433

قومی اعزازات کا سالانہ ’’میلہ‘‘

فقیر راحموں کو شکوہ ہے کہ ’’یوم جمہوریہ‘‘ (نام سے دھوکہ مت کھائیں) کے موقع پر تقسیم کی جانے والی ایوارڈ مارکہ ریوڑیوں سے رمل علی اور  استاد چاہت فتح علی خان وغیرہ کو محروم رکھ کر ان عظیم  فنکاروں کے "فن"  کی توہین کی گئی ہے۔
 ہمارے عزیز طارق عباس بخاری نے دو دیگر افراد کے ساتھ سید قائم علی شاہ کی تصویر لگاکر انہیں ایوارڈ دیئے جانے پر احتجاج کیا ہے۔ کپتان برانڈ چپل بنانے والے پشاور کے چاچا نور دین کی تازہ ایجاد 804 نمبر کی چپل ہے۔ انہیں بھی صدارتی تمغہ حسن کارکردگی عطا ہوا ہے۔ بڑے بڑے کامریڈوں کا خیال ہے کہ یہ ایوارڈ حقیقی  حقدار کو ملا ہے۔ 
سوشل میڈیا پر زمان پارکی "امت"  کے اکائونٹس پر ایک خاتون ٹی وی اینکر کی تصویر لگاکر انہیں  ایوارڈ دیئے جانے کی جو وجہ بیان کی جارہی ہے ایسی ہی وجہ پر پوری اترنے والی ایک خاتون ماضی میں انصافیوں کی مادرِملت ثانی رہیں اور دوسری  اس ملک کی خاتون اول رہی۔ غیرت مند نونہال اس وقت صحرائوں میں گم تھے۔ ہم کوئی غلام ہیں کی اٹھتے بیٹھتے مالا جپنے والے ماضی میں مہوش حیات کو دیئے گئے تمغے کا  دفاع کرتے ثواب دارین کماتے رہے۔ 
23 مارچ کو ایوان صدر اور چاروں صوبوں کے گورنر ہائوسوں  میں تقسیم کئے جانے والے ایوارڈز کی منظوری پچھلے برس اس وقت کے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے دی تھی عین ممکن ہے کہ بعد میں اس میں کچھ ردوبدل ہوئی ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ گزشتہ برسوں کی طرح اس برس بھی سول ایوارڈز پانے والوں کی اکثریت کے عظیم کاموں سے ہم بھی دوسرے چار اور کے لوگوں کی طرح آگاہ نہیں ہیں۔ 
چند ایک اعزازات یقیناً ایسی شخصیات کو ملے ہیں  کہ خود اعزازات کو اس پر فخر محسوس ہوا ہوگا۔
 مثال کے طورپر جناب ڈاکٹر  عقیل عباس جعفری، انہیں ہم نے بچپن سے جوانی کی طرف بڑھتے ہوئے پاکستان ٹیلی ویژن کے ادبی و معلومات پروگراموں میں دیکھا سنا تھا۔ اگلے برسوں میں انہیں پڑھا اور خوب پڑھا۔ تحقیق کی دنیا کے انسان ہیں کئی درجن تحقیقی کتابوں کے مصنف ہیں۔
 مشتاق سکھیرا نامی سابق پولیس افسر کو ہلال شجاعت ملاہے ۔ یہ پنجاب کے آئی جی رہے ہیں۔ ان کی ملکی و قومی خدمات بارے تو مجھے کیا  غالباً خود انہیں بھی معلوم نہیں ہوگا البتہ جو معلوم ہے  وہ یہ کہ 2013ء کے انتخابات سے قبل موصوف ایڈیشنل آئی جی بلوچستان تھے ان دنوں انہوں نے مسلم لیگ (ن) اور کالعدم لشکر جھنگوی و کالعدم انجمن سپاہ صحابہ کے درمیان ’’سیز فائر‘‘ کا معاہدہ کروایا تھا اس معاہدہ کی وجہ سے ان کالعدم تنظیموں نے 2013ء کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) سے سیاسی تعاون فرمایا۔ 
بعدازاں مشتاق سکھیرا پنجاب کے  آئی جی پولیس بنائے گئے۔ 2014ء کے سانحہ ماڈل ٹائون میں ان کے کردار کو کوئی  اندھا بھی نظرانداز کرنے کی جرات نہیں کرسکتا۔ ماڈل ٹائون والی خدمات کے صلے میں ہی موصوف کو وفاقی  ٹیکس محتسب بنایا گیا تھا۔ ایوارڈ پانے والوں میں ان کے اسم گرامی کو دیکھ کر ماڈل ٹائون میں ماری گئی وہ دو خواتین یاد آگئیں جنہیں پولیس والوں نے ان کے منہ میں گولیاں مار کر قید حیات سے آزاد کروایا تھا۔
 ان مشتاق سکھیرا کا ہلال شجاعت بنتا تھا اگر نہ دیتے تو اگلے جہان (اگر ہوا تو) شریف برادران سے پوچھ گچھ ہونی تھی کہ ایسے خدمت گزار بندے کو ایوارڈ کیوں نہ دیا گیا۔
 فقیر راحموں کو انہیں صرف ہلال شجاعت پر ٹرخائے جانے کا دکھ ہے کہتے ہیں کہ مشتاق سکھیرا حق دار تھے کہ انہیں ہلال شجاعت کے ساتھ نشان امتیاز بھی عطا کیا جاتا۔
 طارق فاطمی کا نام ہلال امتیاز پانے والوں کی فہرست میں ہے یہ موصوف آجکل وزیراعظم کے معاون خصوصی ہیں۔ خارجہ امور کے شعبہ سے تعلق ہے ان کی ایک اہلیہ (ایک ہی ہیں) نے این جی او کے نام پر اسلام آباد میں پلاٹ لیا تھا پھر اس پر اشرافیہ کے بچوں کے لئے "درسگاہ"  کھول لی۔ خیر اس قصے کو چھوڑیں۔ ان کا  اصل تعارف دو باتیں ہیں ایک یہ کہ موصوف میاں نوازشریف کی وزارت عظمیٰ کے آخری دور میں ہونے والے اس حساس نوعیت  کے اجلاس میں خارجہ امور کے مشیر کے طور پر شریک تھے جس اجلاس کی روداد سے ’’ڈان لیکس‘‘ نے جنم لیا تھا۔ اس نام نہاد ڈان لیکس نے اجلاس میں زیرغور آئے اصل معاملات اور آرمی چیف و نوازشریف کے درمیان ہونے والی سخت کلامی کی پردہ پوشی کا کام دیا۔ 
دوسری  تعارفی وجہ یہ بتائی جاتی ہے ،  دروغ برگردنِ راوی کہ انہوں نے پی ڈی ایم کے سولہ مہینے والے اقتدار میں سعودی عرب کو بعض ایسی معلومات فراہم کیں جن کی بدولت سعودی عرب نے شریف فیملی پر دبائو ڈال کر پاک ایران سوئی گیس پائپ لائن اور گوادر میں ایران  کے تعاون سے آئل ریفائنری لگانے کے معاہدوں میں سردی گرمی پیدا کروادی۔ اس پیدا ہوئے تنازع کی وجہ سے طارق  فاطمی پر انگلیاں اٹھنے لگیں پھر منتوں ترلوں سے ایران سوئی گیس پائپ لائن معاہدہ پر عمل میں مزید مہلت دینے پر آمادہ ہوا۔
 یہی وجہ ہے کہ ایرانی سفیر ڈاکٹر رضا امیری نے چند دن قبل کہا ہے کہ گیس پائپ لائن معاہدہ میں ایک گنجائش تھی جو پاکستان پہلے ہی حاصل کرچکا ہے۔ یعنی اب یا تو پاکستان کو اپنے حصے کی گیس پائپ لائن بچھانا ہوگی یا پھر اربوں ڈالر کا جرمانہ دینا ہوگا۔ 
طارق فاطمی کو ہلال امتیاز عطا کرنے پر کم از کم  مجھے افسوس ہوا ہے۔ فواد حسن فواد کو ایوارڈ غالباً انصافی دور میں استقامت کے ساتھ تشدد اوردبائو کے ساتھ نیب مقدمات کا سامنا کرنے پر دیا گیا ہے۔ ویسے وہ گفتگو بھی سلیقے سے کرتے ہیں شاعر بھی اچھے ہیں۔
 سہیل وڑائچ کی صحافتی و جاتی امرائی خدمات اتنی زیادہ ہیں کہ ان پر ایک دو کالم کیا پورے دفتر لکھے جاسکتے ہیں۔ فقیر راحموں کے بقول اگر ان (فقیر کے) کے پاس پیسہ ہو تو وہ ان پر ایک ویب سیریز بناکر بھارتی ویب سیریز بنانے والوں کے چھکے چھڑادیں۔
 تیسرے فوجی آمر جنرل ضیاء الحق کے محبوب راجہ ظفر الحق کا ایوارڈ یقیناً شریف فیملی اور سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے مابین تعاون کے اس سمجھوتے کا حق خدمت ہے جو انہوں نے کروایا تھا اس سمجھوتے کے نتائج کو سمجھنا ہو تو افتخار چودھری دور کی سپریم کورٹ کے کردار والی فائلیں کھول کر دیکھ لیجئے۔
 عبدالقدوس بزنجو ستارہ امتیاز پانے والوں میں شامل ہیں اگر یہ وہی ہیں جو ہم سمجھے ہیں یعنی بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ تو پھر ستارہ امتیاز کی بجائے ان کا حق ہلال امتیاز کے ساتھ ہلال پاکستان بنتا تھا۔ 
افتخار عارف کا نام ایک بار پھر اعزازات حاصل کرنے والوں میں شامل ہے انہیں ا عزاز ملنے پر پیر طریقت رہبر شاعری سید فرحت عباس شاہ کے ہاں سوگ کا عالم ہے۔ خود مجھے اس پر افسوس ہے کہ فرحت عباس شاہ کی رومانی اور انقلابی شاعری کو ایوارڈ دینے والی بدذوق کمیٹی نے نظرانداز کیا کمیٹی کے ارکان (اگر واقعی ہیں تو) اور شاہ جی کے درمیان جوڈو کراٹے کا میچ رکھوالیا جانا چاہیے۔ شاہ جی جب تک ان کے کھنے نہیں سیک دیتے ان کی شاعری کے متاثرین و محبین کو قرار نہیں آنے کا۔
 جے ڈی سی والے المشہور شتر مرغ کے گوشت سے سحری کروانے والے ظفر عباس کو بھی سماجی خدمات پر اعزاز دیا گیا ہے۔ ایوارڈ جگن کاظم کو بھی ملا ہے اور  غریدہ فاروقی کو بھی۔ ہمارے ملتانی دوست استاد کامریڈ قاری منیرالحسینی نقشبندی لبرل و سوشلسٹ وغیرہ وغیرہ کو ان کی سماجی خدمات اورسوشل میڈیائی  مصروفیات کے باوجود ایوارڈ نہ دینا ظلم عظیم ہے کبھی اگر سرائیکی وسیب الگ صوبہ بنا تو انشاء اللہ استاد کو سب سے پہلے ’’نشان فیس بک‘‘ عطا کیا جائے گا۔ 
معروف صحافی فاروق عادل کو ایوارڈ ملنے کی خوشی ہوئی۔ قدیم قلم مزدوروں کی بچی کھچی نشانیوں میں ہیں۔ سول اعزازات پانے والوں کی ایک لمبی فہرست ہے۔ مفتی عبدالشکور مرحوم کو دیا گیا اعزاز یقیناً ان کی فرقہ وارانہ خدمات اور انسانیت دشمن بعض تقاریر پر عطا ہوا ہوگا۔
 قصہ مختصر سالانہ ایوارڈ پروگرام کی ساکھ کبھی نہیں تھی ہر گزرنے والے برس کے ساتھ یہ  مزید دم توڑتی جارہی ہے۔

بشکریہ اردو کالمز