41

مال روڈ کی کہانی

نیلی راوی کی بھینس جیسی رنگت والی سڑک ،درمیان اور دونوں کناروں پر گھنے پیڑ،کئی مقامات پر اوپر جا کر ایک دوسرے کی شاخیں پکڑے کھڑے۔بارش ہو تو مال روڈ پر ایستادہ درختوں کی سبز زلفوں سے ٹپکتا پانی ،درمیان میں لگی سوسن کے جھومتے پودے ،شہر میں تعطیل ہو تو شاہراہ کی سطوت اور بلند آہنگ سے بات کرنے لگتی ہے۔میں نے بارہا مال روڈ پر آتے ہی اپنا مزاج بدلتے محسوس کیا ۔برطانوی عہد کی تعمیرات دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ انگریزوں نے پہلے سے موجود شہروں کی صفائی کا نظام بہتر کیا لیکن اکثر نئی عمارت اور تعمیراتی منصوبے شہر کے بیرنی حصوں میں شروع کئے۔ انگریز کی زیادہ توجہ زرخیز زمینوں کی آبادکاری کے ذریعے اناج پیدا کرنے اور سرکاری محصولات میں اضافے پر تھی۔ لاہور شہر میں بھی انگریز کی سوچ اسی نوع کی تھی۔ انگریز حکام نے مغل اور سکھ دور کی عمارات میں ردوبدل اور ان کی مرمت کرکے دفاتر میں ڈھال لیا۔ انگریزوں نے اپنی سلطنت میں ہر شہر کے اندر مال روڈ تعمیر کئے۔مری کا مال روڈ اس کی مثال ہے۔برطانیہ میں مال آف لندن ہے جسے پہلے پال مال کہا جاتا تھا۔پال مال لندن شہر کی ان شاہرائوں میں سے ایک ہے جہاں اٹلی سے آیا ایک کھیل pallem aileکھیلا جاتا تھا۔انارکلی بازار کا وہ حصہ جو جین مندر سے شروع ہو کر یوسف فالودہ شاپ تک جاتا ہے یہ سکھ دور میں فوجی چھائونی تھی۔انگریز نے لاہور پر قبضہ کیا تو پہلے اس چھائونی میں افواج کو ٹھہرایا۔بعد میں چھائونی حضرت میاں میرؒ کے مزار کے قریب علاقے میں منتقل کر دی گئی۔ لاہور میں مال روڈ بنانے کا خیال لیفٹیننٹ کرنل نیپئر کو 1851ء میں آیا۔کرنل نیپئر سول انجینئر تھا۔انگریز کو ایک ایسی سڑک کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی جو انارکلی چھاونی سے میاں میر چھائونی تک جاتی ہو۔سڑک کی تعمیر کے لئے ابتدائی طور پر لاگت کے دو تخمینے تیار کئے گئے۔پوری سڑک کنکروں سے بنانے کے لئے 12544روپے اور کنکروں کے نیچے اینٹوں کی روڑی کوٹ کر چھ انچ کی تہہ جمانے پر 10428روپے خرچ ہونے کا اندازہ لگایا گیا۔اسے ایک بھاری بجٹ سمجھا گیا تاہم حکومت کا خیال تھا کہ شہر اور چھائونی کے درمیان سفر میں آسانی اور سہولت کی خاطر یہ بھاری اخراجات قرین انصاف ہیں۔حکومت پنجاب کے ریونیو ڈیپارٹمنٹ نے کرنل نیپئر کی رپورٹ اور تخمینے کی منظوری اپریل 1851ء میں دی۔ 1876ء سے قبل کے نقشوں میں مال روڈ کو لارنس روڈ لکھا گیا ہے۔ مال روڈ کی تعمیر کے ساتھ ہی انگریز حکام نے سکھ عہد کے اہم افسر جمعدار خوشحال سنگھ کی حویلی کو اپنی ضرورت کے مطابق ڈھال کر اسے گورنر ہائوس کی حیثیت دیدی۔حویلی میں نئی تعمیرات اور مرمت کے کاموں پر 10ہزار روپیہ خرچ ہوا۔تعمیر1851ء سے تعمیر شروع ہوئی اور 1853ء میں مکمل کر لی گئی۔ ہنری لارنس نے گورنر کے طور پر اپنی رہائش یہاں منتقل کر لی۔یہ عمارت سر رابرٹ مونٹگمری کے دور میں گورنمنٹ ہاوس کہلائی ۔ کاموں پر 10ہزار روپیہ خرچ ہوا۔1860ء کا عشرہ مال روڈ کی آرائش اور اس کے کنارے نئی عمارات کی تعمیر کے حوالے سے تاریخ ساز ہے۔ 1867ء میں لاہور شہر کا جو نقشہ تیار کیا گیا وہ انگریز کے قبضے کے بعد شہر کا جامع ترین نقشہ تھا۔اس نقشے میں دیکھا جا سکتا ہے کہ میاں میر چھائونی موجود ہے۔ انارکلی کا سول سٹیشن‘ لارنس گارڈن‘ ریس کورس پارک‘ ریلوے کی عمارات اور اس کے قریبی علاقوں میں سڑکوں کا جال بچھا دیا گیا۔مغلوں اور سکھ حکمرانوں کی نسبت انگریز نے نئے علاقوں کو مال روڈ کے اردگرد آباد ہونے کا موقع دیا اور وہاں مال روڈ اور اپر مال روڈ کا استعمال ہوا۔شروع میں کشادہ اور کھلی جگہوں میں چھوٹی چھوٹی عمارات تعمیر کی گئیں۔مال روڈ پر نمائش گاہیں‘ ٹولٹن مارکیٹ اور عجائب گھر تعمیر کیا گیا۔انارکلی بازار کے اردگرد نو آبادیاتی دور کی عمارات بعد میں تعمیر ہوئیں۔1867ء میں لارنس ہال اور مونٹمگری ہال کو ملا دیا گیا۔مونٹگمری ہال اب قائداعظم لائبریری کہلاتا ہے۔ 1861ء میں ایگری کلچر اینڈ ہارٹیکلچر سوسائٹی نے مال روڈ پر گورنر ہائوس کے قریب کسی موزوں مقام پر بوٹینکل گارڈن بنانے کا فیصلہ کیا۔فیصلہ کیا گیا کہ باغ کے وسط میں سرجان لارنس کے نام سے ایک ہال تعمیر کیا جائے۔نمائش گاہ روڈ نیشنل کالج آف فائن آرٹس سے گورنمنٹ کالج کے گیٹ تک جانے والی سڑک کو کہتے تھے۔ٹولنٹن مارکیٹ 1864ء میں نمائش گاہ کے طور پر تعمیر ہوئی۔شکر ہے چند برس قبل اسے مرغیوں کے گوشت اور پرندوں کی مارکیٹ سے بدل کر پھر سے نمائش گاہ بنا دیا گیا۔ 1875ء کے نقشے کے مطابق پہلے مال روڈ اس سڑک کو کہتے تھے جو ضلع کچہری سے لے کر چوبرجی کے پاس ملتان روڈ سے جا ملتی ہے۔پھر اس کے اردگرد ہال روڈ‘ ایبٹ روڈ‘ میو روڈ‘ مزنگ روڈ اور ٹیمپل روڈ جیسی سڑکیں تعمیر ہو گئیں۔یوں مال روڈ کو لاہور کے ڈھانچے میں ریڑھ کی ہڈی جیسی حیثیت مل گئی۔بعد میں مال روڈ سے متصل ایک اور سڑک بیڈ روڈ بن گئی۔اس زمانے کے نقشے میں ایک بڑا علاقہ انارکلی باغ کے طور پر موجود ہے۔اسی باغ میں بعد میں اسلامیہ کالج سول لائنز‘ ایوان عدل‘ سول سیکرٹریٹ اور دیگر عمارات تعمیر ہوئیں۔ مال روڈ کا ذکر ہو اور زمزمہ توپ کی بات کیسے نہ ہو۔لاہور عدائب گھر کے سامنے یہ توپ 1870ء سے کھڑی ہے۔یہ توپ احمد شاہ ابدالی کے ایک وزیر شاہ ولی نے تیار کرائی۔ (جاری ہے)

 

بشکریہ نایٹی ٹو نیوز کالمز