203

سیاست کپتان کے بس کی بات نہیں

ہم پہلے بھی کہتے رہے اوراب بھی کہتے ہیں کہ سیاست عمران خان جیسے لوگوں کے بس کی بات نہیں،جولوگ سیاست میں ملک کی بقاء اورسلامتی تک کوبھول جائیں ایسے لوگوں کوسیاستدان نہیں شیطان کہاجاتاہے۔پاکستان جیسے کلمہ کے نام پربننے والے ملک کی بقاء اورسلامتی پرمرمٹنا،تن،من اوردھن تک قربان کرنایہ توایمان کاحصہ ہے۔کوئی شہری پھرکوئی مسلمان اپنے ملک اوروطن کی بقاء وسلامتی سے غافل کیسے رہ سکتاہے۔؟اپنی سیاست،اقتداراورکرسی کے لئے عمران خان جہاں تک گئے اسے کسی بھی طورپراس نہج اورمقام تک نہیں جاناچاہئیے تھا۔نومئی کے واقعات اوربے غیرتی میں تحریک انصاف کے کارکن اورکپتان کے کھلاڑی ملوث ہیں یانہیں۔؟یہ نہ ہماراسوال ہے اورنہ موضوع۔ایسے سوالوں کے جواب ڈھونڈناجن کاکام ہے وہ ان سوالوں کے جواب بھی ڈھونڈیں گے اوراس سے جڑے سارے کرداربھی۔ویسے ایک منٹ کے لئے اگرمان بھی لیاجائے کہ نومئی کے واقعات میں کپتان اورکپتان کے کھلاڑیوں کاکوئی ہاتھ نہیں تب بھی یہ سوال تو پیداہوتاہے کہ کیافوج کے خلاف بیانیہ بنانے اورنشانے پررکھنے میں کپتان اورکپتان کے کھلاڑیوں کاہاتھ نہیں۔۔؟اقتدارکی گلی سے رخصتی اوروزارت عظمیٰ سے محرومی کے بعدکیاکپتان اورکپتان کے کھلاڑیوں نے فوج کونشانے پرنہیں رکھا۔۔؟فوج توکسی ایک جنرل یاچندجرنیلوں کانام نہیں۔فوج توان لاکھوں جوانوں کانام ہے جو75سال سے جان ہتھیلی پررکھ کرپہاڑوں،بیابانوں،گھنے جنگلات،چٹیل میدانوں اورویرانیوں میں ملک کی بقاء وسلامتی کے لئے اپناخون بہا رہے ہیں۔کپتان اورکپتان کے کھلاڑیوں کااگرکسی ریٹائرڈجنرل اورکرنل سے کوئی سیاسی اورذاتی مسئلہ تھایاہے تواس میں ان لاکھوں فوجیوں اورقوم کے عظیم مجاہدوں کاکیاقصور۔؟باجوہ کے بغض اورفیض کی محبت میں پوری فوج کونشانے پررکھتے ہوئے عمران خان اوران کے کھلاڑی یہ بھی بھول گئے کہ اس ملک کے اندریوتھیے آزادی کی جوسانسیں لے رہے ہیں،راتوں کو بے خوف وخطرہوکرچین وسکون کی جونیندسورہے ہیں،اس کے پیچھے یہی فوج ہے۔یہ فوج اگر نہ ہوتی تومعلوم نہیں کہ آج اس ملک اوراس میں رہنے والے ان یوتھیوں کاکیاانجام اورکیاحشرہوتا۔؟اپنی سیاست کے لئے جس فوج کونشانے پررکھاگیااسی فوج کے جوان راتوں کوجاگتے ہیں توتب ہی ہم چین وسکون کی نیندسوتے ہیں۔پاک فوج کے لاکھوں جوان یہ صرف اس ملک اوروطن کے چوکیدارنہیں بلکہ یہ ہم سب کے محافظ بھی ہیں۔مہذب معاشروں اورترقی یافتہ ممالک میں اپنے محافظوں کے ساتھ ایساسلوک تو نہیں کیاجاتا۔ہمارے سیاستدانوں باالخصوص عمران خان نے اپنی سیاست اورمفادات کے لئے پاک فوج کوجس طرح نشانہ بنایاوہ قابل افسوس ہی نہیں بلکہ قابل مذمت ومرمت بھی ہے۔سیاست اس ملک کے اندرنوازشریف،آصف علی زرداری،سراج الحق،مولانافضل الرحمن اورچوہدری شجاعت نے بھی کی اورکربھی رہے ہیں لیکن انہوں نے اپنی سیاست اوراقتدار کے لئے فوج کوکبھی اس طرح نشانہ تو نہیں بنایا۔سیاستدان یہ تو اقتداروحکومت میں آتے رہتے ہیں۔اس کایہ مطلب تو نہیں کہ اقتدارکی گلی سے نکلتے ہی پھرپاک فوج کونشانے پررکھ لیاجائے۔ کیانوازشریف کوعمران خان سے بھی زیادہ برے طریقے سے اقتدارکی گلی سے نہیں نکالاگیا۔عمران خان اب فرمارہے ہیں کہ نومئی کے واقعات میں ہماراکوئی کردارنہیں،کوئی تواس صاحب سے پوچھے کہ اقتدارہاتھ سے جانے کے غم میں فوج کوباقاعدہ اپنے ایک فریق کے طورپرکس نے پیش کیا۔؟وزیراعظم بننے کے خواب کوپوراکرنے کے لئے پہلے جنرل باجوہ کویوتھیوں کاباپ بنایالیکن جب اپنی غلطیوں،کوتاہیوں اوراناء کی وجہ سے حکومت ہاتھ سے گئی توپھراس باپ کے ساتھ پوری فوج کوبدنام کرناشروع کردیا۔باپ اوربیٹوں کے معاملے ومسئلے میں پوری فوج کوگھسیٹنے اورنشانہ بنانے کی کیاضرورت تھی۔؟نومئی کاواقعہ تواصل میں اسی دن رونماہوچکاتھاجب کپتان اورکپتان کے کھلاڑیوں نے اقتدارسے محرومی کابدلہ لینے کے لئے پوری فوج کواپنے نشانے پررکھا۔پاک فوج کے خلاف سوشل میڈیاپرکیاکیاٹرینڈنہیں چلائے گئے،جوکام بھارت جیسے اذلی دشمن بھی ستر75سال میں نہیں کرسکے وہ کام بھی یوتھیوں اوران کے بھگوان نے ایک سال میں کردیئے۔کپتان اوریوتھیوں کااصل دشمن توامریکہ تھاانہوں نے توگوروں سے آزادی لینی تھی پھرنومئی کویہ کورکمانڈرہاؤس اورفوجی تنصیبات پرکیوں چڑھ دوڑے۔؟ان کے بارے میں مولانافضل الرحمن جن خدشات اورتحفظات کااظہارفرمارہے ہیں کہیں اصل مسئلہ اوراصل کہانی وہی تونہیں۔؟اس ملک اورقوم کی رتی برابرمحبت بھی جس دل میں ہوگی وہ پاک فوج کی طرف شک کی نگاہوں سے کبھی نہیں دیکھے گا۔کپتان اوریوتھیوں کے دل اگرملک وقوم کی محبت سے کوٹ کوٹ کربھرے ہیں توپھران کوفوج سے کیامسئلہ اورکیاپریشانی ہے۔؟پاک فوج سے مسئلہ اورپریشانی توانہی کوہوسکتی ہے جوغیروں کے آلہ کارہوں۔نومئی کے واقعات پرہردل زخمی اورہرآنکھ پرنم ہے۔قوم تاریخ کایہ سیاہ دن کبھی نہیں بھول پائے گی۔ان واقعات اوراس سازش میں جوبھی لوگ ملوث ہیں چاہے وہ اپنے ہیں یابیگانے سب کو انصاف کے کٹہرے میں لاناہوگا۔ملک اورقوم کی بقاء وسلامتی یہ سیاست کیا۔؟ہرچیزسے بالاوبرترہے۔یہ ملک وقوم ہے تویہاں سیاست اورخباثت ہوگی۔اللہ نہ کرے اگر یہ ملک وقوم نہ رہے توپھرعمران خان اوران کے یوتھیے کہاں اورکس پرسیاست وخباثت کریں گے۔؟ویسے ایک گرفتاری پرکپتان اوریوتھیوں نے اس ملک کے اندرجوکھیل کھیلاہے اس سے نہیں لگتاکہ کپتان اورعقل ودماغ سے خالی ان کے یوتھیے سیاست کے کوئی اہل یاقابل ہیں۔سیاست وہی لوگ کرتے ہیں جن میں عقل وشعورہوجن لوگوں میں عقل وشعورنام کی کوئی چیزنہ ہووہ پھرسیاست نہیں اس طرح کی خباثت ہی کریں گے۔ماناکہ عمران خان بڑے لیڈربھی ہوں گے اورلاکھوں یوتھیوں کے قائدبھی لیکن معذرت کے ساتھ کپتان سیاست کے لائق نہیں کیونکہ سیاستدان کاکام ملک بچاناہوتاہے جلانانہیں۔

 

بشکریہ اردو کالمز