگی۔ مگر سب لوگ اس حقیقت کا اعتراف نہیں کرتے۔ ایسے لوگوں کی دنیا میں کمی نہیں ہے جو ڈھٹائی سے کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے والدین تو ان پڑھ کسان تھے۔ وہ ہمیں حکیمانہ باتیں کیا بتاتے! یہ ہماری اعلیٰ تعلیم اور اداروں سے ملنے والی اعلیٰ تربیت کا نتیجہ ہے۔ ایسے گھمنڈیوں سے ہمارا کسی قسم کا لین دین نہیں ہے۔ ان سے ہماری نہیں بنتی۔ان کی ہم سے نہیں بنتی۔بیج بونے سے لیکر فصل کاٹنے تک کے مراحل کسان کو کوئی ایگری کلچرل یونیورسٹی نہیں سکھاتی۔ وہ اپنے مشاہدے اور تجربوں سے سبق حاصل کرتے ہیں، ہر ہنر سیکھ لیتے ہیں۔
دنیا میں بہت کم لوگ ہیں جواپنی سوچ، اپنے خیالات اپنے خوف کسی سے شیئر کرتے ہیں۔ اس طرح کے لوگوں کو دوحصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ایک حصے میں وہ لوگ آتے ہیں جو اپنی سوچ کو غیر معمولی، اعلیٰ اور آفاقی سمجھتے ہوئے کسی سے بانٹتے نہیں، یعنی شیئر نہیں کرتے۔ دوسرے حصے میں ان لوگوں کا شمار ہوتا ہے جو اپنے گرد حصار کھڑا کردیتے ہیں۔ دنیا پر اپنے علم اور تربیت کی دھاک بٹھا دیتے ہیں۔ کسی موضوع، کسی مسئلہ، کسی الجھن کے بارے میں اپنے خیالات اور سوچ کو یہ سمجھتے ہوئے کسی کے سامنے اظہار نہیں کرتے کہ کہیں لوگ ہماری بات سن کرہم پر ہنسیں گے تو نہیں؟ ہمارا مذاق تو نہیں اڑائیں گے؟ احمقانہ بات کرنے کے بعد ہم نے اپنے گرد جو حصار بنایا ہے، اس میں دراڑ تو نہیں ڈال دیں گے؟ وہ اپنے آپ پر قدغن لگا دیتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنے گرد مصنوعی ماحول بناکر اس میں جیتے ہیں اور اسی ماحول میں مرجاتے ہیں۔
مگر آپ کی دنیا میں ہم جیسے بائولے بھی رہتے ہیں جواس بات سے قطع نظر کہ ہماری اختراع سن کر لوگ ہم پر ہنسیں گے تو نہیں؟ ہمارا مذاق تو نہیں اڑائیں گے؟ اپنےبائولے خیالات سوچ اور آرا دنیا بھر سے شیئر کرنے کو تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔ وہ کسی انومان اور اندیشے کو، اپنے خیالات اور اپنی سوچ کوبغیر جھجک کے دنیا پر عیاں کردیتے ہیں۔ تضحیک کا سبب بنتے ہیں۔ مگر اس بات سے بے پروا کہ لوگ ہم پر ہنسیں گے۔احمق سمجھ کرہمارا مذاق اڑائیں گے۔ وہ اپنی سوچ اور خیالات کسی سے نہیں چھپاتے۔مگر میں، چونکہ خود نئی سوچ، یا پرانی سوچ کو نئے زاویےپر پرکھنے سے منحرف ماحول میںپل کر بڑا ہوا ہوں، اور بڑا ہونے کے بعد بوڑھا ہوگیا ہوں ، میں آپ کو خبردار کرنا چاہتا ہوں۔
تحمل، رواداری، برداشت، اور ایک دوسرے کے خیالات سننے اور سمجھنے کا دور کب کا گزر چکا ہے۔ ایسا دور میں نے پاکستان میں دیکھا تھا۔ ایسے عالیشان دور میں، میں رہ چکا ہوں۔ ایسے ماحول میں بغیر کسی خوف وخطرکے میں نے دس برس سانس لیا تھا۔مگر اب ایسا نہیں ہوتا۔ سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔ گھٹن محسوس ہوتی ہے۔ مگر اگلے وقتوں میں ایسا نہیں ہوتا تھا۔ میں انیس سوپچاس کے آخری پانچ چھ برسوں اور انیس ساٹھ کے ابتدائی پانچ چھ برسوں کی بات کررہا ہوں۔ دقیق سے دقیق مسائل پر سنجیدگی سے بات چیت ہوتی تھی۔ موضوع کتنا ہی پیچیدہ کیوں نہ ہو، اس پر علمی بحث مباحثے ہوتے تھے۔ کو ن دین دار ہے، کون دین دار نہیں ہے، اس کا فیصلہ عدالتیں کرتی تھیں۔ اب عدالتوں کی بجائے جنونی جتھے کسی بھی شخص پر بے دین ہونے کا الزام لگاتے ہیں، اسے پکڑتے ہیں اور گلی کوچوں میں اسے سزائے موت دیتے ہیں جس میں بے شمار تماشبین بڑھ چڑھ کرحصہ لیتے ہیں۔ میرا مشورہ ہے کہ کچھ پوچھنے سے پہلے، سومرتبہ سوچا کریں، ورنہ مفت میں مارے جائیں گے۔ ہندوستان کے بٹوارے، پاکستان کے بننے اور مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے کے بارے میں آپ دھڑلے سے سوال نہیں پوچھ سکتے۔ غداری ، ملک دشمنی ، اور دیرینا دشمن کاایجنٹ ہونے کی تہمت میں ایسے دھرلیے جائیں گے کہ آ پ کے لیے سورج طلوع ہونا اور غروب ہونا چھوڑ دےگا۔ آپ بھول جاتے ہیں کہ آپ کے والدین اور آپ کے اساتذہ نے آپ سے کہا تھا کہ بیٹا کچھ کہنے سے پہلے، اپنی بات تول لیا کریں۔ یعنی پہلے تولیں اور پھر بولیں۔میں آپ سے پوچھا چاہتا تھا۔ آپ سے سیکھنا چاہتا تھا، مگر پوچھنے سے پہلے بات تولتے تولتے بولنے کی گنجائش کم پڑ گئی ہے۔ میں جاننا چاہتا تھا کہ زمان ماضی اور زمان مستقبل کی طرح زمان حال بھی ہوتا ہے؟ یا پھر زمان حال ماضی اور مستقبل کے درمیان محض ناتا ہے، سمبندھ ہے، یا بند ہے۔ آنے والے منگل کے روزہم زمان حال کے بارے میں بات کریں گے۔ میں اپنے تحفظات آپ کے سامنے رکھوں گا۔