66

خوشبو کی شاعرہ پروین شاکر

منفرد لب و لہجے کی شاعرہ محترمہ پروین شاکر نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے ھزاروں لاکھوں لوگوں کے دلوں میں اب بھی ان کے خوب صورت تمام اشعار کے کی وجہ سے زندہ ہیں پروین شاکر 24 نومبر 1952 کو پاکستان کے خوب صورت شہر کراچی کے ایک مذہبی اور ادبی گھرانے میں آنکھ کھولی ان کے والد گرامی کا نام سید ثاقب حسین بھی شاعر تھے انہوں نے انگلش لٹریچر اور زبان دانی میں گریجویشن کیا اور بعد میں انہی مضامین میں جامعہ کراچی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کرلی 
پروین شاکر بھی ایم بی اے کی ڈگری امریکہ کی ہاورڈ یونیورسٹی سے حاصل کرنے کا بھی اعزاز حاصل ہے پروین شاکر نو سال تک استاد کی حیثیت سے درس وتدرس کے شعبے سے وابستہ رہیں اور پھر بعد میں سرکاری ملازمت اختیار کرلی 1986 میں کسٹم ڈریپارئمنٹ میں بحیثیت سیکٹرٹیری خدمات سرانجام دیں جبکہ امریکہ کی ایک یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے لیے مکمل کیاگیا مقالہ زندگی کے ساتھ نہ دینے کے سبب پیش کرنے سے قاصر رہیں پروین شاکر کو اردو کے منفرد لب ولہجے کی شاعرہ ہونے کی وجہ سے بہت کم عرصے میں وہ شہرت حاصل ہوئی جو بہت کم لوگوں کو حاصل ہوتی ہے آپ نے اپنی خداداد صلاحیتوں کی بدولت قلیل سی متاع حیات میں وہ کار نامے سرانجام دیے جن کی بدولت آپ کو پرائیڈ آف پرفارمیس اور آدم جی کے ایووارڈر کے ساتھ ساتھ خوشبو کی شاعرہ کے خطابات والقاب سے بھی نوازا گیا پاکستان ٹیلی وژن کے پروگرامز میں بہترین میزبان کی حیثیت سے بھی جلوہ گر ہوئیں وہ اپنی اولین کتاب کی اشاعت سے پہلے ہی ادبی رسالوں کے زریعے ہزاروں دلوں کو اپنا اپنامداح بنا چکی تھیں 
1974 میں 24 برس کی عمر میں پروین شاکر کی پہلی کتاب کو بے حد پذیرائی ملی اور پروین شاکر کے فکروفن کی خوشبو پھیل گئی
خوشبو کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ پہلی اشاعت کے چھ ماہ بعد ہی اس کا دوسرا ایڈیشن چھاپنا پڑا اور کتاب نے تحفوں کی شکل اختیار کرنا شروع کردی اس کتاب نے پروین شاکر کے ادبی کیرئیر میں نئی روح ڈالی پروین شاکر نے کچی عمر اور نسل نو کے جذبات کی ترجمانی سے الفاظ اور جذبات کو ایک انوکھا تعلق میں باندھ کر سادہ الفاظ میں نسانی انا خواہیش اور افکار کو شعر کاروپ دیا گہری شاعری کے اسلوب بیاں نے پروین شاکر کو جلد ہی شہرت کی بلندیوں پر پہچایا
پروین شاکر کی زاتی زندگ پر اگر تبصرہ لکھوں تو اس کے لیے بندہ ناچیز کو کہی رجسڑ درکار ہے ان کی زاتی زندگی کا دکھ ازدواجی زندگی کے اختتام پر متنج ہوا انہوں نے کراچی کے ایک ڈاکٹر نصیر علی سے شادی کی جس سے ایک بیٹا مراد علی پیدا ہوا بعد ازں نصیر علی سے طلاق لیکر ازدواجی زندگی کو خیر باد کہہ دیا۔پرین شاکر کی اکثر شاعری میں بھی اسی منحوس طلاق کے بارے میں برملا زکر ہواہوا ہے اس وجہ سے ان کی شاعری میں دکھ کی کیفیت بھی ابھر کر سامنے آتی ہے
میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاوں گی
وہ جھوٹ بولے گا اور لاجواب کردے گا
پروین شاکر کی پوری شاعری ان کے اپنے جذبات اور درد کائنات کے احساسات کا اظہار ہے ان کی کتابوں کے حوالے سے بھی بندہ ناچیز انشااللہ آئندہ آنے والے مضمون میں تبصرہ لکھوں گا پروین شاکر 26 دستمبر 1994 کو اسلام آباد کے معروف شاہراہ زیرو پوائنٹ پہ اپنے آفس جاتے ہوئے ٹریفک حادثے میں 42 سال کی عمر میں وفات پائے پروین نے اپنی شاعری میں کہا تھا نہ 
مرجاوں تو کہاں لوگ بھلا دیں گے
لفظ میرے ہونے کی گواہی دیں گے
یہ حقیقت ان کی نظموں اور غزلوں کے الفاظ آج بھی نوجوان نسل اور شاعری کے دلدادہ کی زبانوں پر اور دلوں میں زندہ ہونے کا احساس دلارہے ہیں۔

بشکریہ اردو کالمز