49

ملکہ معظمہ اور ہمارے بادشاہ

چند لمحوں کے لئے ہی سہی اچھی گزری یہ محبت بھی ہے دھوکہ تو چلوں یوں ہی سہی کس قدر تونے اذیت میں رکھا ہے مجھ کو میں نے تنہائی میں بھی خود سے کوئی بات نہ کی ہاں ایک خیال اور عجیب سا ہے کہ کتنی بے رعب نظر آئی بلندی پر بھی آس کی شاخ کہ جو پیڑ سے ٹوٹی نہ جڑی اور ہاتھ ملتے ہی ترا ہم پہ قیامت ٹوٹی۔اور تیرے لئے جیسے یہ کوئی بات نہ تھی یقین کریں دنیا بس ایسے ہی ہے اور تو اور ملکہ برطانیہ بھی چلی گئیں اور ان کے ارتحال پر ملال کو جس شدت سے محسوس کیا گیا ہے، اپنی مثال آپ ہی‘ کئی دنوں سے یہ ایک ہی موضوع ٹاپ ٹرینڈ بلکہ لاسٹ اینڈ ہے سینکڑوں کی تعداد میں سربراہ مملکت آخری رسومات میں شریک ہوئے، ان کی ڈیڈ باڈی کو کئی مقامات پر لے جایا گیا تفصیل میں نہیں جائوں گا کہ اندیشہ ہے کہ کوئی مہرو ہو جائے یا کوئی سقم رہ جائے یہ بڑا نازک معاملہ ہے: لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام آفاق کی اس کارگہہ شیشہ گری کا اگرچہ یہ سب کچھ علامتی ہے اور انگریز اسے زیادہ بہتر سمجھتے ہیں اور ہم تو اس کو زیادہ سنجیدگی سے لیتے ہیں انہوں نے بادشاہت کو اپنے لئے ایک عظمت اور وقار کا استعارا بنا رکھا ہے وہ اس کو عظیم روایت کہتے ہیں، اصل میں یہ ان کے درخشندہ دور کی یادگار بھی ہے کہ جب ان کی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا پھر وہ زوال آمادہ ہوئے کہ سب کچھ سنبھالنا مشکل ہو گیا۔ برصغیر کی بھی تقسیم ہو گئی، ہم غلامی سے نکلے مگر کسی حد تک ذہنی کیفیت اب بھی کہیں موجود ہے، ان کا قانون بھی ہمارے ہاں اسی طرح سے چل رہا ہے بلکہ کافی حد تک نظام بھی وہ ہے یہ الگ بات کہ ہم اپنی ساخت و شناخت میں امریکن ماڈل میں آ چلے مگر وضعداری بھی کوئی شے ہوتی ہے اب تک ہماری جائے پناہ برطانیہ ہی ہے اور خاص طور پر لندن تو آماجگاہ ہے۔اس تاج برطانیہ کے سائے میں ہماری اے پی سی ہوتی ہے۔ اکثر دوستوں کو یاد ہو گا کہ ایک زمانے میں ملکہ معظمہ نے پاکستان کا دورہ بھی کیا تھا اور ہمارے ایک رہنما نے فرط جذبات میں یا غلطی سے انہیں مکہ معظمہ کہہ دیا تھا۔ ایسی غلطیاں ہم سے ہوتی رہتی ہیں۔ اسی طرح ایک مرتبہ نواز شریف نے یو ایس کو اَس(US) پڑھا تو ٹھیک ہی تھا کہ یو اس ہمارا ہی ہے ویسے کمال ہے کہ: محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے پتہ چلا کہ ملکہ برطانیہ کی تدفین پر کئی عالمی رہنما شریک ہوئے اور لاکھوں لوگ امڈ آڑے شہباز شریف بھی شامل تھے ملکہ کا تابوت ویسٹ منسٹر لے جایا گیا۔شاہ چارلس پیچھے رہے۔برطانیہ کی تاریخ کا سب سے بڑا سکیورٹی پلین تھا۔دعائیہ تقریب تینوں افواج کے سربراہ اپنے دس ہزار پولیس تعینات تھی۔آپ ایک لمحے کے لئے سوچئے کہ یہ اس شخصیت کے لئے سب کچھ کیا گیا کہ جس کے لئے ان کے آئین میں اختیارات کی کوئی گنجائش نہیں، کار سلطنت میں ان کا کوئی دخل نہیں بلکہ پارلیمنٹ ملکہ کے پروٹوکول طے کرتی ہے ۔ انگریزوں کو اپنی روایات و اقدار کتنی عزیز ہیں ایک ٹیپو ہے۔ایک زندہ تاج محل کی طرح بہرحال تاریخ میں یہ بھی رہے گا کہ شہباز شریف نے ملکہ معظمہ کے بارے میں تاثرات تحریر کئے۔آپ یقین کیجئے کہ ملکہ اختیارات اور حیثیت کے اعتبار سے ہمارے بادشاہوں کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔وہ چاہتی بھی تو راستے بند نہیں کر سکتی تھیں وہ اپنی مرضی سے ہزاروں پولیس والے سکیورٹی پر نہیں لے سکتی تھی۔ ہمارے بادشاہوں کے پاس ذاتی محلات ہیں پاکستان ہی میں نہیں پاکستان سے باہر بھی ملکہ اپنی مرضی سے اپنے بچوں کو سیاست میں نہیں کھپا سکتی تھی۔وہ فیکٹریاں نہیں لگا سکتی تھی اور ملک سے باہر پراپرٹی نہیں خرید سکتی تھی وہ سوئس بنکس نہیں بھر سکتی تھی مختصر یہ کہ وہ ہمارے بادشاہوں کے مقابلے میں عشر عشیر بھی نہیں اور تو اور وہ بجلی میٹروں اور گیس مہنگی نہیں کر سکتی تھی ہمارے بادشاہ پارلیمنٹ پر بھی قابض ہوتے ہیں، قانون سازی کے لئے بھی وہ سینٹ کے محتاج نہیں ہوتے، آئین کی شکل بدلنے پر بھی قائل ہیں۔مگر ان کو اوقات میں رکھنے کے لئے اسٹیبلشمنٹ ہے جو انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتی اگر سٹیبلشمنٹ بھی درست نہیں تو ان کے وجود کا باعث ہمارے بادشاہ ہیں کہ جواز فراہم کرتے ہیں۔ کیا کریں یہ نظام انگریزی ہی چھوڑ کر گئے تھے انہوں نے تو ہم پر حکومت کرنا تھی اور انہوں نے ایسے قانون بنائے کہ وہ ہماری قوت کو ایک دائرہ کار میں رکھ سکیں سیدھے لفظوں میں اپنے غلاموں کو اوقات میں رکھیں اور اپنے اردگرد قانونی حفاظتی دائرہ کھینچیں ہمارے ہی لالچی اور حریص لوگوں کو ہماری چھترول کے لئے نافذ کریں اور انہیں یعنی اپنے کمی کمین قسم کے لوگوں کو علاقے کے چوہدری بنائیں۔ایک تاریخ ہے پھر انہی کے حوالے ہمیں کیا گیا کم سے کم لفظوں میں بھی وہ ہمارے مجرم ہیں۔میرا خیال ہے کہ موضوع تبدیل کرتے ہیں اور آخری کال کی طرف آتے ہیں۔وہ آخری کال کیا ہو گی اللہ ہی جانتا ہے کال دینے والا بھی شاید کسی کال کا منتظر ہے۔اظہار شاہین یاد آئے: کوہساروں کا فیض ہے ورنہ کون دیتا ہے دوسری آواز چلتے چلتے ایک بات ضرور کروں گا کہ اپنے منہ شریف سے بار بار بھاشن دینے والے کہ انصاف سب کے لئے ہے اور ہوتا نظر آئے اور یہ بھی سمجھنے والے کہ پہلی قومیں اس لئے تباہ ہوئیں کہ غریب کو پکڑ لیتے بڑوں کو چھوڑ دیتے۔ اب اپنے لفظوں کا مان تو کم از کم رکھیں اور قانون کو دھمکانے سے باز رہیں ۔کچھ نہ کچھ اپنی پاک دامنی پر بھی بات کر لیں۔ کھانا اور اس پر آنکھیں دکھاناہرگز درست نہیں کہ ہم تو چاہتے تھے کہ اے کاش آپ ان غلطیوں سے ماورا ہو جاتے۔عدالت کو قائل کریں دھمکائیں نہیں ،ایک آخری بات ضروری کہ اس وقت جو سوشل میڈیا پر بڑے بڑے پڑھے لکھے خان کی اس بات پر بحث کر رہے ہیں، اصل میں وہ اس سے مراد wait لے رہے تھے۔ہاں آپ یہ کہہ لیں کہ وہ جو بات کرتے ہیں پہلے کسی سے مشورہ کر لیا کریں خان صاحب بار بار کوئی نہ کوئی متنازع بات کرتے ہیں پھر ساری جماعت وضاحتیں دیتی ہے اس طرف بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔مسلمانوں کو اذیتی ہوتی ہے دو شعر: سنگ ریزوں کو مہر و ماہ کیا دل کے مرقد کو خانقاہ کیا ہم بھی وحشت میں فرق کر نہ سکے عشق گو ہم نے بے پناہ کیا

 

بشکریہ نایٹی ٹو نیوز کالمز