462

ہمیں شرم بھی محسوس نہیں ہوتی

ہوسکتا ہے میری باتیں آپ کو بری لگیں مگر یہ سچ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اخلاقیات کا جنازہ نکل چکا ہے، ہم بددیانتی کی آخری حدوں کو چھو رہے ہیں، ہمارے ہاں خالص چیز ڈھونڈنا مشکل ہو چکا ہے، ہم کھانے پینے کی چیزوں میں بھی ملاوٹ سے باز نہیں آتے۔ اخلاقیات میں ملاوٹ کی کہیں اجازت نہیں، ہمارا مذہب ہمیں ایسا کرنے سے منع کرتا ہے مگر ہم پھر بھی ملاوٹ سے باز نہیں آتے۔ مثلاً دودھ ہی کو لے لیجئے۔ گائوں میں ہماری بوڑھی عورتیں کہا کرتیں تھیں ...’’بیٹا دودھ رب کا نور ہے، اس میں پانی نہیں ملانا...‘‘ زمانے نے تیز رفتاری سے پلٹا کھایا اور اب ہم دودھ میں پتہ نہیں کیا کچھ ملا دیتے ہیں۔ اب بات صرف پانی تک نہیں رہی، ہم پاکستانیوں کو روزانہ ڈھائی کروڑ لیٹر دودھ کی ضرورت ہوتی ہے ہماری پیداوار ڈیڑھ کروڑ لیٹر ہے باقی ایک کروڑ لیٹر دودھ کے نام پرپتہ نہیں کیا کچھ پلایا جار ہا ہے۔ آپ سرخ مرچوں پر غور کیجئے۔ ہمارے معاشرے میں لکڑی کے برادے کو رنگ کرکے مرچوں میں شامل کردیا جاتا ہے اور بعض جگہوں پر اینٹوں کو پیس کر مرچوں میں شامل کر دیا جاتا ہے ۔ ہمارے تاجر ذخیرہ اندوزی سے باز نہیں آتے۔ یہاں کم تولنے کا بھی رواج ہے، ہم باقی کاموں میں بھی دونمبری سے باز نہیں آتے۔ حالت تو یہ ہے کہ رمضان المبارک میں ہمارے منافع خور مہنگائی میں اور اضافہ کر دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں سچ بولا نہیں جاتا اور جو سچ بولتا ہے اسے پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے۔ پتہ نہیں ہم کب سدھریں گے۔ ہم آئینہ دیکھتے ہیں مگر صرف اپنی خوبصورتی چیک کرنے کیلئے، ہم یہ کیوں نہیں دیکھتے کہ یہ چہرہ ایک دن خدا کو بھی دکھانا ہے، کیا ہمارے کام اس قابل ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو چہرہ دکھا سکیں۔ بددیانتی ہمارے معاشرے کی جڑوں میں جا گھسی ہے، پتہ نہیں ہمارے ضمیر کیوں نہیں جاگتے؟

یہ سب باتیں مجھے اسلئے یاد آ رہی ہیں کہ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق دیانتداری میں جاپان کا پہلا نمبر ہے اور خیر سے ہم پاکستانی 160 نمبر پر ہیں۔ اس سے اندازہ لگالیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں، انصاف میں بھی ہمارا نمبر اسی طرح ہے۔ ہم اپنے ہمسائیوں سے بھی کچھ نہیں سیکھتے۔ ہم نیکی کرتے وقت بھی اس کی تشہیر کرتے ہیں، ہم غریبوں کی مدد کرتے وقت ان کی عزت نفس کا خیال نہیں کرتے۔ ہماری ہمسائیگی میں بھارت کے نامور اداکار امیتابھ بچن کی بیٹی اترپردیش جاتی ہے وہاں کے غریب کسانوں پر قرضوں کا سن کر دکھی ہو جاتی ہے پھر وہ ایک ہزار تین سو چھیانوے کسانوں کا 4کروڑ پانچ لاکھ قرضہ ادا کرتی ہے، کسانوں کی مدد کرتے وقت امیتابھ کی بیٹی کا سرجھکا رہتا ہے، وہ اپنے غریب کسانوں کے سامنے ہاتھ جوڑ کر سر جھکائے کھڑی رہتی ہے مگر ہمارے ہاں انفرادی طور پر یا تنظیمی سطح پر غریبوں کی مدد کرنے والے تشہیر کو فرض سمجھتے ہیں۔

قومیں اپنی بیماریوں کا علاج کرتی ہیں ورنہ بیماریاں تو ہر سماج میں جنم لیتی ہیں مثلاً چین ہی دیکھ لیجئے چین کس تیز رفتاری سے آگے بڑھا ہے۔ چینیوں نے اپنی بیماریوں کا علاج خود کیا ہے۔ مثلاً چین کے ایک وزیر نے کرپشن کی، کرپشن کرنے کے بعد وہ بیرون ملک فرار ہوگیا، چینی حکومت نے اس کا پیچھا نہ چھوڑا، اسے انٹرپول کے ذریعےواپس چین لایا گیا، اسے صرف لایا نہیں گیا بلکہ لاکر پھانسی پر چڑھایا گیا، لیکن افسوس کہ ہمارے ہاں کرپٹ لوگ بڑے طاقتور ہیں وہ کسی کی گرفت میں نہیں آتے۔ ہم شاید اپنی بیماریوں کا علاج نہیں کرنا چاہتے۔ ایک فلاسفر جارج گورڈن نے کہا تھا کہ ...’’ جو لوگ سوال نہیں اٹھاتے وہ منافق ہیں، وہ لوگ جو سوال کر نہیں سکتے وہ احمق ہیں اور جن کے ذہن میں سوال ابھرتا ہی نہیں وہ غلام ہیں...‘‘ اس قول کے مطابق پتہ نہیں ہم کہاں کھڑ ے ہیں۔ ہمارے ہاں کچھ تو بیماریاں ہیں جن کے سبب ہم مسلسل تنزلی کی طرف جا رہے ہیں۔ پورےخطے میں ترقی کی دوڑ میں ہم سب سے پیچھے رہ گئے ہیں، ہم اب تک فرقوں، برادریوں اور گریڈوں میں پھنسے ہوئے ہیں، ہماری معیشت بھنور میں پھنسی ہوئی ہے اور ہم گرداب میں غوطے کھا رہے ہیں ہم جھوٹ بولتے ہیں، حیرت ہے ہم بددیانتی اور جھوٹ پر شرم بھی محسوس نہیں کرتے۔ بقول نعیم ضرار

وہی جالب ہے وہی قصہ ہے

باد صرصر کو صبا لکھنا ہے

ترکِ غیرت کے نئے نسخے میں

زہر قاتل کو دوا لکھنا ہے

بشکریہ جنگ نیوزکالم