124

’’بس بھئی بس‘‘ والی فضا

یہ کالم لکھنے سے قبل میں نے سوشل میڈیا پر چڑھائی ایک کلپ غور سے دیکھی۔عمران خان نے اسے اسلام آباد روانہ ہونے سے قبل ریکارڈ کروایا تھا۔بنیادی طورپر اس کلپ میں ریکارڈ ہوئی گفتگو افواج پاکستان کے ترجمان ادارے کی جانب سے پیر کی سہ پہر جاری ہوئے ایک بیان کا ردعمل تھا۔ جو بیان جاری ہوا وہ ایک حوالے سے سابق وزیر اعظم کو متنبہ کرنے کے مترادف تھا۔ 

گزشتہ برس کے نومبر میں لاہور سے راولپنڈی تک لانگ مارچ کے دوران وزیر آباد میں خود پر ہوئے قاتلانہ حملے کے بعد عمران خان تواتر سے آئی ایس آئی کے ایک اہم ترین افسر کو اس کا ذمہ دار ٹھہرارہے ہیں۔پیر کے روز جاری ہوئے بیان نے مذکورہ الزام افواج پاکستان کو ’’بدنام‘‘ کرنے کے مترادف ٹھہرایا ہے۔

خود پر ہوئے حملے کے بعد عمران خان صاحب نے مذکورہ افسر کا نام ایف آئی آر میں ڈلوانے کی کوشش بھی کی تھی۔تحریک انصاف کی حمایت کی بدولت چودھری پرویز الٰہی ان دنوں پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے۔ ان کے وزیر اعلیٰ ہوتے ہوئے بھی پنجاب پولیس مگر عمران خان کی خواہش کے مطابق ایف آئی آر درج نہ کرپائی۔ تحریک انصاف کے بانی مصر رہے کہ پنجاب پولیس مذکورہ افسر سے خوفزدہ ہوگئی۔پیر کی رات ہی مگر چودھری پرویز الٰہی نے ہماری محترم ساتھی مہر بخاری کو ٹی وی انٹرویو دیا۔ اس کے دوران مربیانہ انداز میں سمجھاتے ر ہے کہ عمران خان کی خواہش کے مطابق ایف آئی آر اس وجہ سے درج نہ ہو پائی کیونکہ حاضر سروس فوجی افسران یا ججوں کے خلاف ایسی کارروائی نہیں ہوتی۔

پنجاب اسمبلی کی تحلیل کے بعد پرویز الٰہی اپنے حصے میں آئی مسلم لیگ (ق) کو تحریک انصاف میں ضم کرچکے ہیں۔ان کے اقدام سے خوش ہوکر عمران خان نے انہیں تحریک انصاف کا صدر بھی نامزد کردیا ہے۔’’اندر خانے‘‘ امید چودھری صاحب کو یہ بھی دلائی گئی ہے کہ پنجاب اسمبلی کے انتخابات جب بھی ہوئے تحریک انصاف ان کی بدولت ا کثریت کے حصول میں کامیاب ہوجائے گی۔متوقع اکثریت مل جانے کے بعد چودھری پرویز الٰہی ہی کو وزیر اعلیٰ نامزد کردیا جائے گا۔ تحریک انصاف کے ’’پرانے‘‘ لوگوں میں سے شاہ محمود قریشی،فواد چودھری اور حماد اظہر پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے امیدوارں کی فہرست میں شامل تصور ہوتے رہے ہیں۔ ان تینوں کو مگر عمران خان نے پنجاب کے انتخاب میں حصہ لینے سے روک دیا ہے۔ چودھری پرویز الٰہی کیلئے راستہ گویا ’’صاف‘‘ رکھا گیا ہے۔ایسی ’’شفقت‘‘ کے باوجود پیر کی رات اپنے ٹی وی انٹرویو کے دوران پرویز الٰہی عمران خان کے اس دعوے کی تصدیق کو آمادہ نہ ہوئے کہ پنجاب پولیس آئی ایس آئی کے مبینہ دبائو کی وجہ سے سابق وزیر اعظم کی منشا کے مطابق ان پر ہوئے حملے کی بابت ایف آئی آر درج نہیں کر پائی تھی۔

قضیہ بہرحال فقط وزیر آباد میں ہوئے حملے پر ہی ختم نہیں ہوتا۔ عمران خان گزشتہ کئی ہفتوں سے یہ دعویٰ بھی دہرائے چلے جارہے ہیںکہ وہ جب ایک مقدمے میں پیش ہونے اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس آئے تو انہیں قتل کروانے کی ایک اور کوشش ہوئی۔ مبینہ کوشش کا الزام بھی وہ اسی افسر کے سر رکھ رہے ہیں جس کے خلاف ایف آئی آر درج کروانے میں ناکام رہے تھے۔عمران خان کا دعویٰ تھا کہ مبینہ طورپر ان کی جان کے پیچھے پڑے افسر کے ماتحت چند اہلکارسی ٹی ڈی پولیس کی وردیاں اور وکلا سے مختص کالے کوٹ پہنے جوڈیشل کمپلیکس پر ’’قابض‘‘ ہوچکے تھے۔منصوبہ تھا کہ عمران خان سے اظہار یکجہتی کے لئے وہاں آئے تحریک انصاف کے کارکنوں کی پولیس سے جھڑپیں ہوں تو ’’ہنگامہ آرائی‘‘ کے دوران سابق وزیر اعظم پر ایک اور حملہ کردیا جائے۔عمران خان مگر اپنی بلٹ پروف گاڑی اور حفاظتی دستے کے بنائے حصار سے باہر ہی نہیں آئے۔ متعلقہ جج نے ان سے متعلق مقدمے کی فائل عمران خان کو بھجوادی۔ اس فائل پر دستخط کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نے ’’عدالت میں پیش ہونے‘‘ والی ’’حاضری‘‘ لگادی۔ ایسی ’’حاضری‘‘ کا اہتمام ہماری عدالتی تاریخ میں پہلی بار ہوا۔عمران خان اس کے باوجود مطمئن نہیں ہوئے۔

پیر کی سہ پہر آئی ایس پی آر سے جاری ہوا بیان عندیہ دے رہا تھا کہ عمران خان کی جانب سے افواج پاکستان کے اہم ترین ادارے کے کلیدی افسر پر تکرار سے لگائے الزامات نے اب عسکری قیادت کے لئے ’’بس بھئی بس…‘‘ والی فضا بنادی ہے۔ عمران خان مگر اپنی سوچ سے رجوع کرنے کو تیار نہیں۔منگل کی صبح اسلام آباد روانہ ہونے سے قبل ان کی جانب سے نشر کروایا بیان بلکہ عندیہ دے رہا ہے کہ پیر کے روز جاری ہوئے بیان نے انہیں مزید مشتعل کردیا ہے۔وہ بضد ہیں کہ وزیر آباد کے بعد اسلام آباد میں عدالتی پیشی کے دوران بھی ان کی جان لینے کی کوشش ہوئی تھی۔ اس ضمن میں انہوں نے کئی تفصیلات بیان کی ہیں جو ’’چارج شیٹ‘‘ سنائی دیتی ہیں۔

جو قضیہ شروع ہوا ہے اسے اب زیادہ دیر تک لٹکائے رکھا نہیں جاسکتا۔عمران خان نے جو تفصیلات منگل کی صبح ریلیز ہوئی کلپ کے لئے ریکارڈ کروائی ہیں ان کو درست ثابت کرنے کے شواہد بھی ان کے پاس موجود ہوں گے۔ وہ اگر واقعتا اس ضمن میں صاف شفاف تحقیق کے طلب گار ہیں تو انہیں اب ان شواہد کو کسی نہ کسی صورت منظر عام پر لانا ہوگا۔ شواہد برسرعام لائے بغیر اگر وہ اپنی کہانی پر ڈٹے رہے تو عسکری ادارہ اپنی ساکھ کے تحفظ کیلئے مجبور ہوجائے گا کہ وزارت دفاع کے ذریعے موجودہ حکومت کو عمران خان کے عائد کردہ الزامات کی جانچ کو اُکسائے۔ شہباز حکومت کی ایما پر بنایا ’’انکوائری کمیشن‘‘ مگرعمران خان کوقبو ل نہیں ہوگا۔ دلوں کی الجھنیں یوں بڑھتی رہیں گی۔

معاملات سلجھانے کا ایک راستہ میری دانست میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عمران خان کے پاس اگر اپنے الزامات کو سچا ثابت کرنے کے شواہد موجود ہیں تو وہ انہیں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے چیمبر میں ’’اِن کیمرہ‘‘ انداز میں پیش کردیں۔ موجودہ چیف جسٹس صاحب پر سابق وزیر اعظم کو کامل اعتماد ہے۔ وہ ان کی حمایت میں ریلیاں بھی نکال رہے ہیں۔ یہ عزت مآب چیف جسٹس ہی اگر عمران خان صاحب کے فراہم کردہ ثبوتوں سے مطمئن ہوجائیں تو ازخود نوٹس لے کر ’’دودھ کا دودھ‘‘ والے انصاف کی کوئی راہ نکال سکتے ہیں۔ یہ راہ دریافت نہ ہوئی تو عمران خان اور عسکری ادارے کے مابین تکرار محض لفظی نہیں رہے گی۔ براہِ راست مخاصمت کی صورت اختیار کرنا شروع ہوجائے گی۔

بشکریہ نواےَ وقت