180

کروڑوں کی کوڑیاں

رات ایک انٹرویو میں خان صاحب نے یہ انکشاف فرمایا کہ جنرل باجوہ نے انہیں دو سال تک ٹرک کی بتّی کے پیچھے لگائے رکھا (اور وہ لگے رہے)۔ 

باجوہ صاحب پر سخت افسوس ہے۔ انہوں نے ایک ایسے مہاتما کے ساتھ واردات کی جو عالم اسلام کی قیادت پر فائز ہے۔ عالم اسلام کو صدیوں بعد ایسا ’’وژنری‘‘ لیڈر یعنی دیدہ بینا رکھنے والا قائد، اتنی مشکل سے ملا اور باجوہ صاحب نے اسی کو بتّی کے پیچھے لگائے رکھا اور وہ بھی پورے دو سال ؟۔ سخت سے سخت مذمت باجوہ صاحب کی کی جانی چاہیے۔ 

خان صاحب کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ وہ دیوار کے پیچھے بھی دیکھ لیتے ہیں۔ شاید اسی وجہ سے وہ بتّی کا معاملہ نہیں سمجھ سکے کیونکہ بتّی دیوار کے اس پار نہیں تھی بلکہ ’’اُرلی‘‘ طرف تھی۔ باجوہ صاحب نے اسی بات کا فائدہ اُٹھایا۔ 

٭٭٭٭٭

اسی انٹرویو میں خان صاحب نے باجوہ صاحب پر کچھ ہی دن پہلے لگائے جانے والے الزام کو بھی واپس لے لیا۔ یہ ان کی کشادہ دلی اور وسیع الظرفی ہے۔ الزام یہ تھا کہ انہیں اسمبلیاں توڑنے کا مشورہ باجوہ صاحب نے دیا اور انہوں نے یعنی خان صاحب نے ان کا مشورہ مان لیا۔ تازہ انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اسمبلیاں توڑنے کا فیصلہ میں نے خود کیا اور بہت دیر تک سوچ سمجھ کر کیا اور میں نے اپنے ارکان اسمبلی کو بھی بتا دیا تھا کہ لوگ مسائل کا ذمہ دار ہمیں سمجھتے ہیں، ہمارا ووٹ بنک خراب ہو رہا تھا چنانچہ میں نے اسمبلیاں توڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بڑے آدمی کا ایک اور بڑا فیصلہ ۔ افسوس کی بات ہے کہ ناشکر گزار لوگ ایک عظیم وژنری لیڈر کے ہر وژنری فیصلے کو یوٹرن قرار دیتے ہیں۔ 

٭٭٭٭٭

آگے چل کر خان صاحب نے بشریٰ بیگم جو جگن پیرنی اور مرشد کے نام سے مشہور رہیں، کو شاندار خراج تحسین و عقیدت پیش کیا۔ اپنی ان اہلیہ محترمہ کے بارے میں انہوں نے فرمایا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی میں ایسی نیک متقی پرہیز گار اور ولی صفت خاتون نہیں دیکھیں۔ انہیں دنیا سے کوئی رغبت نہیں۔ 

خان صاحب کے اس دعوے پر شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ بشریٰ بیگم کچھ ہی عرصہ قبل اس دعوے کی صداقت کو ثابت کر چکی ہیں جب انہوں نے تحفے میں ملنے والے قیمتی تحائف ازقسم ہار، نیکلس، گھڑی وغیرہ گھر میں رکھنے کے بجائے کوڑیوں کے بھائو بازار میں بیچ دئیے تھے۔ ’’کوڑیوں‘‘ کا لفظ استعمال کرنے پر آپ چونکیے مت۔ فی زمانہ مہنگائی اتنی بڑھ گئی کہ ایک کروڑ ایک کوڑی کا ہو گیا۔ یوں کہہ لیجئے کہ ساٹھ ستر کوڑیاں کل ملا کے انہوں نے کما لیں۔ روکھی سوکھی کھانے کے لئے اتنی کوڑیوں پر ہی گزارا کیا۔ 

خان صاحب کے فرمان سے یہ بات بھی مظہر ہوئی کہ ولی صفت متقی پرہیز گار خواتین خان صاحب کی زندگی میں بہت آئیں لیکن اس پائے کی کبھی نہیں آئی جس پائے کی بشریٰ بیگم ہیں۔ 

بشریٰ بیگم کے بلند پایہ ہونے کی بابت وہ چند سال قبل بھی ایک ٹی وی انٹرویو میں بتا چکے ہیں۔ تب انہوں نے بتایا تھا کہ الشیخ اکبر محی الدین محمد ابن العربی اور مثنوی معنوی والے مولانا روم کا علم کل ملا کر جتنا بنتا ہے، اس سے کئی سو گنا زیادہ علم بشریٰ بی بی کے پاس ہے۔ 

حیرت ہے، کل جہاں کا علم رکھنے والی مرشدانی گھر میں تھی اور خان صاحب باجوے صاحب کی بتّی کے پیچھے لگ گئے۔ شاید یہ بھی کوئی روحانیاتی رمز ہو! 

٭٭٭٭٭

بشریٰ بی بی ولی صفت ہونے کے ساتھ ساتھ ازحد سادہ لوح بھی ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ان کی سادہ لوحی والی آڈیو بھی وائرل ہوئی تھی۔ ایک پراپرٹی ٹائیکون نے ان کے تقوے اور پرہیز گاری سے متاثر ہو کر انہیں تین قیراط کے ہیرے والی انگوٹھی کا حقیر نذرانہ پیش کیا۔ آپ اتنی سادہ لوح تھیں کہ اس تین قیراط کی انگوٹھی کو بہت مہنگا سمجھ کر واپس کر دیا اور کہا، اتنی قیمتی شے رکھنے کی مجھے کوئی ہوس نہیں ہے، مجھے تو بس پانچ قیراط والی انگوٹھی چاہیے ۔ پراپرٹی ٹائیکون اس سادہ لوحی سے بہت متاثر ہوئے اور خواہش کا احترام کرتے ہوئے پانچ قیراط والی انگوٹھی ہدیے میں دے دی۔ 

امام شامل کی سادہ لوحی یاد آ گئی۔ انہوں نے روس کیخلاف جہاد کر رکھا تھا۔ بہت سے روسی فوجی آپ نے قیدی بنا لئے۔ زارروس نے کہا، پانچ ہزار روبل لے لو، اور قیدی چھوڑ دو۔ امام شامل نے کہا، مجھے پانچ ہزار پر مت ٹالو، 5 سو سے کم ایک روبل نہیں لوں گا۔ امام شامل کو گنتی نہیں آتی تھی، وہ سو کو سب سے بڑا ہندسہ سمجھتے تھے، بالکل ویسے ہی محترمہ 3 کو بڑا اور پانچ کو چھوٹا ہندسہ سمجھتی ہوں گی۔ ایسے اللہ والے آج کل کہاں ملتے ہیں۔ 

٭٭٭٭٭

مجلس میں بات ہو رہی تھی کہ خان صاحب فوج کی انگلی پکڑ کر سیاست میںآئے ، پھر فوج کے کندھے پر چڑھ کر حکومت میں آئے۔ شریک مجلس ایک خان صاحب کے مدّاح بھی تھے۔ بولے، تو نواز شریف بھی فوج ہی کی مدد سے حکومت میں آئے تھے، خان نے ایسا کیا تو کیا برا کیا۔ 

ایک دوسرے صاحب نے جواب دیا، نواز شریف جب اسٹیبلشمنٹ کے اتحادی بنے تو کم عمر تھے، چہل سال عمر عزیزت ابھی گزشت نہیں ہوئے تھے۔ وہ 90ء کے انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے وزیر داخلہ بنے اور چالیس سال کی عمر ہوتے ہی مزاج طفلی کو گم گشت کر کے آزاد سیاستدان ہونے کا اعلان کر دیا (ڈکٹیشن نہیں لوں گا)۔ لیکن خان صاحب تو ساٹھے پاٹھے ہو چکے تھے جب فوج کی انگلی پکڑی اور ستر سال کے ہوئے تو اس کے کندھے پر سوار ہو کر ایوان وزیر اعظم میں آئے اور اب جب کہ قافلہ عمررواں 80 کے ہندسے کو چھونے والا ہے، وہ بدستور فوج سے پہلی والی محبت کا اعادہ مانگ رہے ہیں، ان کا فوج سے شکوہ ہی یہی ہے کہ وہ نیوٹرل کیوں ہو گئی؟۔ وہ آخر شب کے ہم سفر فیض (و باجوہ) کیا ہوئے۔ 

تیسرے صاحب نے مداخلت کی اور کہا، حضرت یہ سب ماجرا تمام ہوا، اب خان صاحب کی آخری امید عدلیہ ہے، وہ بھی کمزور پڑتی دکھائی دے رہی ہے (کمزور پڑتی مطلب عدلیہ نہیں، امید) چنانچہ رخ امید اب امریکہ کی طرف ہے، ایلچی نے ملاقات میں کہا حضور ہم آپ کے قطعی خلاف نہیں ہیں۔ یہاں تک کہ پھر سے حکومت میں آ کر جو امریکہ نواز اقتصادی پلان نافذ کرنے کا ارادہ ہے، وہ بھی امریکہ سے شیئر کیا ہے۔ 

دریافت کیا، حضور، امریکہ سے امید برآنے کی کب تک امید ہے، بولے، بائیڈن کم بخت جائے تو بات کچھ آگے بڑھے۔ 

ایک خبر کے مطابق نیب سابق وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی کیخلاف سرکاری رقم سے ذاتی تشہیر کرانے کی تحقیقات کرا رہا ہے۔ جاری دستاویزات کے مطابق پرویز الٰہی نے اپنی ذات کی تشہیر کے لیے قومی خزانے سے 2 ارب 33 کروڑ 14 لاکھ روپے خرچ کرائے۔ 

یہ کیس اصولاً نیب کا نہیں ہے، آئی کیو جانچنے والے نفسیاتی سائنس دانوں کا ہے۔ چند ما ہی وزارت اعلیٰ کے دوران اتنی بھاری رقم خرچ کرانا ’’جینئس‘‘ ہونے کی نشانی ہے۔ ویسے نیب تحقیقات کر کے کرے گا کیا۔ مقدمہ تو چلا ہی نہیں سکے گا، اِدھر مقدمہ شروع ہوا، اُدھر ’’سٹے‘‘ آیا۔ 

بشکریہ نایٹی ٹو نیوز کالمز