196

جمہوریت یا سول مارشل لا؟

اچھی کتاب وہ ہوتی ہے جو مایوسی کے اندھیروں میں امید کی شمع روشن کر دے اور اپنے قاری کے عزم و ولولے کو تازہ کر دے۔ پاکستان کے معروف قانون دان جناب ایس ایم ظفر صاحب کی نئی کتاب ’’پارلیمنٹ بنام پارلیمنٹ‘‘ بھی ایک ایسی ہی کتاب ہے جس میں آج کے پاکستان کے تمام آئینی و سیاسی مسائل کا حل موجود ہے اور یہ کتاب ان تمام ارکان پارلیمنٹ کے ضمیر کو بیدار بھی کر سکتی ہے جن کا ضمیر اقتدار کے نشے کے باعث غنودگی میں ہے۔ بظاہر تو یہ کتاب قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ کے ارکان کیلئے ایک گائیڈ ہے لیکن عام پاکستانیوں کیلئے نادر معلومات کا ایک خزانہ ہے جن کی روشنی میں وہ ارکان پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں کی کارکردگی کا ناقدانہ جائزہ لے سکتے ہیں۔ کتاب کے آغاز میں ایس ایم ظفر صاحب نے ارکان پارلیمنٹ کے حلف کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کی مثال دی ہے۔ جب قائد اعظم ؒکو بطور گورنر جنرل گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935ء کے مطابق حلف اٹھانے کیلئے کہا گیا تو انہوں نے حلف لینے سے انکار کر دیا۔ انہیں حلف کے ان الفاظ پر اعتراض تھا کہ ’’میں بطور گورنر جنرل تاج برطانیہ کا وفادار رہوں گا‘‘ قائداعظم ؒکے اصرار پر حلف کے الفاظ تبدیل کئے گئے کہ ’’میں پاکستان کے آئین جو قانونی طور پر نافذ العمل ہو گا اس کا وفادار رہوں گا‘‘

آگے چل کر پاکستان کی قانون ساز اسمبلی میں بانی پاکستان کی گیارہ اگست 1947ء کی مشہور تقریر کا ذکر آتا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ’’پاکستان میں آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جائیں، اپنی مسجد میں جائیں یا کسی اور عبادت گاہ میں، آپ کا کسی مذہب، ذات پات یا عقیدے سے تعلق ہو، کاروبار مملکت کا اس سے کوئی واسطہ نہیں۔ قائد اعظم ؒکی اس تقریر کا بلیک آئوٹ کرنے کیلئے اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ نے ایک پریس ریلیز تیار کی۔ ڈان کے ایڈیٹر الطاف حسین نے اس پریس ریلیز کو مسترد کر دیا اور دھمکی دی کہ وہ معاملہ قائداعظمؒ تک لے جائیں گے اور یوں یہ پریس ریلیز واپس لے لی گئی۔ اس پریس ریلیز کی تفصیل بیان کرنے کیلئے ایس ایم ظفر صاحب نے نامور صحافی ضمیر نیازی صاحب کی کتاب PRESS IN CHAINS کا حوالہ دیا ہے۔ اس کتاب میں ایک ایسا واقعہ درج ہے جو آج کے پاکستان کے حوالے سے بڑا اہم ہے۔ ضمیر نیازی صاحب نے لکھا ہے کہ 1949ء میں سندھ کے وزیر اعلیٰ ایم اے کھوڑو کو نااہل قرار دیا گیا تو انہوں نے اپنی نااہلی کے خلاف ایک درخواست دائر کی۔ عدالت میں ٹرائل شروع ہوا تو ایک نوجوان بیورو کریٹ آغا شاہی کو بطور گواہ بلایا گیا۔ آغا شاہی نے عدالت کو بتایا کہ ایک دفعہ وہ گورنر جنرل قائداعظمؒ کے پاس ایک آرڈیننس کے ڈرافٹ پر دستخط کرانے کیلئے گئے۔ اس آرڈیننس کےتحت پولیس کو کسی مقدمے یا ٹرائل کے بغیر گرفتاری کا اختیار دیا جانا تھا۔ قائداعظم ؒنے فائل پڑھی تو غصے میں آ گئے اور کہا ’’میں تمام زندگی ایسے سیاہ قوانین کے خلاف لڑتا رہا ہوں آج تم چاہتے ہو میں اس پر دستخط کر دوں، نہیں میں ایسا نہیں کر سکتا‘‘۔ ایس ایم ظفر نے اپنی اس کتاب میں رولٹ ایکٹ کے خلاف متحدہ ہندوستان کی قانون ساز اسمبلی سے قائداعظم ؒ کے استعفے کی وجہ ایسے ہی سیاہ قانون کو قرار دیا ہے جس کے تحت ٹرائل کے بغیر گرفتاری کا اختیار دیا جا رہا تھا۔ جس قانون کو قائداعظمؒ نے مسترد کر دیا اس قانون کو پاکستان کے پہلے فوجی ڈکٹیٹر جنرل ایوب خان نے ایم پی او کے نام سے نافذ کر دیا اور ستم ظریفی دیکھئے کہ کسی جمہوری حکومت نے اس سیاہ قانون کو ختم نہیں کیا۔ آج 2023ء میں اس سیاہ قانون کے تحت سیاسی کارکنوں اور صحافیوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے اور انکی سیاسی وفاداریاں تبدیل کرائی جا رہی ہیں۔ ’’پارلیمنٹ بنام پارلیمنٹ‘‘ میں ریاست کے تین ستونوں مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کے اختیارات کے ساتھ ساتھ چوتھے ستون میڈیا کی ذمہ داریوں کو بھی بیان کیا گیا ہے جو پارلیمنٹ کی پریس گیلری میں موجود ہوتا ہے۔ پریس کو چوتھا ستون تھامس کارلائی نے قرار دیا تھا۔ ایس ایم ظفر نے ’’مملکت کا چوتھا ستون؟‘‘ کے عنوان سے اپنی کتاب کے 18ویں باب میں قائداعظمؒ کی ایک تقریر کا حوالہ دیا ہے جس میں انہوں نے کہا ’’ریاست ان صحافیوں کی حفاظت کرے جو اپنے فرائض دیانتداری سے ادا کر رہے ہیں اور مشکل حالات میں عوام اور حکومت دونوں کی قابل قدر خدمت کر رہے ہیں‘‘ ایس ایم ظفر صاحب نے یہ بھی لکھا ہے کہ جب سے میڈیا اور سوشل میڈیا کی تفریق ختم ہوئی تو میڈیا کا چوتھے ستون کے طور پر مقام متنازعہ ہو گیا ہے اور میڈیا وار میں جھوٹ عام ہو گیا ہے اسلئے فیک نیوز کو روکنے کیلئے قانون سازی کی ضرورت ہے۔

اس کتاب میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سیاسی جماعت کیا ہوتی ہے؟ سیاسی جماعتوں کو جمہوری اصولوں پر منظم کیا جانا چاہئے لیکن افسوس کہ پاکستان میں ایسا نہ ہوا۔ ایس ایم ظفر صاحب نے سیاسی جماعتوں کی کئی غلطیوں کی نشاندہی کی ہے جن کی وجہ سے غیر سیاسی قوتوں نے فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ہر سیاسی جماعت کو انٹرا پارٹی الیکشن کرانا چاہئے اور اپنے مالی ذرائع کے ماخذ کا حساب فراہم کرنا چاہئے۔ ایس ایم ظفر صاحب فیلڈ مارشل ایوب خان کے صدارتی نظام حکومت میں چار سال تک وزیر قانون رہے لیکن وہ پاکستان میں صدارتی نظام کے سخت مخالف ہیں۔ اپنی نئی کتاب میں انہوں نے کہا کہ 1973ء کے آئین کے تحت پارلیمانی نظام پر پاکستان میں قومی اتفاق رائے ہے یہ نظام صرف ان ممالک میں چل سکتا ہے جہاں صوبے چھوٹے اور بہت زیادہ ہوں۔ امریکہ میں صدارتی نظام چل سکتا ہے جہاں وفاق کی پچاس اکائیاں ہیں، چار اکائیوں والے پاکستان میں صدارتی نظام نہیں چل سکتا۔ شاہ صاحب نے ارکان پارلیمنٹ کو یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ بلیم گیم اور گالی گلوچ میں فرق ہے۔ ارکان پارلیمنٹ اپنی تقریروں اور قراردادں میں ایک دوسرے کو ’’غدار‘‘ ’’چور‘‘ اور ’’ڈاکو‘‘ نہ کہا کریں کیونکہ یہ غیر پارلیمانی الفاظ ہیں اور ان الفاظ کا استعمال غیر پارلیمانی رویوں کو جنم دیتا ہے۔ ایس ایم ظفر صاحب نے سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے والوں پر بھی تنقید کی ہے لیکن ان کے خیال میں سپریم کورٹ کے فیصلوں سے یہ رجحان ختم نہیں ہو گا اس کیلئے ضروری ہے کہ سیاسی جماعتوں میں جمہوری کلچر فروغ دیا جائے اور تمام فیصلے مشاورت سے کئے جائیں۔ سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کو ڈکٹیٹر بنانا مسئلے کا حل نہیں ہے۔ ارکان پارلیمنٹ کو انکی ذمہ داریوں کا احساس دلاتے ہوئے ایس ایم ظفر نے وارننگ دی ہے کہ ایک جمہوری ریاست کو آمرانہ ریاست نہ بننے دیں جہاں سب ایک دوسرے پر غلبہ پانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایس ایم ظفر صاحب کی کتاب پڑھ کر میں سوچ رہا ہوں کہ آج پاکستان کو 1973ء کے آئین کےتحت چلایا جا رہا ہے یا ایم پی او کےتحت چلایا جا رہا ہے؟ جس سیاہ قانون پر بانی پاکستان نے دستخط کرنے سے انکار کیا آج وہ سیاہ قانون ایک جمہوری حکومت کی سب سے بڑی طاقت کیوں بن گیا ہے؟ ارکان پارلیمنٹ کو خواب غفلت سے جگانے کیلئے ایس ایم ظفر صاحب نے اپنا کردار ادا کر دیا ہے۔ انہوں نے سینٹ میں اپنی آخری تقریر میں کہا تھا کہ میڈیا کو ’’جاگتے رہو‘‘ کا فریضہ ادا کرنا ہے ہم نے جاگتے رہو کا پیغام آپ تک پہنچا دیا ہے۔ جاگئے کیونکہ قائداعظمؒ کا پاکستان اگر ایم پی او سے چلایا گیا تو پھر یہ جمہوریت ایک سول مارشل لا کہلائے گی۔

بشکریہ جنگ نیوزکالم