622

سوال سارے غلط تھے، جواب کیا دیتے

سوا سال ہوگیا، میڈیا اور اخباروں میں احتیاط کے ضمن میں خاص کر کہا جاتا ہے کہ 6فٹ فاصلہ رکھیں۔ اب سنئے ہو کیا رہا ہے۔ کراچی گئی قومی ایئر لائن سے، واپس آئی نجی ایئرلائن سے۔ دونوں دفعہ جہاز کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ کہنی سے کہنی ملی ہوئی، سارے مسافر پریشان کہ یہ کیا ہورہا ہے۔ ماسک تو سب نے پہنے ہوئے ہیں مگر فاصلے والی شق کیوں غائب کر دی گئی۔ دونوں طرف سے ایک سا جواب آیا۔ ’’جہاز کا خرچہ کم ہوتا تو ہم فاصلہ رکھتے ہماری بھی مجبوری ہے‘‘۔ پہلے ہی ساری ایئر لائنز خسارے میں جارہی ہیں۔

کراچی KLFکا بارہواں سالانہ جلسہ تھا۔ چھ سات اجلاس کو چھوڑ کر، باقی سب آن لائن تھے۔ وہی ہوٹل جہاں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی تھی۔ اس میں ٹاویں ٹاویں سننے اور بولنے والے تھے۔ آن لائن کا یہ تجربہ بھی، خوب رہا کہ ہمیں بھی ڈیڑھ برس ہوگیا ہے، آن لائن مذاکرے اور مشاعرے سن رہے ہیں۔ مگر وہ لطف جو گلے ملنے۔ آمنے سامنے گفتگو اور داد، بیداد میں تھا، اس کو سنتے ہوئے اس لطف کو یاد کرتے رہے۔ بہرحال وکٹوریہ شیفلڈ ہو کہ ملیحہ لودھی، چونکہ باتیں بہت مختلف تھیں اس لئے سن کر خاص طور پر وکٹوریہ کی باتوں نے بہت کچھ یاد دلایا کہ ہم لوگ بینظیر کے ساتھ کافی مدت رہے تھے۔ البتہ مشاعرے میں سارے ہی اچھے شاعر تھے مگر ایک شاعر جو اعلیٰ نوکری میں کبھی کسی کو گھاس نہیں ڈالتا تھا، خاص کر ادیبوں کا تو وہ فون بھی نہیں سنتا تھا۔ وہ بھی اس قبیلۂ ملامتیہ میں شامل تھا اور داد کا طلب گار تھا۔ مجھے اس کا ادیبوں سے اب جھک جھک کر ملنا، سخت ندامت کا لمحہ لگ رہا تھا۔ ویسے سدابہار ڈاکٹر عشرت حسین، بہار ہو کہ خزاں۔ باقی مصرعہ ان کے لئے نامناسب ہے مگر جو کام آرڈیننس کے ذریعہ کیا گیا۔ کیا وہ مناسب تھا۔ ایک دانشور جو عالمی سطح پر کام کرتا رہا اور جس کو خود حکومت نے مناسب سمجھتے ہوئے لگایا تھا، اس کو اپنی ٹرم پوری نہیں کرنےدی گئی اور کیا مذاق ہے کہ اس کو آرڈیننس کے ذریعہ نکال دیا گیا، جواز یہ دیا گیا کہ چونکہ انہوں نے سرکار کی نوکری نہیں کی تھی،اس لئے ضوابط و قواعد کو نظرانداز کر رہے تھے۔ میں یاد دلائوں، میں جب پی این سی اے کی ہیڈ تھی، میں جس قدر کام خود کرتی اور اسٹاف سےبھی کرواتی تھی، میرے اسٹاف نے سیکرٹری سے شکایت کی تھی کہ ہم سے اتنا کام لیتی ہیں کہ بیمار ہوگئے ہیں۔ مجھے وہ نوکری چھوڑے ہوئے آج 22برس ہوگئے، پورے پاکستان میں اب تک لوگ یاد کرتے ہیں کہ جو کام تم نے کیا اب گیلری ہونے کے باوجود نظر نہیں آتا۔ مجھے کوئی کہے تو میں کورونا کو ملزم قرار دیتے ہوئے، فوزیہ سعیدکے کام کی تعریف کرتی ہوں کہ اُسے لوک ورثہ میں جو موقع ملا، سارے ادارے میں روز تقریبات ہوتی تھیں۔ اب کورونا نے تو شادیوں تک پر پابندی لگا دی ہے کہ یہ تیسری لہر۔ اس وبا نےہم سے صرف مسکراہٹ نہیں، ہماری تہذیب اور شائستگی ہی چھین لی ہے جس کی جگہ بیزاری نے لے لی ہے کہ کوئی آئے تو اس سے دعا سلام بعد میں لیتے ہیں۔ ماسک لگانے کا پہلےکہتے ہیں اورپوچھتے ہیں ’’تمہیں کب کورونا ہوا تھا‘‘۔

کراچی پہنچتے ہی حسینہ معین کے اچانک چلے جانے کی خبر نے تو KLFکا پورا مزاہی چھین لیا۔ خدا بھلا کرے احمد شاہ کا، کہ وہ ہم سب کو لیکر حسینہ کے گھر گیا۔ حسینہ کا گھر ناظم آباد میں ہے۔ مجھے آج سے بیس برس پہلے کا ناظم آباد یاد آیااور اب سریے اور اینٹوں کے جالے، بے ہنگم ٹریفک، بے ترتیب ڈھابے، پیدل چلتی ہوئی کالے برقعوں میں ملفوف خواتین اور پھر حسینہ کا گھر۔

آج سے تیس برس پہلے کی حسینہ کے ڈرامے جو سڑکوں پر ٹریفک روک دیتے ایک سے بڑھ کر ایک ڈرامہ، پہلے ڈرامے میں اس نے نیلوفر علیم کو دفتر میں الٹی سیدھی حرکتیں کرتے دکھایا تھا۔ میں نے اُسے فون پر کہا ’’حسینہ ہم دفتروں میں کام کرنے والی عورتوں نے بڑی مشکل سے جگہ بنائی ہے۔ یہ کردار تو ورکنگ ویمن کے ساتھ مذاق بنا دے گا۔ حسینہ نے کہا ’’تم ناراض نہ ہو یہ بھی ہماری طرح ہو جائے گی۔ سچ ہے اس کے ہر ڈرامے میں مضبوط اور خوددار عورت تھی۔ حسینہ نے اتنا کمایا، میں نے سوچا خداآباد رکھے اصغر ندیم اور امجد اسلام کو، انہوں نے تو ڈیفنس میں گھر بنا لئے ہیں، حسینہ کی فقیرانہ طبیعت نے ناظم آباد سے باہر نکلنے کا سوچا بھی نہیں۔ ساتھ ہی مجھے نور الہدیٰ شاہ کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے یاد آیا کہ جب بیس برس پہلے چینلوں کی یلغار ہوئی اور انہوں نے ٹکا سیر ڈرامے لکھوانے شروع کئے تو حسینہ کو بھی معیار سے گرے ہوئے درجے کے پیسے دینے اور اسکرپٹ لکھنے کو کہا۔ حسینہ نے جب نور سے مشورہ کیا تو اس نے خبردار کیا کہ اپنی عزت اور وقارپر سمجھوتا نہ کرنا جسے تم نے چالیس برس تک قائم رکھا، اور ایسا کہ راج کپور نے بھی وقار کے ساتھ تم سے اپنی فلم کا اسکرپٹ لکھوایا۔ ہمارے ملک میں ایک طرف توعورت کو تماشا بنایا جارہا ہے اور اہل جبہ جب وقت ملے اور جیسا منہ میں آئے، کہنے سے گریز نہیں کرتے۔ اتنی بھولی اور قناعت پسند کہ شہزاد خلیل ہوں کہ سلطانہ صدیقی ان کے ساتھ بیٹھ کر، اداکار کی ایکٹنگ دیکھ کر، اس کے منہ سے فقرے کہلواتی تھی۔ جبھی تو بہروز ہو کہ شہناز، ہر ایک نے اداکاری کا حق ادا کیا۔ حسینہ! نہ تم نے عشق کیا نہ جائیدادیں بنائیں۔ البتہ دنیا گھومنے کے شوق کو زندہ رکھا۔ ہر جگہ اس کا قلم اس کے ساتھ رہا اور تمہاری محبت ایسی ہے کہ ایئرپورٹ پر سب لوگوں نے مجھ سے تعزیت کی۔

source:JANG Media Group

بشکریہ جنگ نیوزکالم