اندر کا جانور اور موسم خود تلاش کریں ۔۔۔۔ 337

اندر کا جانور اور موسم خود تلاش کریں ۔۔۔۔

اللہ کریم نے ہر جاندار کو ایک سرشت کے ساتھ پیدا کیا ہے۔۔۔ مکھی گند پر ہی بیٹھے گی کہ اس کی حیات کا دارومدار اسی گند پر ہے۔۔ تتلی اور شہد کی مکھی ہر حالت میں پھول سے رجوع کرے گی۔۔ شہد کی مکھی تو اگر غلط ( گند )جگہ سے رس اٹھا لے تو اسے قبیلہ میں گھسنے نہیں دیا جاتا اور مار کر باہر پھینک دیا جاتا ہے۔۔ اسی طرح بچھو اگر دوست بھی ہو تو محبت میں ڈسے گا ضرور۔۔ جوئیں جس سر میں رہتی ہیں اسی کا خون چوستیں ہیں۔۔ کہ ان کی بقا یہی ہے۔۔۔ مچھلی آپ سے کتنی ہی چاہت رکھتی ہو پانی سے نہیں نکل کر آپ کی ہو سکتی ہے۔۔ اگر وہ آپ کی ہوئی تو جل بھن کر ہی آپ کی خوراک بنے گی۔۔ اسی طرح کچھ جانور صرف رات کو جاگتے ہیں اور کچھ شام ہوتے ہی سو جاتے ہیں۔۔ کتے اور بلی کو وفادار اس لئے کہا گیا ہے کہ یہ ان کی ہڈحرامی کی ایجاد ہے۔۔ ورنہ ہم آج تک عام ھالات میں بھیڑئیے نہیں پال سکے ۔۔ گدھ ہر حالت میں نجاست کھانے گا۔۔ جبکہ عقاب تازہ شکار کرے گا اور پیٹ بھر جانے پر باقی خوراک ان جانوروں کے لئے چھوڑ دے گا جو اس کے طفیلی ہیں۔۔ اسی طرح شیر تازہ شکار کھاتا ہے۔۔ اور لومڑی اس کا بچا کچا۔۔ سور گروہ کی شکل میں جنسی عمل سر انجام دیتے ہیں۔۔ جبکہ بندروں کے قبائل اپنے ہم نشیں ،اپنے ساتھی کی زوجہ کو زبردستی کا شکار بناتے ہیں۔۔ اسی طرح بندروں ہی کی نسل gibbon اپنے ساتھی کے ساتھ تادم مرگ وفادار رہتے ہیں۔۔Beavers ایک ایسا جانور ہے جو اپنے ساتھی کے ساتھ آخری سانس تک وفادار رہتا ہے ۔۔دونوں مل کر آپس میں کام بانٹ کر کرتے ہیں۔۔ انسان واحد مخلوق ہے ۔۔ اگر وہ ان عادات میں سے نکل آئے تو ہی مقام انسانیت پر فائز ہو سکتا ہے ورنہ وہ جانوروں کے اس قبیلہ سے تعلق رکھتا ہے جس کی عادات وہ اپنائے ہوئے ہے۔۔ وہ انسان نہیں ۔۔ انسانیت میں عروج پیدا کریں ۔۔ ہماری عادات کے تو جانوروں کے قبائل کے قبائل آباد ہیں۔۔ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِىْۤ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍۖ ہم نے انسان کو بہترین ساخت و انداز کے ساتھ پیدا کیا ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سَافِلِيْنَۙ پھر اسے نیچوں سے نیچا کر دیا۔ (سورہ التین )

بشکریہ اردو کالمز