428

پیرا ڈائز لاسٹ مل گئی

اب تو ہمیں پکا پکا یقین ہوگیا ہے کہ 77سال سے ہم جس پیراڈائزلاسٹ یا فردوس گم گشتہ کی تلاش میں تھے اس کے دروازے پر ہم پہنچ چکے ہیں۔اور یہ کوئی بھرم نہیں ہے بلکہ حقیقت میں ایسا ہوچکا ہے کیونکہ جن ذرایع سے یہ خبر ملی ہے بلکہ مل رہی ہے وہ سب کے سب مستند اور باوثوق ہیں۔اور ہمیشہ سچ بولتے ہیں کیونکہ انھوں نے ’’کرسی‘‘ پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائی ہے کہ ہمیشہ سچ بولیں گے اور سچ کے سوا اور کچھ نہ بولیں گے کیونکہ سارے بہ خیر صادق و امین ہیں۔بلکہ قوم کے درد میں اتنے مبتلا ہیں کہ اپنے اوپر خواب و خور تک حرام کرچکے ہیں۔ مثال کے طور پر اس وقت ہمارا’’میڈیا‘‘ ہے سر سے پیروں تک اور ایڑھی سے چوٹی تک سچ ہی سچ اس کے اندر بھرا ہوا ہے اتنا بھرا ہوا ہے کہ بعض اوقات ناک کان اور آنکھوں تک ٹپکنے لگتے ہیں

پُر ہوں میں شکوے سے یوں راگ سے جیسے باجا

اک ذرا چھیڑئے پھر دیکھیے کیا ہوتا ہے

ایک ضرب دیجیے تو پھر بجتا چلا جاتا ہے اس میں جو دینے والے ہیں۔وہ سچ میں علامہ پروفیسر ڈاکٹر بیرسٹر انجینئر کی ڈگریاں لے چکے ہیں لیکن یہ وضاحت ضروری ہے کہ یہ بیان یا بیانات دینے والے اپنے کام میں اتنے ماہر اور مخلص ہیں کہ نماز قضا ہوجائے تو ہوجائے لیکن بیان قضا نہ ہونے پائے۔یہاں پر ایک حقیقہ یاد آیا ایک دن ایک نوجوان میرے پاس آیا۔جس کے بڑے بھائی سے ہماری شناسائی تھی اور بازار میں اس کی ’’میوزک سینٹر‘‘کی دکان تھی وی سی آر کیسٹیں کرائے پر دینے کا کام کرتا تھا اس نے ہمیں ہوٹل میں بیٹھے دیکھا تو دوڑ کر آیا اور بولا آپ نے اخبار میں میرا ’’بیان‘‘ پڑھا ہے؟ ہم نے کہا نہیں ہم نے تو تمہارا کوئی بیان نہیں پڑھا ہے۔

آج کے اخبار میں ہے نا اور پھر اپنی دکان کی طرف دوڑا اور ہم حیران کہ آخر اس نے کیا ’’بیان‘‘ دیا ہوگا تھوڑی دیر بعد وہ اخبار لیے ہوئے لوٹا اور کھول کر ایک خبر دکھانے لگا۔خبر تھی کہ کل پولیس نے ایک میوزک سینٹر پر چھاپہ مارا جہاں عریاں فلمیں دکھائی جارہی تھیں۔ ہم خبر پڑھ رہے تھے اور وہ بڑے فخر سے گردن تان کر مسکرا رہا تھا۔یہ اسی کی دکان کا ذکر تھا اور پکڑے جانے کے بعد آج باہر آیا تھا اور وہ اپنے بارے میں اس ’’قابل فخر‘‘ خبر کو اپنا’’بیان‘‘ کہہ رہا تھا۔بدنام نہ ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا

میں اسے شہرت کہوں یا اپنی رسوائی کہوں

مجھ سے پہلے اس گلی میں میرے افسانے گئے

اور اب تو خدا کے فضل سے ان بیانات دینے والوں کی ایک ایسی کیٹگری بھی نکلی ہے کہ نام اخبار میں آنے کے لیے خود اپنے خلاف بھی بیان دے سکتے ہیں۔پشتو کا ایک شاعر تھا جو خواتین کے بارے میں بہت ہی ’’ فکر مند‘‘ رہتا تھا۔ وہ بہت دور دراز علاقے کا رہنے والا تھا اس لیے کبھی کبھی اس سے ملاقات ہوجاتی تھی، ایک دن اخبار میں ایک بڑی جانکاہ جمع رومانی خبر اس کے بارے میں آئی کہ فلاں مقام پر پشتو کے معروف شاعر… کی لاش پائی گئی، کسی نے اسے بڑی بے دردی سے قتل کیا ہے لاش کے قریب کچھ ٹوٹی چوڑیاں اور جھاڑیوں میں پھنسا ہوا دوپٹہ بھی پایا گیا ہے۔افسوس بھی ہوا بیچارے کو اس جوانی کی حالت میں قتل کیا گیا۔بلکہ کسی حد تک رشک بھی آیا۔کہ کیا رومانی شہادت نصیب ہوگئی اس خوش نصیب کو ؎

قتل ہوں گے ترے ہاتھوں سے خوشی اس کی ہے

آج اتراتے ہوئے پھرتے ہیں مرنے والے

علاقہ بہت دور تھا۔اس لیے ہم فاتحہ پڑھنے نہیں گئے پھر آہستہ آہستہ ہم اسے بھول گئے۔لیکن کوئی سال بھر بعد اس کے گاؤں کے ایک شخص سے ملاقات ہوئی ہم نے اس کی رومانی شہادت کے بارے میں پوچھا۔تو حیران ہوکر بولا مگر وہ تو زندہ ہے اکثر ملاقات ہوتی رہتی ہے اس سے۔ بعد میں ہم نے خود بھی ایک مشاعرے میں دیکھا۔اس خبر کے بارے میں پوچھا تو ہنس کر بولا وہ تو میں نے خود اڑائی تھی۔خبر اور بیان آج کل ایک ہوچکے ہیں بلکہ میڈیا میں خبریں کم کم آتی ہیں زیادہ تر بیانات ہی خبر ہوتے ہیں۔اور ان بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ ہم پیراڈائز لاسٹ کے دروازے پر پہنچ گئے اور دم کے دم میں دروازہ کھلنے والا ہے۔

ویسے تو اوپری سطح پر بھی خوش خبریاں ہیں لیکن ہمارے صوبے خیبر پختون خوا کا تو عالم ہی اور ہے یہاں کے ’’بیانات‘‘ دینے والوں کے مطابق صوبے میں ہر طرف دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگی ہیں کیونکہ یہاں کے وزیراعلیٰ اور وزیروں نے تہیہ کیا ہوا ہے کہ وہ ریاست مدینہ اب یہاں بن گئی ہے جو پورے پاکستان میں برپا ہونے والی تھی لیکن حاسدوں،بیرونی ہاتھوں اور امپورٹڈ حکومت کے ہاتھوں جوانی میں مرگ ہوگئی۔

ہم جب صوبے کو گم گشتہ بنا دیں گے تو وہاں بھی سلسلہ وہیں سے جوڑدیں گے جہاں سے ٹوٹا تھا۔اور یہ بات یقینی اس لیے ہے کہ اس کی خبریں نہایت ہی باوثوق اور مستند ’’ذریعے‘‘ سے آرہی ہیں۔ اور اس ذریعے کا نام کرینہ سیف ہے جو پہلے صرف ادارہ تھی لیکن اب پروفیسرہ، بیرسٹرہ، ڈاکٹرہ اور گلوکارہ بھی ہوگئی ہے اور بیانات میں اتنی ماہرہ ہوگئی ہے کہ سورج کے طلوع و غروب پر بھی روزانہ دو دو بیانات جاری کرسکتی ہے اور’’سورج‘‘کا طلوع اپنے اور غروب دوسروں کے نام کرسکتی ہے۔

’’ ایسی چنگاری بھی یارب اپنے خاکستر میں تھی‘‘

بشکریہ ایکسپرس