237

لارڈ میکالے‘ہمارا محسن ‘یا… ؟

پاکستان واقعی ایک چیستان بن چکا ہے۔ سیاستدانوں کے درمیان لڑائی ختم نہیں ہوئی کہ عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تنازعہ کھڑا ہو گیا، سیکیورٹی اداروں کا شکوہ ہے کہ 9مئی کے ملزموں کو سزائیں عدلیہ کی وجہ سے رکی ہوئی ہیں‘اسی طرح عدلیہ کے اپنے تحفظات ہیں۔ملک میں تعلیم کی زبوں حالی پر کوئی بات نہیں کرتا‘آج ہم سیاسی مسائل کو چھوڑ کر تعلیم کی بات کریں گے۔ جب سے ہوش سنبھالا ہے اور پاکستان کی تعلیمی نظام سے واسطہ پڑا ہے‘ تو ایک بات تسلسل سے سن رہے ہیں کہ‘ ہماری پسماندگی کی وجہ لارڈ میکالے کا مسلط کردہ نظام تعلیم ہے۔

کئی دفعہ ذہن میں سوال ابھرا کہ یہ لارڈ میکالے صاحب کون تھے اور انھوں نے ہماری قوم کو پسماندہ رکھنے کے لیے کون سی سازش کی تھی؟ کیا یہ سازش اتنی مضبوط تھی کہ ‘ہم قیام پاکستان کے بعد بھی اس سازش کوختم کرکے ایک بہتر نظام تعلیم نہ لا سکے؟آخر ایک دن میکالے صاحب کا’’ناقابل معافی گناہ‘‘ ڈھونڈنے کی کو شش کی ‘تو پتہ لگا کہ وہ اتنے بھی گناہگار نہیں تھے ‘جتنا ان پر الزام لگایا جاتا ہے ‘ہماری یہ قومی عادت بن گئی ہے کہ اپنی غلطیوں کا کیا دھرا ‘ یہود و ہنود کے سر ڈالتے رہتے ہیں‘ اسی طرح نظام تعلیم کی خرابیوں کا سارا ملبہ بیچارے لارڈ میکالے کے سر پرڈال کر‘ خود بری الذمہ ہونے کی کو شش کر رہے ہیں‘آئیے ذرامیکالے صاحب اور ان کے ’’گناہوں‘‘ کا تجزیہ کرلیں۔

برطانوی سامراج نے ہندوستان پر تقریباً دو سو سال تک حکومت کی ہے ‘اس عرصے میں چار انگریز شخصیات بہت زیادہ بدنام ہوئے ‘ لارڈ کلائیو ‘جس نے1757 میں پلاسی کے میدان میں بنگال کے حکمران نواب سراج االدولہ اور اس کے فرانسیسی اتحادیوں کے خلاف فیصلہ کن فتح حاصل کرکے‘ ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت کی بنیاد رکھی۔

جنرل ڈائر جس نے ایک 1919میں امرتسر کے جلیانوالہ باغ میں فائرنگ کا حکم دے کر سیکڑوں ہندوستانیوں کو مار دیا تھا، جنرل ڈائر کو سردار اتم سنگھ نے برطانیہ جا کر گولیاں مار کر قتل کیا تھا۔ماؤنٹ بیٹن جس کے دور میں ہندوستان کی تقسیم ہوئی اور لارڈ تھامس میکالے جس کے متعلق کہا گیا ہے کہ اس نے 1835 میں اپنے ’’تعلیمی مقالے‘‘ کے ذریعے‘ ہندوستان میں ایسے نظام تعلیم کی بنیاد رکھی‘ جس کے ذریعے ہندوستانیوں کی ایک ایسی پڑھی لکھی کلاس پیدا کی جو انگریزسرکار کی وفادار اور ایجنٹ کا کردار ادا کرتی رہی۔ ان کرداروں کا جائزہ لیا جائے تو جنرل ڈائر اور ماؤنٹ بیٹن تو مجرم کہلائے جاسکتے ہیں۔

لارڈ میکالے کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ‘ اس کو غلط طور پر مورد الزام قرار دیا گیا ہے‘ یہ بہت ضروری ہے کہ میکالے کے بارے میں ذرا تفصیل سے تفتیش کی جائے اور محض سنی سنائی باتوں اور الزامات سے ان کے خلاف فیصلہ نہ دیا جائے ‘عام ہندوستانیوں کے اندر میکالے کی’’ تعلیم کے بارے میں مقالہ‘‘سے دو پیراگراف بہت اجاگر کیے گئے ہیں۔’’میں مشرقی علوم کے بارے میں ان کے عالموں کی رائے لیتا رہتا ہوں‘ اس بات پر سب متفق ہیں کہ یورپ کی کسی بھی اچھی لائبریری کے صرف ایک شیلف میں ہی‘ ہندوستان میں عربی،فارسی ، ہندی، اردو اور سنسکرت میں لکھے تمام لٹریچر سے بہتر علم موجود ہے‘‘۔اور اس سے بھی زیادہ بدنام زمانہ قول یہ ہے کہ ’’ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ایک ایسا طبقہ پیدا کیا جائے جو‘ ہمارے اور ان لاکھوں لوگوں کے درمیان ترجمان کا کردار ادا کر سکے‘ جن پر ہم حکمرانی کر رہے ہیں‘افراد کا ایسا طبقہ جو رنگ اور نسل سے ہندوستانی ہو لیکن کردار ‘خیالات اور اخلاقی لحاظ سے انگریز ہو ‘‘۔

ان اقوال کی بنیاد پر ان کے مخالفین نے ان پر یہ الزام لگایا کہ انھوں نے ہندوستان کے تعلیمی نظام کو تباہ کردیا اور ہندوستان میں مالدار اور غریب طبقوں کے درمیان خلیج کو وسیع کیا۔ جنوبی ایشیاء کے بہت کم لوگوں نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ‘ لارڈ میکالے کا تحریر کردہ ہندوستان کے تعلیمی نظام کے بارے میں مقالہ جو (Minutes on Indian Education) کے نام سے مشہور ہے‘ کیا چیز تھی اور کس با رے میں تھا ؟اگر اس ڈاکومنٹ پر نظر ڈالی جائے تو‘ ایک بات واضح ہوتی ہے کہ ان اقوال کے باوجود جو اوپر دیے گئے ہیں‘ میکالے ایک انتہائی ذہین ایجوکیشنسٹ اوردور اندیش تجزیہ نگار تھے اور انھوں نے اپنی انتہائی ’’بدنام رائے‘‘ کو پیش کرنے میں کوئی باک محسوس نہیں کیا ۔ لارڈمیکالے کے ’’تعلیم کے بارے میں منٹس‘‘ کا تعلق اس فنڈ کے بارے میں تھا ‘جو برٹش انڈیاکی حکومت نے اپنے عوام کی علمی استعداد بڑھانے کے لیے مختص کیا تھا ‘ مسئلہ یہ درپیش تھا کہ اس فنڈ کو کیسے بہتر طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے؟اور خاص کر تعلیم کے لیے کون سی زبان (Medium of instruction) استعمال کی جائے؟یہاں پر لوگ فوراً نتیجہ اخذ کر لیتے ہیں کہ‘ میکالے نے ایک ضدی اور مغرور سامراجی حکمران کی طرح مقامی زبانوں کے بجائے انگریزی زبان کو بطور ذریعہ تعلیم اختیار کرنے کی سفارش کردی تھی ۔

یہ نتیجہ اخذ کرنا غلط ہے کیونکہ مسئلہ یہ نہیں تھا‘ جب میکالے ہندوستان آیا تو ان کو’’ کونسل برائے تعلیم ‘‘ کا صدر بنایا گیا‘کونسل کے دس ممبر تھے اور وہ متحدہ ہند کے لیے نظام تعلیم کے بارے میں تقسیم تھے ‘5ممبران کی رائے تھی کہ‘ طریقہ تعلیم کے لیے‘سنسکرت‘عربی اور فارسی جیسی ان کلاسیکی زبانوں کو اختیار کیا جائے‘ جو پہلے سے ہندوستان میں رائج تھیں‘ لیکن یہ عوام کی زبانیں نہیں تھیں، یہ زبانیں شاہی خاندان، درباری اور شاہی ملازمین بولتے تھے یا مذہبی اشرافیہ یہ زبانیں استعمال کرتی تھی، دیگر5ممبران کا خیال تھا کہ ترقی کرنے کے لیے ذریعہ تعلیم انگریزی زبان ہونا چاہیے ‘کیونکہ نئے حکمرانوں کی زبان انگریزی تھی ۔

اس مباحثے میں مقامی زبانوں ، پنجابی ‘پشتو‘سندھی‘گجراتی‘تامل‘ بنگالی‘ مہاراشٹری وغیرہ کا ذکر ہی نہیں تھا ‘ میکالے کا ووٹ فیصلہ کن (Casting vote) تھا اور انھوں نے اپنا ووٹ انگریزی زبان کے حق میں استعمال کیا‘ اس مسئلہ پر کافی لمبی بحث ہوئی اور میکالے سے منسوب جملے جو اوپر دیے گئے ہیں‘ شاید اس بحث کے دوران بولے گئے ہوں گے ‘ایک بات واضح ہے کہ ان کے بحث کی بنیاد بہت واضح ہے اور اس کا تجزیہ غیر جذباتی اور ٹھوس بنیادوں پر استوار ہے ‘اس دلیل کی بنیاد کسی تعصب اور بے ایمانی پر مبنی نہیں ہے۔

میکالے کا خیال تھا کہ ہندوستان میں بولی جانے والی زبانیں‘ اتنی ترقی یافتہ نہیں ہیںکہ ان میں اعلیٰ سائنسی تعلیم دی جائے ‘جن زبانوںکو ذریعہ تعلیم بنانے کے لیے بحث ہورہی تھی ‘ان میں ایک طرف عربی، فارسی اور سنسکرت تھی اور دوسری طرف انگریزی تھی۔ میکالے نے صرف یہ سفارش کی تھی کہ ان زبانوں کو سرکاری فنڈ میں سے امداد نہ دی جائے کیونکہ ان زبانوں کو ہندوستان کے عوام سمجھتے ہیں اور نہ سیکھنے کی تمنا رکھتے ہیں۔

ان کی رائے تھی کہ ’’عوام کو ہماری طرف سے مالی امداد اور ترغیب کے ذریعے کسی طرز تعلیم کو اختیار کرنے پر مجبور کرنے کے بجائے‘ ذریعہ تعلیم کا انتخاب ان کی مرضی پر چھوڑ دیا جائے‘‘۔ میکالے نے بنارس کے سنسکرت کالج اور دہلی کے اسلامی کالج کو بحال رکھنے کے حق میں رائے دی ‘ان کا خیال تھا کہ مشرقی زبانوں کی ترقی اور ترویج کے لیے یہی دونوں ادارے کافی ہیں‘اپنی رائے کے حق میں دلائل دینے کے لیے انھوں نے خود انگلینڈ میں زبان کی تاریخ پر روشنی ڈالی ۔انھوں نے لکھا کہ!

’’سب سے پہلے میںجس بات کا ذکر کروںگا‘ وہ مغربی اقوام میں پندرہویں صدی کے اواخر اور سولہویں صدی کی ابتداء میں الفاظ کی از سر نو تشکیل (Revival) سے ہوئی ‘اس وقت ہر وہ چیز‘ جو پڑھنے کے قابل تھی، وہ قدیم یونانی زبان میں تھی یا قدیم رومن زبان میں تھی‘ اگر ہمارے آباء و اجداد‘ اسی طرح سوچتے اور عمل کرتے‘ جس طرح آج ہندوستان کی کمیٹی کا عمل ہے‘ اگر وہ سیسرو (Cicero)(رومن سیاستدان ‘وکیل‘ سیاسی دانشور اورفلاسفر106 BC-43 BC) ) اور ٹیسیٹس(Tacitus) (رومن سلطنت کا سینیٹر اور تاریخ دان 56 AD-117AD)) کی زبان کو نظر انداز کردیتے اگر وہ اپنی توجہ صرف اپنی سر زمین کی پرانی زبان کی طرف رکھتے اگر وہ یونیورسٹیوں میں کچھ نہ سیکھتے اور نیا کچھ نہ چھاپتے‘ بلکہ اپنا علم صرف اینگلو سیکسن داستانوں اور نارمن فرنچ کی رومانی داستانوں تک محدود رکھتے‘ تو کیا انگلینڈ اس شکل میں ہوتا جس میں آج ہے؟مور(More) اور اسشام (Ascham) کے دور کے لوگوں کے لیے یونانی اور لاطینی زبانیں ایسی تھیں جیسے آج انگریزی زبان ہندوستانیوں کے لیے ہے‘‘۔ میکالے کا باقی قصہ آیندہ۔

بشکریہ ایکسپرس