169

آئمہ کرام کی پسماندگی اور تقرر۔

سوشل میڈیا پر وائرل پوسٹ میں امام مسجد کی بے بسی اور لاچارگی عیاں ،تصویر میں اس کے بچے تھے ، مسجد کے جس ہجرہ میں وہ اپنی فیملی کے ساتھ مقیم تھا اس کی خستہ چھت گرنے سے اللہ کے حضور پیش ہو گئے ،جس وقت یہ حادثہ ہوا، امام مسجد نماز کی ادائیگی میں مصروف تھا، امکان ہے امام محترم نے بار ہا مسجد کمیٹی کو اس بابت متوجہ کیا ہو گا،لیکن درخواست کی قبولیت سے قبل ہی وہ اپنی بیوی اور بچوں سے محروم ہو گیا، اس کی مالی پوزیشن اگر اجازت دیتی توکرایہ پر اچھا مکان لیتا،اور مسجد کمیٹی کی جانب اسے نہ دیکھنا پڑتابچوں کی اس انداز میں موت کو وہ کبھی بھی بھلانہ پائے گا۔ کہا جاتا ہے ریاست میں سب سے زیادہ قناعت پسند ،سفید پوش طبقہ آئمہ کرام ہی کا ہے جوقلیل ترین تنخواہ میں اپنی گذر اوقات کرتا،اکثریت کی تنخواہ چند ہزار روپئے ہوتی ہے، حالانکہ انکی ضروریات بھی عام شہری کی طرح ہیں،لیکن نہ تو انھوں نے کبھی اپنے فرائض کی ادائیگی سے انکار کیا نہ ہی انکی کوئی تنظیم ہے کہ جس پلیٹ فارم سے وہ اپنے حقوق کے لئے صدا بلند کر سکیں۔ اب سوشل میڈیا کی وساطت سے انکی پسماندگی پر عوامی حلقوں میں آواز اٹھائی جارہی ہے مطالبہ ہے کہ انکی تنخواہ اور دیگر مراعات سرکار ادا کرے،2018 میں خیبر پختون خواہ میں مساجد کے اماموں اور خادمین کے لئے وظیفہ مقرر کیا گیا تھا یہ سہولت بھی صرف رجسٹرڈ مساجد اور مدارس کو میسر تھی۔دلچسپ امر یہ ہے کہ جمیعت علماء اسلام نے آئمہ کرام کو وظیفہ لینے سے روکا جبکہ اے این پی نے انھیں مستقل ملازمت دینے کا مطالبہ کیا ۔ ائمہ کرام کے بھی تین طبقات ہیںایک محکمہ اوقاف اور مذہبی امور کی وزارت کے تحت سرکاری مساجد اور مدارس،مزارات میں فرائض ادا کرتے ہیں،انھیں باقاعدہ تنخواہ ملتی انکے سکیل مقرر،تکمیل ملازمت پر پنشن کے حق دار ہیں، دوسرے آرمڈ فورسز کی مساجد میں خطیب اور خدام بھرتی کئے جاتے ہیں، انھیں بھی سویلین ملازمین کی طرح مراعات ملتی ہیں،کسی صنعت ،کمپنی کی مساجد میں ملازم کے طور پر کام کرتے آئمہ کرام اور خطیب حضرات،تیسرے وہ جو عام مساجد میںنمازیوں اورمخیر حضرات کے رحم و کرم پر ہیں،جنکی تنخواہ کا فیصلہ مسجدکمیٹی کرتی ہے۔ روایت ہے حضرت عمر کسی علاقہ کو فتح کرتے تو وہاں قرآن کی تعلیم کے لئے مساجد میں آئمہ کرام کا باقاعدہ تقرر کرتے انکی تنخواہ قریباً چار تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ادا کی جاتی،حضرت عمر بن عبدالعزیز کے دور میں اسلامی ریاست میں کوئی فرد ایسا نہیں تھا جسے مالی امدادیا زکوة کی ضرورت ہو،جب خلافت نے ملوکیت کی بد ترین شکل اپنائی تو علماء سو نے جنم لیا،بعدازاں ابو لفضل اور فیضی کی صورت میں درباری علماء برآمد ہوئے،اسکی کوکھ سے فرقہ پرستی نے جنم لیا،اس کے باوجود علماء حق نے اپنا علم بلند اور تاج برطانیہ کا ناطقہ بند کئے رکھا وہ سولی پر جھول گئے مگر اسلامی شعائر پر آنچ نہ آنے دی۔ تاج برطانیہ نے مذہبی طبقہ سے انتقام لینے کے لئے اسکی سماجی حیثیت کو ہی متنازعہ بنا دیا دیہی علاقہ جات میں اسکی ضرویات کے پیش نظر دیگرپیشہ ور لوگوں کے ساتھ سرکاری چراگاہ میں بہت ہی معمولی زمین اس عہدہ کے نام کی جو مساجد میں پیش امام ہوگا،یوں یہ براہ راست گائوں کے بااثر فرد کے ماتحت ہو گیا۔ مذہبی طبقہ سرکاری مراعات سے جو محروم رہا، ان خرافات کو اس نے جنم دیا جن سے روزی روٹی کمائی جاسکتی،اس میں موثر ترین پیشہ پیری مریدی کا تھا۔ ایک وقت تک مولوی جی کی روٹی دیہات اور شہر میں ہر گھر سے عزت اور احترم سے پیش کی جاتی مگر اس میں تضحیک کا پہلو واضع تھا۔ برصغیر میں دینی مدارس کی تعلیمی خدمات قابل تحسین ہیں،اس سے نامور علماء کرام اور اکابرین نے فیض پایا اور عوام الناس کی راہنمائی فرمائی،تاہم اب صورت حال حوصلہ افزاء نہیں،دولت کی اسیری کی جو دوڑ سماج میں جاری ہے، جید علماء کرام بھی اس لعنت سے اپنا دامن بچا نہ سکے۔ دینی مدارس عوامی تعاون سے غرباء کے لاکھوں بچے اور بچیوں کو مفت تعلیم دے رہے ہیں جو بہت بڑی خدمت ہے مگر دوسری طر ف یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ انکی خوش حالی اور روزگار کا ٰ یہی واحدذریعہ ہے۔ ایک طرف بوسیدہ ہجروں میں مقیم زندگی کی بازی ہارے والے آئمہ کرام کے بیوی، بچے تو دوسری طرف پرتعیش محلات میں رہنے والے پیشہ ور مذہبی قائدین، نظام کا یہ تضاد اپنے اندر بہت سے سوال رکھتاہے۔ بانی پاکستان کے شانہ بشانہ محترم مولانا شبیر احمد عثمانی،مولانا ظفراحمد عثمانی و دیگر اکا برین تھے، نوزائیدہ مملکت کو اسلامی، فلاحی ریاست بنانے کی شہادتیں قائد اعظم کے فرمودات سے ملتی ہیں، بدقسمتی سے بانی پاکستان کی وفات کے بعدوڈیروں، جاگیرداروں ،گدی نشینوں کی شکل میں مفاد پرست طبقہ ملک پر مسلط ہوا،کلمہ کے نام جس گاڑی میں مہاجرین سوار ہوئے وہ دانستہ'' ڈی ریل'' کردی گئی۔ اسلامی ریاست عملاً وجود میں آتی تو ہر سو سماجی اور معاشی انصاف ہوتا، عدل کا ڈنکا بجتا،آئمہ،علماء بھی مستفید ہوتے مگر اس قماش کے لوگوں کو یہ ''سوٹ'' نہیں کرتاتھاجس میں پگڑی، جبہ،دستاروالے'' پردہ نشیوں ''کے نام بھی آتے ہیں۔ محکمہ اوقاف اور مذہبی امور کی وزارت مساجد ودیگر مذہبی مقامات کی کنٹرولنگ باڈی ہے،اس شعبہ کی لاکھوں ایکٹر زمین اور شہری جائیدادیں ملک بھر میں موجود ہیں، مگر المیہ یہ ہے اوقاف کی دوکانوں اور مکانوں کا کرایہ کی نسبت دیگر کے مقابلہ میں10:100کی ہے یہی معاملہ اوقاف کی زرعی اراضی کا ہے یہ انتہائی کم لیزپرہر علاقہ کی بااثر شخصیات کے زیر قبضہ پر ہے،اس پراپرٹی کا مقصد تو مذکورہ طبقہ کی فلاح تھی اور ان مقامات کا تحفظ تھا جو اس شعبہ کے زیر اہتمام ہیں، مگر یہ محکمہ بھی بدعنوانی کاگڑھ بن چکا ہے۔ عالم دین ،مفتی کے پاس اِس امام مسجد کی اشک شوئی کے لئے الفاظ ہیں ،جس کا خاندان اس فرسودہ نظام کی بھینٹ اس لئے چڑھ گیا کہ وہ مذہب کو فروخت کر نے کا فن نہیں جانتا تھا، ریاست جس کے آئین میں بلا امتیاز ہر شہری کے حقوق یکساں رقم ہیں اسکے بچوں کی موت کا اس کے پاس کیا جواب ہے؟ بیشتر اس کے کسی اور امام کے بچوں کی موت اس طرح ہو، اوقاف پراپرٹی کو ایسے آئمہ کرام کی پسماندگی کو دور کرنے کے لئے تصرف میں لایا جائے جو بوسیدہ ہجروں میں فیملی کے ساتھ مقیم ہیں اور ملکی سطح پر ہر امام اور موذن مسجد کی تنخواہ اور تقرر کا طریقہ مقرر کیا جائے جو فورسز کی مساجد کے لئے نافذالعمل ہے۔

بشکریہ اردو کالمز