29

پاک بھارت کرکٹ اور سفارتی میچ

    ہندوئوں کا اسلامو فوبیا اب بھارتی سرحدوں سے نکل دنیا کی مہذب قوموں میں بھی سر ابھارنے لگا ہے ،ایشیا کپ میں پاکستان کے ہاتھوں بھارتی شکست نے ہندوئوں کو اس حد تک مشتعل کیا ہوا ہے کہ اسی روز سے برطانیہ میں ہندوئوں نے ہنگامہ آرائی شروع کر رکھی ہے ،اس ہنگامہ آرائی نے کشیدگی کی شکل اس وقت اختیار کرلی جب ہفتے کے روز ہندوئوں کے جتھے برطانوی شہر لیسٹر شائر میں مسلم اکثریتی علاقوں میں گھس گئے ،ان جتھوں نے بیل گراو اور نارتھ ایونگٹن کی سڑکوں پر مسلمانوں کی دوکانوں ،گھروں پر حملے کئے اور مسجد کے پاس جا کر اشتعال انگیز نعرے بازی کی ،اس سارے منظر نے لیسٹر شائر کو منی بھارت کے طور پر پیش کیا ،جہاں انتہاء پسند ہندوئوں کے جتھے مسلمانوں پر حملہ آور ہوتے ہیں ،وہاں نہ تو ان کی جان محفوظ نہ املاک ،لیکن یہ تو بھارت نہیں تھا بلکہ دنیا کی مہذب ترین قوم کا ملک ہے ،یہاں تو قانون کی حکمرانی تصور کی جاتی ہے ،کیا یہاں بھی اب مسلمان انتہاء پسندوں کے ہاتھوں محفوظ نہیں رہے ۔؟
    مودی دور میں بھارت بطور ریاست مسلمان دشمنی میں  اس حد تک جا چکا ہے کہ اس نے اپنے چہرے سے نام نہاد سیکولر ریاست ہونے کا نقاب بھی اتار پھینکا ہے اور کروڑوں مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیا ہے ،آر ایس ایس کے نظریات نے مسلمان دشمنی کو ہندوئوں کے مذہبی عقیدے میں ڈھال دیا ہے ،بھارتی مین سٹریم میڈیا آئوٹ لیٹس ہوں یا سوشل میڈیا آئوٹ لیٹس ،فرقہ ورانہ ، انتہاء پنسدی ،مسلمان مخالف گفتگو اور پالیسیوں سے لبا لب دکھائی دیتے ہیں جس کے باعث یہ غیر انسانی انتہاء پسندانہ نظریات اب دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہندوئوں نے بھی اپنا لئے ہیں ،برطانوی شہر لیسٹر شائر کے حالیہ واقعات اس کی تازہ ترین مثال ہے ،ہندوستانی میڈیا نے لیسٹرشائر کے واقعات کو بھی اسی طرز پر پیش کیا جیسے بھارتی واقعات کو کھلم کھلا مسلمان دشمنی کے رنگ میں پیش کیا جاتا ہے ۔
    چونکہ بھارتی کی انتہاء پسند جماعت آر ایس ایس کے تمام نظریات مسلمان دشمنی کے گرد گھومتے ہیں لہذا اس وقت دنیا بھر میں موجود ہندو ان نظریات کو اپنا چکے ہیں ،اس کا عمومی اظہار تو بے شمار بار دنیا بھر میں ہو چکا ہے مگر لیسٹر شائر کے واقعات نے دنیا بھر میں خطرے کی ایک گھنٹی بجادی ہے ،بالخصوص عرب ممالک میں بھی اس کی بازگشت سنی گئی جہاں لاکھوں ہندوکارکن کام کر رہے ہیں عرب میڈیا میں  اس خدشے کا برملا اظہار کیا گیا کہ جی سی سی ممالک میں بھی ہندو مسلم کشیدگی ہو سکتی ہیں،بھارت کے مین سٹریم میڈیا پر بھی انگلیاں اٹھ رہی ہیں جس نے لیسٹر شائر واقعات کو بھڑکانے اہم کردار اادا کیا اور پھر بھارت کے بدنام زمانہ فیک نیوز سسٹم کے تحت اس کی سوشل میڈیا پر بھرمار کی گئی۔
    فرقہ واریت اور انتہاء پسندی کو فروغ دینے پریا کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کرنے پر برطانیہ ،عرب ،یورپ ،امریکہ سمیت دنیا کے دیگر مہذب ملک بھارت سے باز پرس کرنے کی بجائے اقوام متحدہ سمیت دنیا کے اہم ترین اداروں میں اس کے کردار کو توسیع دیتے جا رہے ہیں عالمی قوتوں اور اداروں کے اس دوہرے معیار کی وجہ معاشی مفادات کی وابستگی ہے ،حال ہی میں بھارت مجموعی گھریلو پیداوار(GDP) کے لحاظ سے دنیا کی پانچویں معیشت بن چکا ہے ،بھارت کی اس معاشی قوت کے باعث نہ صرف کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں نظر انداز کی جارہی ہیں  ،بھارت میں بڑھتے ہوئے مسلم کش ظلم وجبر سے آنکھیں چرائی جارہی ہیں بلکہ پاکستان کے مفادات کو بھی شدید ضرب پہنچائی جارہی ہے ،عالمی ادارے بھارتی مفادات کے محافظ بن کر مسلمان مخالف پالیسیوں پر عمل پیرا ہو چکے ہیں اور خطے میں ہندوتوا کی بالادستی کیلئے راستے ہموار کئے جارہے ہیں۔
    بھارت دو سال کیلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب ہوا تھا جس کی مدت اس سال دسمبر میں پوری ہو رہی ہے لیکن دسمبر2022ء میں ایک ماہ کیلئے بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت بھی سنبھالے گا ،اس کے علاوہ دنیا کے سات طاقتور ممالک کی تنظیم جی سیون میں اگرچہ ممبر نہیں بنایا گیا مگر بھارت کا نام درج کرلیا گیا ہے ،رواں سال کے سربراہی اجلاس میں انڈیا کو مہمان ملک کے طور پر شامل کیا گیا تھا ،شنگھائی تعاون تنظیم کی صدارت بھی انڈیا کے پاس آچکی ہے اور اس کا سربراہی اجلاس اگلے سال بھارت میں ہونیوالا ہے،بھارت کو رواں سال دسمبر میں جی 20 کی سربراہی بھی ملنے والی ہے اور اس کا سربراہی اجلاس بھی اگلے سال بھارت میں منعقد ہو گا ۔
    بلا شبہ بھارت نے اپنی سفارتی طاقت میں تیزی کے ساتھ اضافہ کیا ہے اور سفارت کاری کے میدان میں حاصل ہونیوالی اہم پیش رفت کو اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کرتا جا رہا ہے ، بالخصوص جی20کے سربراہی اجلاس کی منصوبہ بندی انتہائی چالاکی سے کرتے ہوئے بھارت مسئلہ کشمیر پر عالمی رائے اپنے حق میں کرنے کیلئے کوشاں ہو چکا ہے ،واضح رہے کہ جی20کے سربراہی اجلاس میں امریکی ،روسی ، چینی اور ترکش صدور سمیت دنیا کے20طاقتور ممالک کے سربراہ شریک ہوں جبکہ بنگلہ دیش، مصر، نائجیریا، عمان، سنگاپور، سپین اور متحدہ عرب امارات سمیت دیگر کئی ممالک کے سربراہ مہمان شرکاء کے طور پر شریک ہوں گے،جی20کے سلسلے میں بھارت کے اندر 200سے زائد اجلاس منعقد ہوں گے جن میں ممبران اور مہمان ممالک کے اعلیٰ حکام شریک ہوں گے،بھارت نے ان میں سے کئی اجلاس مقبوضہ جموں کشمیر میں منعقد کرانے کی منصوبہ بندی کرلی ہے ،متنازعہ خطے میں ان اجلاس کا منعقد ہونا اور اس میں دنیا کے طاقتور ممالک کا شریک ہونا جہاں عالمی طاقتوں کی بے حسی کا مظہر ہو گا وہاں کشمیری عوام اور پاکستان کے مفادات پر ایک کاری ضرب بھی تصور ہو گا ۔
    معاشی بحرانوں میں گھرے اور سیلاب میں ڈوبے پاکستان کے سیاستدان سیاسی الجھنوں میں اس قدر الجھ چکے ہیں کہ انہیں گردوپیش کا ہوش نہیں ہے ،خطے کے بدلتے حالات پر نظر ہی نہیں ہے جبکہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ پاکستان سفارتی سطح پر ایک ہنگامی مہم کا آغاز کرکے مقبوضہ کشمیر میں جی 20کے ہونیوالے اجلاس یا میٹنگز پر اعتراض اٹھائے ،پاکستان کو یہ سفارتی کوششیں جی20کے اجلاس میں شریک ہونیوالے تمام ممالک میں کرنے کی ضرورت ہے اور عالمی طاقتوں کو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ مقبوضہ کشمیر اقوام متحدہ کی طرف سے متنازعہ خطہ قراردیا گیا ہے اور یہاں بھارت کی جانب سے عالمی اداروں کے اجلاس منعقد کرنا اقوام متحدہ کی قرادادوں کے منافی ہے ،کشمیری عوام اور پاکستان کے ساتھ سراسر نا انصافی اور خطے کی حیثیت تبدیل کرنے کے مترادف ہے ،بالخصوص پاکستان کیلئے چین ،سعودی عرب ،ترکی ،انڈونیشیا سمیت دیگر مسلم ممالک کو قائل کرنا ازحد ضروری ہے وگرنہ مسئلہ کشمیر پر اس کے اثرات انتہائی منفی مرتب ہو ں گے ۔

بشکریہ اردو کالمز