288

ہمارے لیے عبرت انگیز نشانیاں

دیوالیہ ہونے کے خطرے سے بچ نکلنے کے بعد اب ہمیں آئی ایم ایف کے تعاون سے معیشت کی بحالی کا مرحلہ درپیش ہے۔

وقت کی ستم ظریفی دیکھیے کہ جن عالمی مالیاتی اداروں کے سرپرست ملکوں نے ہمیں خود ہماری رضا سے اس حال تک پہنچایا، آج ہم مدد کے لیے انھیں کے زیر دست اداروں کے دروازوں پر کھڑے ہیں۔ آئی ایم ایف کے وفد کی آمد مئی کے مہینے میں ہوئی جو محض اتفاق تھا، تاہم اس وقت جس صورت سے ہم دوچار ہیں اس حوالے سے ہمارے لیے مئی کے مہینے کی علامتی حیثیت انتہائی غیر معمولی ہے۔

چند دنوں پہلے10مئی آئی اورگزر گئی۔ 1857میں جب 10مئی آئی تھی تو برصغیر کے بڑے حصے میں آزادی کی آگ لگ گئی تھی۔10مئی 1857کو انگریزوں کے خلاف جس جنگ کا آغاز ہوا، اس کی ناکامی کے متعدد اسباب ہیں اور ان پر کسی اور وقت بحث رہے گی۔

اس وقت تو ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ 31 دسمبر1599کی رات جزائر برطانیہ کی ملکہ ایلزبتھ اوّل نے چند برطانوی تاجروں کی ایک انجمن کو جب مشرق ( ہندوستان) سے مسالہ جات کی تجارت کے لیے اجازت نامہ دیا تھا، اس وقت کیا کسی کے وہم و گمان میں بھی تھا کہ اس رات دراصل برطانیہ عظمیٰ کی بنیاد رکھی جارہی ہے؟

ہندوستان جو سونے کی چڑیا کہلاتا تھا، اسے تجارت کے نام پر غلامی کے قفس میں بند کرنے کی ابتدا ہو رہی ہے؟ ملکہ ایلزبتھ اوّل کا جاری کردہ یہ وہ اجازت نامہ تھا جس نے دو صدی کے اندر اندر بر صغیرکی اقتصادی، سماجی اور سیاسی تاریخ کے زمین و آسمان بدل دیے۔

اس اجازت نامے پر لگی ہوئی، برطانوی شاہی مہرکو قوم پرست ٹیپو سلطان نے 6 مئی1799کو دھونے کی ناکام کوشش کی، یہ برصغیر کی بد بختی تھی کہ ٹیپو وقت سے سو برس بعد پیدا ہوا، وہ اگر یہی لڑائی 1699 میں لڑتا تو شاید آج بر صغیرکی تقدیر ہی کچھ اور ہوتی۔

ہمارے یہاں ان دنوں آئی ایم ایف، ورلڈ بینک کے بارے میں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ آخر یہی تو وہ ادارے ہیں جو ہمیں قرض، امداد اور جدید تکنیکی سہولتیں فراہم کرتے ہیں، تو پھر آخر ان کے خلاف سرکاری اور غیر سرکاری حلقوں کو اس قدر تیز لہجے میں بولنے کی ضرورت کیوں ہے۔

بات صرف اتنی سی ہے کہ گزشتہ نصف صدی کے دوران ہمارے حکمرانوں کی نااہلیوں، خود غرضیوں اور غلط پالیسیوں نے ہمیں اس قابل ہی نہیں چھوڑا ہے کہ ہم اپنی ملکی معیشت اور سیاست کے بارے میں یکسر آزادانہ فیصلے کرسکیں۔ آج یقینا ان بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور غیر ملکی تجارتی کمپنیوں کی معاونت اور ان کے دیے ہوئے قرضوں کے بغیر ہم ایک دن کاروبارِ حیات نہیں چلا سکتے لیکن اس کے ساتھ ہی ہمیں اپنے قومی مفادات کے بارے میں بھی بہت چوکنا اور ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

اس موقع پر ہمیں اپنی چار سو برس کی تاریخ سے ہر مرحلے پر سیکھنا چاہیے۔ ہم غیر ملکی تجارتی کمپنیوں سے معاہدے کرتے ہوئے یہ کیسے فراموش کرسکتے ہیں کہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے تجارت کے پردے میں ہندوستان کے کسانوں، کاری گروں اورکرگھا چلانے والوں کے خون کی بوند بوند نچوڑ لی تھی۔

اس منافع میں وہ نجی اور ناجائز بالائی آمدنی شامل نہ تھی جس سے کمپنی کے اعلیٰ و ادنیٰ برطانوی عہدیدار فیض یاب ہورہے تھے، اس فیض یابی میں ان کی معاونت ہندوستان کے وہ غدار اور وطن فروش عہدیدار کر رہے تھے جو کمپنی بہادر سے مراعات اور مناصب حاصل کررہے تھے اور قومی مفاد کو اونے پونے بیچ رہے تھے۔

ہندوستان سے لوٹی ہوئی دولت کے اس انبار نے ہی انگلستان میں سرمایہ دارانہ نظام کی بنیاد رکھی جس کی بنا پر انگلستان ایک عظیم الشان سلطنت بن گیا اور اس کی نو آبادیات دنیا بھر میں پھیل گئیں۔ ہندوستانی سرمائے کی اسی ریل پیل نے اس صنعتی انقلاب کو جنم دیا جس نے مغرب کو صدیوں کے لیے مشرق پر بالادست کر دیا۔

اسی صورت حال پر طنزکرتے ہوئے بروکس ایڈمنر نے بھاپ کا انجن ایجاد کرنے والے برطانوی سائنس دان جیمز واٹ کے بارے میں لکھا کہ’’ اگر والٹ اپنے زمانے سے پچاس برس پہلے پیدا ہوگیا ہوتا تو وہ اور خود اس کی ایجاد دونوں ایک ساتھ خاک میں مل جاتے۔‘‘ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ پچاس برس پہلے اس ایجاد سے کام لینے کے لیے انگلستان میں مطلوبہ سرمایہ ہی موجود نہیں تھا۔

اس زمانے کے انگلستان نے ہندوستان کو اصل شکست اقتصادی میدان میں دی۔ اس بارے میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے ڈائریکٹروں کی مقررکردہ عدالت کو لارڈ ولیم بنٹنک نے لکھا کہ ’’ تجارت کی تاریخ میں اس پریشان حالی کی کہیں نظیر نہیں ملتی۔ سوتی کپڑا بننے والے جولاہوں کی ہڈیاں سرزمین ہندوستان پر دھوپ میں سوکھ رہی ہیں۔‘‘ ڈھاکا جو نفیس ترین ململ بنانے والے کاریگروں کے لیے شہرۂ آفاق تھا اور جس کی آبادی 1827سے پہلے ڈیڑھ لاکھ تھی بیروزگاری اور تباہ حالی کے سبب دس برس میں اتنی کم ہوئی کہ صرف بیس ہزار رہ گئی۔

منصف مزاج برطانوی مورخ جیمز مل نے ہندوستان کی اسی اقتصادی غلامی کا تذکرہ کرتے ہوئے ’’ ہسٹری آف برٹش انڈیا‘‘ میں لکھا کہ ’’ اگر ہندوستان آزاد ہوتا تو وہ انتقام لیتا۔ برطانوی مال پر امتناعی محصول لگاتا اور اس طرح اپنی صنعت و حرفت کو محفوظ کرتا لیکن اسے مداخلت کی اجازت نہ تھی، وہ ایک بدیشی حکمران کے رحم و کرم پر تھا۔ وہ برطانوی مال جس پر کوئی محصول نہ تھا ہندوستان پر ٹھونستا گیا۔ برطانوی کارخانے داروں نے سیاسی نا انصافی کے بل بوتے پر پہلے اپنے ہندوستانی حریف کو دبایا اور بالآخر اس کا گلا گھونٹ دیا۔

کہنے کو یہ تاریخ کی کتابوں میں گڑے ہوئے مردے اکھیڑنے کی باتیں ہیں لیکن یہی وہ المناک حقائق ہیں جن پر نظر رکھ کر ہم اپنی قومی آزادی کو قائم رکھ سکتے ہیں۔ باشعور اقوام اور ان کے رہنما گزشتگان کی غلطیوں سے سیکھتے ہیں اور انھیں دہرانے سے اجتناب کرتے ہیں، اس حوالے سے دیکھا جائے تو ہماری موجودہ معاشی تباہ حالی میں مغل حکمرانوں کے انداز حکمرانی اور آج اپنے اندر موجود عناصر کی لالچ اور سازشوں کا رنگ نظر آتا ہے۔

بجلی پیدا کرنے والے نجی ادارے ہوں، بڑے بڑے منصوبے لگانے والی ملٹی نیشنل کمپنیاں ہوں یا قرض دینے والے عالمی مالیاتی ادارے، ان سے معاملت کرتے ہوئے ہمیں برصغیر کی چار سو برس کی تاریخ کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ اس میں ہمارے لیے بڑی عبرت انگیز نشانیاں ہیں۔

آج ہم انتہائی بے بسی کے عالم میں آئی ایم ایف کے پاس جانے پر مجبور ہوئے ہیں۔ عالمی معیشت کو عدم استحکام سے بچانے کے لیے دم توڑتی معیشتوں کو وینٹی لیٹر فراہم کرنا، ان عالمی مالیاتی اداروں کی حکمت عملی ہوتی ہے، لٰہذا آئی ایم ایف سے جاری مذاکرات میں کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں، تاہم زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنی تاریخ سے کچھ سیکھنے کے لیے تیار ہیں؟ یاد رکھنا چاہیے جو قومیں اپنی تاریخ کے تلخ تجربوں سے نہیں سیکھتیں، تاریخ انھیں خود سبق سکھاتی ہے۔

بشکریہ ایکسپرس