222

عرفان قادر صاحب، آپ بھی زور آزمائی کر لیں

وزیراعظم شہباز شریف کی 13 پارٹیوں پر مشتمل پی ڈی ایم حکومت شاید ایک نیا ریکارڈ بنانے جا رہی ہے۔

کچھ روز پہلے کابینہ میں 73واں رکن مقرر کیا گیا، جس کے بعد یہ گنتی سو تک جائے گی۔

اس کی خبر نہیں لیکن اندرون خانہ پاکستان مسلم لیگ ن کے لوگوں کا کہنا ہے کہ آخر اتحادیوں کو بھی راضی رکھنا ہے۔

اس فوج ظفر موج پر تنقید ایک طرف، لیکن یہ نئی تعیناتی بہرحال دلچسپ ہے۔

عرفان قادر نے حال ہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں مریم نواز کا نیب کا کیس جیتا ہے۔

عرفان قادر کو مریم نواز نے ستمبر 2021 میں اپنا اور اپنے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کا وکیل مقرر کیا تھا۔

اس سے پہلے عرفان قادر سیاسی طور پر پاکستان پیپلز پارٹی سے بھی منسلک رہے۔

پیپلز پارٹی کے دور میں ان کو نیب کا پراسیکیوٹر جنرل تعینات کیا گیا تھا۔

 2012 میں انہیں اس وقت کے صدر آصف علی زرداری نے پاکستان کا اٹارنی جنرل مقرر کیا۔

وہ وزارتِ قانون کے قریب بھی رہ چکے ہیں اور لاہور ہائی کورٹ میں بحیثیت جج کے بھی عہدہ سنبھالا لیکن سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے ان کو ایک پی سی او جج ہونے کی وجہ سے مستقل جج نہیں بننے دیا۔

بے جھجک اور بے دھڑک بات کرنے والے عرفان قادر کو اعلیٰ عدالت کی سرزنش کا سامنا کرنا پڑا اور کچھ عرصہ ان کے اعلیٰ عدالت میں پیش ہونے پر پابندی لگا دی گئی۔

 گذشتہ کچھ برسوں میں عرفان قادر ٹی وی کے پروگراموں میں اکثر دکھائی دیتے رہے ہیں۔ یوں وہ اب ایک یہ پہچانی شخصیت بھی ہیں۔

بہرحال اہم سوال یہ ہے کہ عرفان قادر جن کو اس حکومت نے ایک وزیر کا عہدہ دیا ہے ان سے کام کیا لیا جائے گا؟

خود عرفان قادر کی زبانی تو یہی سنا ہے کہ وہ نیب کو ٹھیک کریں گے اور کچھ احتساب کے معاملات پر توجہ دیں گے۔

اس کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا جو پیسہ غیر قانونی طور پر ملک سے باہر گیا ہے اس کی واپسی کا بندوبست کریں گے اور منی لانڈرنگ پر قابو پائیں گے۔

ایک نجی ٹی وی کے شو میں ان کا کہنا تھا کہ وہ عدلیہ کو مضبوط کرنے کی کوشش کریں گے اور اس سے تعلقات بہتر بنائیں گے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں ایک بہت بڑا مینڈیٹ دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ یہ سوال بھی اہم ہیں کہ حکومت آخر چاہتی کیا ہے؟ کیا حکومت منی لانڈرنگ اور احتساب کے حوالے سے اور ٹیکس چوری کے خلاف نئے قوانین بنانا چاہتی ہے؟

لیکن ان تمام معاملات پر قوانین پہلے سے موجود ہیں۔ منی لانڈرنگ کے بارے میں پاکستان کے بینکوں میں سخت سے سخت قوانین بن چکے ہیں۔

فیٹف کے کہنے پر حکومت نے پرانے قوانین میں تبدیلیاں کرتے ہوئے ہر قسم کی بے ضابطگیوں کو ختم کرنے کے لیے سخت قوانین اور ان پر عمل داری کو اس حد تک یقینی بنایا ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کو پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔

امکان یہی ہے کہ پاکستان فیٹف کی گرے لسٹ سے مکمل طور پر نکلنے والا ہے۔

اس ملک میں انکم ٹیکس کی چوری روکنے اور انکم ٹیکس کا سسٹم صاف و شفاف بنانے کے لیے اور ٹیکس قوانین کو صحیح طریقے سے لاگو کرنے کے لیے ایف بی آر محکمہ موجود ہے۔

اگر یہ ادارہ موجودہ قوانین کے مطابق کام کرے تو نئے قوانین کی ضرورت ہی نہیں۔

پاکستان میں نادرا کا بنایا ہوا سسٹم دنیا کے بہترین ممالک کا مقابلہ کر سکتا ہے۔

جہاں تک کسی بھی شہری کے مالی معاملات کا تعلق ہے، بس سی این آئی سی نمبر ایف بی آر کے سسٹم میں ڈالنے کی دیر ہے اور شہری کے بینک اکاؤنٹس، جائیداد، ذریعہ آمدن، یعنی کہ ہر مالی معاملے کی تفصیل کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔

 اب تو پاکستان میں کسی قسم کی خریدو فروخت بغیر آئی سی سی کے ممکن ہی نہیں۔ کرپشن کرنے کی آسانی کے دن گئے۔

آپ کے بینک اکاؤنٹ میں ہر آنے والی دمڑی کا حساب رکھا جاتا ہے، جیسے کہ ہر شہری کی آمدن میں اتار چڑھاؤ ایف بی آر کی نظر میں رہتا ہے۔ پاکستان میں مسئلہ ظاہر ہے قوانین کے نفاذ کا ہے۔

قصہ مختصر ان سب کے ساتھ ساتھ پاکستان میں کرپشن کے خلاف کام کرنے کے لیے، کرپشن کو روکنے کے لیے متعدد قوانین اور ایف آئی اے جیسے ادارے کام کر رہے ہیں اور انصاف فراہم کرنے کے لیے عدلیہ موجود ہے، تو پھر سوال ایک ہی ہے آخر نیب کا کوئی فائدہ بھی ہے یا نیب نیک نیتی پر مبنی ادارہ ہے؟

نیب کی کارکرگری پر پاکستان کی عدلیہ کی جانب سے تو کچھ ایسے ہی ریمارکس سننے کو ملے ہیں۔

گذشتہ دو تین سالوں میں بڑے بڑے نامور جج حضرات یہ کہنے پر مجبور ہوئے کے ’نیب ٹوکن انجینیئرنگ کے لیے اعلیٰ ہے۔ جب کسی سیاست دان کو خاموش کروانا ہو تو نیب کا کیس کھل جاتا ہے۔‘

نیب کی کہانی بہت لمبی ہے۔ یہاں یہی کہنا کافی ہو گا کہ عرفان قادر جو نیب کے پراسیکیوٹر جنرل تھے اب نیب کو کارآمد بنانے کے لیے شاید کابینہ میں لائے گئے ہیں۔ یہ کام کوئی آسان تو نہیں کیونکہ نیب کی تاریخ سیاسی انتقام سے لیس ہے۔

پاکستان میں طاقت ور سیاسی اور غیر سیاسی لوگ اور ادارے اپنے ہاتھ میں کچھ ایسے آلات رکھیں جن سے وہ پاکستان کے سیاسی افق میں اپنی مرضی کے رنگ بھریں۔ ان آلات کو فوجی آمر، منتخب وزیر اعظم دونوں نے کار آمد جانا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت عرفان قادر سے کیا کام لیتی ہے۔

احتساب کے نام پر اگر انتقام کی بات ہوتی رہی ہے تو یقینی طور پر اب احتساب کی شفافیت کی بات بھی ہو رہی ہے۔

پاکستان کی سیاست اور پاور پلے نے ملک، اس کے اداروں اور عدالتوں کو بھی کسی حد تک شفافیت سے عاری رکھا ہے۔

ایک طرف اداروں کو اس سمت میں چلانا کہ موجودہ قوانین کا نفاذ بغیر تفریق کیا جائے اور دوسری طرف معتبر عدلیہ کی ساکھ بحال کی جائے۔

حکومت اور عدلیہ کے درمیان آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے مثبت تعلقات قائم کیے جائیں اور ہر قدم قانون کے نفاذ اور انصاف کی فراہمی کے لیے اٹھایا جائے۔

کیا عرفان قادر یہ کر پائیں گے اور کیا 13 جماعتی حکومت ان کو یہ کرنے بھی دے گی؟

 اس سوال کا جواب فی الحال دینا مشکل ہے۔


بشکریہ انڈپینڈنٹ نیوز