توشہ خانہ اسکینڈل  505

توشہ خانہ اسکینڈل 

آج سے کچھ روز پہلے جب عمران خان عدم اعتماد کی وجہ سے وزیراعظم کے عہدے سے ہٹائے گئے تو پی ٹی آئی کی جانب سے امپورٹر حکومت نامنظور کی ایک مہم چلائی گئی جس کی زیر نگرانی کئی احتجاج اور جلسے بھی ہوئے ہیں۔ وہیں دوسری جانب عمران خان کے خلاف کچھ کیس بھی سامنے آنا شروع ہوگئے۔

سب سے پہلے فرخ کا کیس اور پھر توشہ خانہ اسکینڈل آیا۔آخر یہ توشہ خانہ سکینڈل کیا ہے؟اس خوالے سے بھی بتا دوں کہ جب بھی کوئی دوسرا ملک ہمارے وزیراعظم یاں ملک کو کوئی تحفہ پیش کرتا ہے تو قانونی اور آئینی لحاظ سے حکمران اس کو اپنے پاس نہیں رکھ سکتا کیونکہ وہ تحفہ ملک و قوم کی امانت ہوتا ہے ۔اس کو توشہ خانہ میں جمع کروایا جاتا ہے اگر تو حکمران وہ تحفہ اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے تو اس کے لئے بھی قانون واضح ہے کہ 30000 کی مالیت کا تحفہ بغیر کوئی رقم دیے رکھا جا سکتا ہے اور اگر اس کی مالیت تیس ہزار سے زیادہ ہے تو پہلے FBR  اور پھر پرائیویٹ مارکیٹ سے اس کی قیمت لگوائی جائے گی اور 50 فیصد قیمت توشہ خانہ کو ادا کرنے کے بعد تحفہ خرید لیا جاسکتا ہے۔

عمران خان صاحب نے اپنے دور حکومت میں کئی ممالک کے دورے کئے ہیں اور ان کو کچھ تحائف بھی ملے ۔تقریبا سات ماہ پہلے بھی توشہ خانہ کا ایک کیس عدالت میں گیا جس کا موضوع تھا کہ عمران خان صاحب کو جوتحائف ملے ان کی لسٹ کو خفیہ کیوں رکھا جا رہا ہے وہ ان کو خفیہ طور پر بیچا بھی نہیں جا سکتا ۔جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اس موقع پر بھی حکم جاری کیا تھا کہ اگر ان تحائف میں ایسی کوئی چیز شامل نہیں جس کا تعلق نیشنل سکیورٹی سے ہو تو پھر تمام اشیاء ٹرانسپیرنٹ ہونی چاہیے۔اس وقت کوئی واضح رپورٹ تو سامنے  نہ آئی لیکن چند چیزوں کے بارے میں معلوم ہوا جیسے کہ گھڑی اور نیکلس ۔اب دوبارہ سے توشہ خانہ کیس پر بات چیت ہورہی ہے ۔ن لیگ خاص طور پر اس حوالے سے سرگرم ہیں ان کا کہنا ہے کہ عمران خان نے 14 کروڑ مالیت کا سامان لے کر اٹھارہ کروڑ میں بیچا  ہے اور یہ رقم اپنی جیب میں ڈالی ہے۔کچھ ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عمران خان نے 2 کروڑ توشہ خانہ  میں دے کر یہ سامان خریدا اور پھر بیچا لیکن اس پر سوال یہ بنتا ہے کہ اگر چودہ کروڑ کا سامان تھا تو قانون کے مطابق آدھی رقم یعنی 7 کروڑ میں خریداجا سکتا تھا۔ اور اگر  انہوں نے سات کروڑ میں حریدا تو اس کو خریدنے کے لیے 7 کڑوڑ کی وسیع رقم کہاں سے آئی۔اس  حوالے سے عمران خان کو جواب

دینا ہوگا ۔دوسرا معاملہ یہ ہے کہ بیچنے کے بعد جو رقم ملی خود عمران خان صاحب نے ایک نجی ٹی وی چینل پر انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ بنی گالہ کی ایک سڑک خراب تھی ،ان تحائف کو بیچ کراس  رقم سے وہ سڑک بنوائی گئی،ذاتی مفاد کے لیے استعمال نہیں کی گئ۔ اس کیس کے حوالے سے کچھ تجزیہ کار کا یہ بھی کہنا ہے کہ شہباز شریف صاحب اس کی حقیقت کو جانتے ہیں اس لئے انہوں نے ابھی تک اس کیس کو  نیب میں پیش نہیں کیا۔ صرف ایک سکینڈل کے تحت صحافیوں کے سامنے  اس خوالے سے بات کی گئی ہے۔

بشکریہ اردو کالمز