37

سیلاب متاثرین کی حالت زار اور سیاسی جماعتوں کے اختلافات

    اس وقت سیلاب متاثرین کی حالتنہایت خستہ ہے۔ سیلاب سے پیدا ہونے والی صورتحال پر قابو پانا انتہائی مشکل ہو چکا ہے حکومت کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے کہ وہ کس طرح سیلاب متاثرین کی بحالی کا کام مکمل کرتی ہے۔ پاکستان کا ایک بڑا رقبہ سیلاب کی زد میں ہے۔ اگرچہ اس وقت بہت سی سرکاری و غیر سرکاری ٹیمیں اور ادارے سیلاب متاثرین کی بحالی کے لئے مصروف عمل ہیں لیکن ان کا کام انتہائی محدود ہے۔ پاکستان کے چاروں صوبوں میں سیلاب نے تباہی مچا رکھی ہے۔ شہری علاقوں اور بڑی تحصیلوں میں تو کافی حد تک امدادی کام ہو رہے ہیں لیکن بہت سے علاقے جو چھوٹے اور دور دراز ہیں ان میں ابھی تک امداد نہیں پہنچ پائی اور بہت سے علاقے ایسے بھی ہوں گے جن کے بارے میں علم ہی نہیں ہوگا کہ وہ بھی سیلاب کی لپیٹ میں ہیں کیونکہ بہت زیادہ دور دراز چھوٹے چھوٹے دیہات ایسے ہیں کہ جن کا کوئی نام بھی نہیں جانتا اور وہاں پر حالات پہلے ہی زیادہ خراب ہوتے ہیں کیونکہ ایسے علاقوں میں پہلے سے ہی غربت نے ڈیرے ڈال رکھے ہوتے ہیں لیکن اب سیلاب کی صورتحال میں جو تھوڑی بہت جمع  پونجی تھی وہ بھی سیلاب بہا لے گیا اب ان کے پاس کچھ نہیں ہے ،  کھانے کے لیے کھانا اور رہنے کے لیے جھونپڑی تک نہیں ہے ۔وہاں لوگ بھوکے پیاسے بغیر چھت کے بیٹھے ہیں کبھی بارش میں بھیگتے ہیں اور کبھی دھوپ کی گرمی میں جلتے ہیں اس کے علاوہ پانی کی وجہ سے ان علاقوں میں حبسبھی بہت زیادہ ہوچکی ہے جس کی وجہ سے طرح طرح کی بیماریاں پھیل رہی ہیں مچھروں کی وجہ سے بہت سے لوگ بیمار ہو رہے ہیں اسی طرح وہاں پر خطرناک زہریلے جانور سانپ وغیرہ بھی نکل آئے ہیں جنہوں نے لوگوں کا جینا محال کر دیا ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچے بھوک سے بلکتے ہیں انہیں دینے کے لیے دودھ نہیں ہے۔     گزشتہ روز وزیر اعلی سندھ نے سیلاب سے متاثرہ علاقے کا دورہ کیا تو وہاں پر لوگ ان کے پاؤں پڑ گئے جنہیں دیکھ کر انتہائی رنج ہوا کیونکہ عوام کو تو ان نااہل اور کرپٹ لوگوں کے گریبان پکڑ کر گھسیٹنا چاہیے تھا کہ جنہوں نے ان حالات تک پہنچایا یہی حکمران ہیں جنہوں نے انتہائی غفلت کا مظاہرہ کیا ، نالوں کی صفائی نہیں کی ، نہروں کے بندوں کا خیال نہیں رکھا، ڈیموں کی طرف توجہ نہیں دی۔ ان کی اسی ایک انتہائی غفلت کی وجہ سے کبھی ڈیم ٹوٹ رہے ہیں کبھی نہروں کے بند ٹوٹ رہے ہیں ، کبھی سیم نالے بھر رہے ہیں اگر بروقت ان چیزوں کی طرف توجہ دی گئی ہوتی اور وقت کے ساتھ ساتھ انہیں مضبوط کیا جاتا رہا ہوتا تو یہ حالات دیکھنے کو نہ ملتے۔ اس کے علاوہ سیلاب متاثرین یہ بھی شکایت کر رہے ہیں کہ وہ ڈوبے نہیں انہیں ڈبویا گیا ہے ۔ مطلب یہ کہ بڑے بڑے لوگوں وڈیروں اور جاگیرداروں نے اپنی زمینیں اور کھیت بچانے کے لئے سیلابی پانی کا رخ غریبوں کی بستیوں اور دیہاتوں کی طرف کر دیا۔ جس کی وجہ سے ان کے کھیت اور فصل اور فصلیں تو بچ گئیں لیکن غریبوں کا کچھ نہ بچا۔ وہ چھت کو ترس رہے ہیں ایک ایک لقمہ کھانے کو ترس رہے ہیں لیکن یہ وڈیرے اور جاگیر دار مزے سے اپنے محلات میں عیش کر رہے ہیں۔ ان جاگیرداروں اور وڈیروں نے جب ایسی حرکتیں کی اس وقت حکومت کے کان پر جوں تک نہ رینگی انہیں ترس نہ آیا کہ جب بستیوں میں پانی آگیا تو یہ غریب کہاں جائیں گے ۔ آج وہی بات ہوئی جس کا ڈر تھا کہ آج غریب دربدر ہیں۔ جن لوگوں نے انہیں ڈبویا یعنی وزیراعلی اور حکومتی عہدیداران آج یہ لوگ پھر انہی کے پاؤں پڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں جسے دیکھ کر بہت زیادہ دلی صدمہ ہوا۔ ان لوگوں کو پتھر مار کر وہاں سے بھگا دینا چاہیے تھا کہ تم اب کیا لینے آئے ہو ، اب تمہیں ہماری کوئی فکر نہیں تھی تو اب کیا ہماری تباہی کا تماشہ دیکھنے آئے ہو۔ پہلے ہمیں ڈوبنے سے تم لوگوں نے نہ بچایا کہ تمہارے پاس پورے اختیارات موجود تھے اور اب ہمیں امداد تک نہیں دے رہے ہو لیکن وہ بیچارے اتنے مجبور ہو گئے ہیں کہ آخر کار خود کو ڈبونے والوں کے ہی پاؤں پڑھنا پڑا۔
    اسسے اندازہ لگا لیجئے کہ ان کے حالات کتنے خراب ہوں گے کہ ایک شخص اپنے دشمن کو سامنے دیکھ رہا ہے اور اسے پتہ ہے کہ میری تباہی کی ذمہ دار ہے اس پر غصہ بھی آرہا ہو پھر بھی اسے برا بھلا کہنے اور اسے وہاں سے بھگا نے کی بجائے اس کے پاؤں پڑ رہا ہے ، اب اس سے زیادہ مجبوری، لاچاری اور بے بسی کی مثال کیا ہو سکتی ہے۔ ہمارے حکمرانوں کی تو یہ حالت ہے کہ وہ اب بھی اپنی سیاست چمکانے سے باز نہیں آرہے اب بھی ایک دوسرے پر الزامات لگائے جارہے ہیں ایک دوسرے کے خلاف ہرزہ سرائی کی جارہی ہے ایک دوسرے کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور بلکہ سابق وزیراعظم عمران خان نے ہفتے سے تحریک چلانے کا اعلان کر رکھا ہے ۔ وہ اسلام آباد کی طرف آئیں گے تو ظاہر ہے حکومت کو ان کا مقابلہ کرنا پڑے گا ، ملک میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے حکومت کو بہت سے اقدامات کرنے ہوں گے ، تو سیلاب متاثرین کی طرف کون توجہ دے ۔ اس وقت ملکی حالات انتہائی خراب ہیں پوری دنیا میں اس کے لئے آواز اٹھائی جا رہی ہیں اور امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی اب اس کے لئے کھل کر آواز اٹھائی اور دنیا سے پاکستان کی امداد کرنے کی اپیل کی ہے ۔ اب جب پاکستان میں دھرنے اور لانگ مارچ شروع ہوگی تو باہر کی دنیا میں کیا تاثر جائے گا کہ ہم ان کے لیے امداد مانگ رہے ہیں اور ان کی آپس میں لڑائی ختم نہیں ہورہی ہے ۔ جب انہیں خود اپنی فکر نہیں ہے تو ہم کیوں ان کی فکر کریں۔
    اس وقت چاروں صوبوں اور وفاق میں الگ الگ حکومتیں قائم ہیں ۔ اس لئے تمام حکومتوں کو چاہیے کہ وہ مل بیٹھ کر سیلاب متاثرین کی بحالی کے لئے فکر کریں ۔ تھوڑا سا سر جوڑ کر بیٹھ جائیں اپنے پرانے گلے شکوے کچھ ماہ کے لئے مؤخر کر دیں اور سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے غوروفکر کریں ۔ بیٹھ کر سوچیں کہ ان کی امداد کیسے کی جائے ، ان کو کھانا کیسے پہنچا یا جائے ، پھر مستقل ان کی بحالی کا کام کیسے کیا جائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام حکومتی سیلاب متاثرین کے لیے خصوصی اجلاس بلائیں اور ماہرین کو بھی بٹھا کر ان کی بحالی کے لیے کاموں کے لئے سوچ و بچار کریں۔ پاکستان کے اندر اور باہر سے آنے والی امداد کو صحیح طور پر مستحقین تک پہنچانے کے لیے لائحہ عمل ترتیب دیں یہ کام تبھی ممکن ہو گا جب سب مل بیٹھ کر اسے کریں گے ورنہ جس طرح ہم ابھی کر رہے ہیں کہ چاروں حکومتیں ایک دوسرے کی مخالف ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف طعنہ زنی بھی ہو رہی ہے تو اس طرح سیلاب متاثرین کی بحالی کا کام تقریباً ناممکن نظر آتا ہے۔

 

بشکریہ اردو کالمز