234

شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن

19 مئی اتوار کے دن ایران کے صوبہ مشرقی آذربائیجان میں ورزقان کے قریب ایک ہیلی کاپٹر کو حادثہ پیش آیا، دھند اور خراب موسم کے باعث ہیلی کاپٹر کی تلاش خاصی مشکل تھی، دشوار گزار پہاڑی علاقے بھی تھے، جنگل بھی تھا مگر ایرانیوں کے لئے اس ہیلی کاپٹر کو تلاش کرنا بہت ضروری تھا کیونکہ اس ہیلی کاپٹر میں ایران کے صدر ابراہیم رئیسی، وزیر خارجہ حسین بن عبداللہیان سمیت اعلیٰ حکام سوار تھے، پیر کی صبح ہیلی کاپٹر تلاش کر لیا گیا، پتہ چلا اس میں سوار سب لوگوں کی زندگیوں کے چراغ بجھ چکے ہیں،انا لله و انا الیہ راجعون ۔ اس حادثے سے متعلق متضاد خبریں آ رہی تھیں مگر جب مجھے ایرانی سفارت خانے میں سیاسی امور کے انچارج ہادی گلریز نے بتایا تو تصدیق کے سارے مراحل طے ہو گئے ۔یوں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی، وزیر خارجہ اور ان کے ساتھی شہید ہو گئے، اس طرح کے حادثے قدرتی طور پر بھی ہوتے ہیں اور بعض اوقات کسی سازش سے بھی، یقیناً ایرانی لوگ تحقیقات کریں گے ۔ خیر! تحقیقات سے پتہ چل جائے گا، دنیا میں کون سی بات چھپی رہتی ہے۔ ابھی کچھ دن پہلے ہی شہید ایرانی صدر ابراہیم رئیسی پاکستان آئے ہوئے تھے، انہوں نے اسلام آباد، لاہور اور کراچی کا دورہ کیا، ایرانی صدر جہاں سرکاری لوگوں سے ملے وہاں انہوں نے عوامی لوگوں سے بھی ملنا پسند کیا، وہ عوامی اجتماع سے خطاب کرنا چاہتے تھے مگر یہ نہ ہو سکا لیکن وہ تعلیمی اداروں میں ضرور گئے، ان کی اہلیہ نمل اور سویٹ ہوم گئیں، خود ابراہیم رئیسی گورنمنٹ کالج لاہور گئے، یہ وہی ادارہ ہے جہاں سے علامہ اقبال نے علم حاصل کیا تھا، ایرانی، شاعر مشرق کو اقبال لاہوری کے نام سے جانتے ہیں، یہ خاکسار بھی ایرانی سفیر کی دعوت پر ایک دو تقریبات میں شریک ہوا، پاکستان میں جتنی بھی تقریبات ہوئیں۔

ان تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے شہید ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے اسرائیل اور امریکا کو بہت رگیدا، انہوں نے مسلمان ملکوں کے غلام حکمرانوں پر بھی بہت تنقید کی، وہ جگہ جگہ فلسطینیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے نظر آئے اور استعماری طاقتوں کے خلاف کھل کر بولے۔ اب وہ دنیا سے جا چکے ہیں، کچھ دن پہلے ہی تو ان کی پرکشش شخصیت کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا تھا، اب ان کے خیالات کی حسین یادوں میں کرب کے لمحات شامل ہو گئے ہیں۔ شہید ایرانی صدر کی پرکشش اور باصلاحیت شخصیت ایران میں کئی دیگر مناصب پر فائز رہی، وہ ایران کے چیف جسٹس بھی رہے، اٹارنی جنرل بھی، جنوبی خراسان صوبہ سے اسمبلی کے رکن بھی رہے، اسی طرح کئی اور عہدوں پر فائز رہے۔ سید ابراہیم رئیسی الساداتی 14 دسمبر 1960ء کو مشہد میں پیدا ہوئے، 7 مارچ 2019ء سے یکم جولائی 2021ء تک ایران کے چیف جسٹس رہنے والے ابراہیم رئیسی 3 اگست 2021ء کو ایرانی صدر بنے، قم سے تعلیم حاصل کرنے والے ابراہیم رئیسی کے اساتذہ میں ایران کے موجودہ رہبر سید علی خامنہ ای بھی شامل ہیں۔ شہید ابراہیم رئیسی، مزار امام رضا رحمت اللہ کے بڑے امام احمد علم الہدی کے داماد تھے۔ احمد علم الہدی کی بیٹی جمیلہ کی شادی شہید ابراہیم رئیسی سے ہوئی تھی جو ایک یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں، رئیسی کی دو بیٹیاں ہیں، دونوں یونیورسٹی میں پڑھتی ہیں۔ شہید سید ابراہیم رئیسی پانچ سال کی عمر میں والد کے سایہ شفقت سے محروم ہو گئے تھے، ان کے والد سید حاجی ایک فارسی عالم دین تھے۔ جناب شہید رئیسی ابتدائی تعلیم مشہد سے حاصل کرنے کے بعد قم آ گئے، یہاں سے مزید تعلیم حاصل کی، انہوں نے موٹہاری یونیورسٹی سے قانون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی، وہ اگر زندہ رہتے تو یقینی طور پر اگلے رہبر ہوتے۔ 1981ء میں صوبہ ہمدان کے پراسیکیوٹر مقرر ہوئے اور پھر 1985ء میں اس وقت تہران منتقل ہو گئے جب انہیں تہران کا نائب پراسیکیوٹر بنایا گیا۔ شہید ابراہیم رئیسی بہت غریب پرور انسان تھے، انہوں نے خدمت کو زندگی کا شعار بنائے رکھا، ایران میں زرعی شعبے کو ترقی دینے میں بھی شہید رئیسی کا بڑا اہم کردار رہا ہے۔ شہید رئیسی زبردست تقریروں کے ماہر تھے، 2019ء میں امریکی محکمہ خارجہ نے شہید رئیسی پر پابندیاں بھی عائد کیں مگر جب وہ صدر بن کے اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں گئے تو ہاتھ میں قرآن پاک لیے زبردست تقریر کی، وہ اپنی تقریروں کے ذریعے ایک طرف ایرانی قوم کا حوصلہ بڑھاتے رہے تو دوسری طرف امت مسلمہ کو جگاتے رہے، شہید ساری زندگی استعماری طاقتوں کے خلاف لڑتے رہے، ان کی شہادت پر اقبال کا شعر یاد آ رہا ہے کہ

شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن

نہ مالِ غنیمت نہ کِشور کشائی

بشکریہ جنگ نیوزکالم