اب جبکہ نیتن یاہو کا عہد اپنے منطقی انجام کو پہنچ چکا ہے، مشرق وسطیٰ کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا ایران اس نئی صورتِ حال میں خطے کی بہتری کیلئے اپنا مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے؟ بہت سے لوگ نیتن یاہو کے اقتدار کے اختتام کا سہرا اپنے سر لینے کی کوشش کریں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ نیتن یاہو خود تباہی و بربادی کی راہ پر گامزن تھا۔ نہ بین الاقوامی فوجداری عدالت اور نہ زہران ممدانی اسے انصاف کے کٹہرے میں لا سکیں گے۔ صرف تاریخ ہی اسے کٹہرے میں لائے گی۔اگر ایران واقعی مشرق وسطیٰ میں میز پر بیٹھنے کا خواہاں ہے تو اسے کچھ آداب سیکھنے ہوں گے۔ اسی طرح، اگر ایران میز پر موجود ہو تو خلیجی بادشاہوں کو بھی اپنے طور طریقے بدلنے ہوں گے۔ان دونوں اہم نکات پر گفتگو سے پہلے ہمیں جوہری ہتھیاروں کے مسئلے کو دیکھنا ہوگا اور سمجھنا ہوگا کہ جب تک ہم نظریہ بازداریت (Deterrence) کو درست مانتے رہیں گے، جوہری ہتھیاروں کی بات بے معنی ہے۔ ہمیں یا تو یہ نظریہ ترک کرنا ہوگا یا ان ہتھیاروں سے نجات حاصل کرنی ہوگی۔ جرمنی، جاپان، جنوبی کوریا وغیرہ سب جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے خواہاں ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ہتھیار ان کے جوہری ہتھیاروں سے لیس حریفوں کو حملہ کرنے سے باز رکھیں گے۔ ایران نے بارہا سرکاری طور پر کہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا، لیکن پھر وہ اسرائیل کے خفیہ جوہری ہتھیاروں کا حوالہ دے کر اپنے ہتھیاروں کے جواز کے لیے نظریہ بازداریت کو بنیاد بنا سکتا ہے۔ اس کے عرب ہمسائے کئی بار عالمی طاقتوں کو آگاہ کر چکے ہیں کہ اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کرتا ہے تو وہ بھی ایسا ہی کریں گے تاکہ ممکنہ ایرانی جارحیت کو روکا جا سکے۔ یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ جوہری ہتھیار بنانے میں استعمال ہونے والے آلات اور مواد بین الاقوامی منڈی میں دستیاب ہوتے ہیں، اور مختلف کمپنیاں، چاہے جعلی ہوں یا اصلی، اپنے کلائنٹس کے لیے یہ اشیاء خرید لیتی ہیں۔یہ دنیا کے رہنماؤں پر ہے کہ وہ زندگی چنتے ہیں یا موت۔ ہم سب یا تو اکٹھے زندہ رہیں گے یا اکٹھے مر جائیں گے۔ بازداریت ہمیں اجتماعی ہلاکت کی طرف لے جائے گی، جبکہ اس سے نجات ہمیں ایک ایسا جہاں دے گی جو جوہری ہتھیاروں سے پاک ہوگا۔ یہ فیصلہ واشنگٹن، ماسکو اور بیجنگ کے رہنماؤں کو کرنا ہے۔ جو رہنما ریاض، دوحہ اور تہران میں بیٹھے ہیں، انہیں یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ خلیج کا حصہ ہیں اور خلیج ان کی ہے۔ یہ حوصلہ افزا بات ہے کہ ان ممالک کے سفارت کاروں اور حکومتی نمائندوں کی ملاقاتوں میں تیزی آئی ہے۔ خطے کی کلیدی طاقت ، سعودی عرب نے ایران میں حکومت کی تبدیلی کے امریکی منصوبے کی حمایت نہیں کی تھی۔ اب ایران کی باری ہے کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرے۔ ایران کی پراکسیز کو پالنے اور ان پر انحصار کی جنونیت نے خطے میں عدم استحکام پیدا کیا ہے۔ کئی دہائیوں تک اس نے شام میں بشار الاسد کی حمایت کی۔ ایران کے تیل سے بھرے ٹینکر شامی بندرگاہوں پر لنگر انداز ہوتے اور وہاں سے یہ تیل یورپ سمگل کیا جاتا رہا۔ لیکن قطر کو اجازت نہ دی گئی کہ وہ شام کے راستے ترکی تک گیس پائپ لائن بچھا سکے کیونکہ روس نے اس کا راستہ روکا ہوا تھا۔ اگر قطری پائپ لائن بچھا دی جاتی تو یورپ کا روسی گیس پر انحصار کم ہو جاتا۔ بشار الاسد کی برطرفی کے چند ہی دن بعد ترک وزیر توانائی الپ ارسلان بائراکتار نے بیان دیا کہ قطر اور ترکی کے درمیان گیس پائپ لائن منصوبہ دوبارہ بحال ہو سکتا ہے، اور یہ پائپ لائن سعودی عرب، اردن اور شام کے ذریعے یورپ کو جوڑ سکتی ہے۔ آیت اللہ حضرات نے شاہ ایران کی اس پالیسی کو کبھی ترک نہ کیا جس میں غیر عرب اور بعض صورتوں میں عرب مخالف قوتوں پر انحصار کیا گیا۔ ایران وہ پہلا ملک تھا جس نے اقوام متحدہ میں پاکستان کو تسلیم کیا کیونکہ شاہ ایران بلوچستان کو ایران اور سوویت یونین کے درمیان ایک بفر زون کے طور پر دیکھتے تھے۔ اس وقت عرب ریاستیں باقاعدہ طور پر قائم نہ ہوئی تھیں۔ چنانچہ پاکستان اور ایران نے امریکی اثر کے تحت عرب مخالف سوچ کو اپنایا۔بعد میں پاکستان نے اپنی ثقافت اور ادب میں پنپتی عرب مخالفت کو کافی حد تک ختم کیا، لیکن ایران یہ بوجھ نہ اتار سکا۔ امریکہ سے نفرت میں وہ یہ بھول چکا ہے کہ وہ خلیج کا ایک ملک ہے۔ شام میں حکومت کی تبدیلی کے بعد اس کے غیر عرب اتحادیوں نے اپنی بندرگاہیں اس کے تیل کی یورپ تک سمگلنگ کیلئے نہیں کھولیں۔ اب وہ صرف سنگاپور کے ساحلوں تک تیل پہنچا سکتا ہے تاکہ چین کو سپلائی دے۔ اس کے کئی بحری جہاز خلیجی بندرگاہوں پر گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ایران کو غزہ میں اپنی غلطیوں کو بھی تسلیم کرنا ہوگا۔ کم و بیش ایک لاکھ مرد، عورتیں اور بچے قتل کیے جا چکے ہیں اور خونریزی ابھی جاری ہے۔ اس صورتحال میں خود احتسابی سب کیلئے ضروری ہے۔ یہی بات یمن میں حوثیوں اور لبنان میں حزب اللہ پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ ایران کو سعودی عرب سے سیکھنا ہوگا کہ مذہبی شدت پسندوں کو پالنے کی پالیسی ایک دن خود اس پر الٹ سکتی ہے۔یہ ماننے کے بعد ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ خلیج تعاون کونسل (GCC) کو بھی سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ 26 جون کو یورپی کونسل کا برسلز میں ایک تاریخی اجلاس ہوا۔ یہ اجلاس اس لیے تاریخی تھا کہ اس میں یورپی رہنماؤں نے اپنے دفاعی بجٹ بڑھانے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ اپنی بین الاقوامی پالیسیوں میں امریکہ پر انحصار نہ کریں۔ جی سی سی کے لیے اس میں یہ سبق ہے کہ ایک دن اسے بھی امریکہ سے اپنی آزادی کا اعلان کرنا ہوگا۔ اگر ایک ریپبلکن صدر، جیسے کے ٹرمپ، ان کے حق میں ہے، تو کوئی مستقبل کا ڈیموکریٹ صدر اس کی تمام پالیسیوں کو ختم کر سکتا ہے، جیسے بائیڈن نے یمن کے معاملے پر سعودی عرب کے ساتھ کیا تھا۔ اس سے چینی صدر شی جن پنگ کے لیے خطے میں اثر و رسوخ کا راستہ کھلا۔جی سی سی کو خلیج کو اپنا بنانا ہوگا، اور جب تک ایران اور عراق شامل نہ ہوں، خلیج مکمل نہیں ہو سکتی۔ جی سی سی کو ان دونوں ممالک کے لیے شرائط طے کرنی ہوں گی تاکہ وہ عزت کے ساتھ اس میز پر آ کر بیٹھیں۔اگر جی سی سی نے ایران کو ایک بار پھر اندھیرے میں بھٹکنے دیا تو بعد از نیتن یاہو عہد میں خطہ بد ترین جنگوں اور افراتفری کا شکار ہو گا۔
اشتہار
مقبول خبریں
ایچ ای سی میں 100 دن
مہمان کالم
مہمان کالم
سوالات کا فن!
مہمان کالم
مہمان کالم
کوچہ و بازار سے
مہمان کالم
مہمان کالم
ووٹ کے حق پر قدغن
مہمان کالم
مہمان کالم
