66

ہے کوئی، پاکستان کا؟

مملکت اپنی تاریخ کے بدترین بحران میں۔ایک تہائی ملک سیلاب میں ڈوبا ،سو فیصد قرضوں میں ڈوبا ہواہے۔2018ء سے اُٹھنے والا معاشی دیوالیہ ، طوفان بن کرریاست کوشکنجے میں لے چکا ہے۔

پچھلے 70سال مانگے تانگے پر گزر اوقات ،جھجھک شرم ابدی نیند سو چکے ۔ عرصہ سے بین بجارہا ہوں ، آہ و بکاصد ابصحرا ،پانی سر سے اوپر،ملک ہر مد میں ڈوب چکاہے۔

تاریخی حقیقت عدم استحکام ملکوں کے لئےجان لیوا ، قومیں تحلیل ہوجاتی ہیں۔75سالہ قومی سیاست کا جائزہ لیں ،1951سے فی زمانہ ،سیاسی عدم استحکام اورحکومتی اکھاڑ پچھاڑ میں ہماری اسٹیبلشمنٹ مشاق اوربا صلاحیت،حاضر سروس نے طاقت سے سب کچھ حاضر رکھا۔انواع و اقسام کے نظام اس احتیاط کیساتھ متعارف کرائے کہ رائج الوقت آئین کی پامالی رہی۔

 مملکت کی سخت جانی، صاحب فراش ضرور،جان ابھی باقی ہے۔ آج تک تمام وزرائے اعظم کو زور زبردستی اقتدار سے علیحدہ کیا گیا ۔کوئی ہے صاحب فکرو بصیرت جو دلاسہ دے سکے؟لمحہ فکریہ،اہل دانش باجماعت مایوسی میں غرقاب نظر آتے ہیں۔عمران خان اور متعلقین کو یہ سمجھانا ممکن نہیں کہ موصوف کا ساڑھے تین سالہ دورِ اقتدارنا اہلی،بد انتظامی،کرپشن کی بدترین مثال رہا۔آغازِ سیاست سے برضا و رغبت اسٹیبلشمنٹ کا مہرہ بن کر’’ سیاست یا سیاستدانوں‘‘ کے خلاف مہم جوئی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا ،سیاسی عدم استحکام متعارف کروانے میںمؤثرمُہرہ بنے۔اوائلِ سیاست سے غیر آئینی سوچ کے زیر سایہ اپنی سیاست کو پروان چڑھایا۔ پچھلے آٹھ سال،جنون کی حد تک استعمال میں رہے۔ اسٹیبلشمنٹ کا زینہ تریاق ثابت ہوا۔عمران خان کے اقتدارتک پہنچنے کے سفر نے قومی سیاسی عدم استحکام کو چار چاند لگائے،بالآخراقتدارہر شعبہ ہائے زندگی میں وطنی کل پرزے ڈھیلے کر گیا۔ اقتدار سے معزولی اگرچہ آئینی ذریعے سے، اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ نے عمران سیاست میں جان ڈال دی۔ 2014 میں اسٹیبلشمنٹ کاعزم کہ عمران خان کو اقتدار تک پہنچانا ہے، میڈیا کو عمران کااسیربنا ڈالا ۔گرفتارمیڈیا نے جہاں عمران خان کے جھوٹے بیانیہ کو اجاگر رکھاوہاں سیاستدانوں کی بلا تفریق کردار کشی میں فراخ دلی سے کام لیا،جمہوری اداروں کے خلاف رائے عامہ کو اکسایا ۔حامی مددگارعدالتوں نے اپنے’’ شاندار‘‘ فیصلوں سے جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ ثابت کرنے میں ہرگزبخل نہ دکھایا۔آج ملکی نظام سو فیصد جھوٹ پراستوار ہے۔آج دو آتشہ، سوشل میڈیا عمرانی سیاست کی تدوین و آرائش کا جزو لاینفک بن چکا۔دلچسپ اتنا کہ عمران خان اس طاقت سے آج اپنے خالقوں کونگلنے کوتیارہے۔

سوشل میڈیا کی اَت، سیلاب کی تباہ کاریوں سے قوم کی توجہ ہٹا کر عمران خان کا جھوٹ بیانیہ چار سو چھا گیا۔سیلاب کی امدادی سرگرمیوں میں روڑے اٹکائے جا رہے ہیں۔ ہرطرح کا گھٹیا اور معاندانہ پروپیگنڈا کر کے رخنہ ڈالا جا رہا ہے۔کھلے عام یو این سیکرٹری جنرل کی پاکستان آمد پر طوفانِ بدتمیزی کھڑا کیا۔کبھی بھکاری کا طعنہ اور کبھی فنڈز صحیح استعمال نہ ہونے کی درفطنی۔پستی اور گراوٹ کی انتہا کہ شوکت ترین پنجاب اور کے پی کے وزرائے خزانہ کو فون کر کے آئی ایم ایف پروگرام رکوانے کے لئے منصوبہ بندی کرتا ہے۔ایک طرف جہاں جھوٹ اور پروپیگنڈہ کے ذریعے ہر منفی کام کر ڈالا تو دوسری طرف عمران خان نے اپنی چوری، غیر قانونی غیر اخلاقی حرکات و سکنات کو پس پردہ رکھنے کے لئے جارحانہ طریقہ اپنائے رکھا ۔تمام ادارے خصوصاً عسکری ، عدلیہ اور الیکشن کمیشن پر تابڑ توڑ حملے کہ ساکھ مجروح رہے۔ مقصد تین سالہ اقتدار میںکرپشن اسکینڈل ،مالی اور اخلاقی بد عنوانیوں پر بات نہ ہو۔

مشیت ایزدی آج سیاست میں بہت کچھ عمران خان کے مطابق ،مد مقابل چھوٹی بڑی ساری سیاسی جماعتیں باجماعت ایک صف میںلاچار،بے یارومدد گار ہیں۔ 18پارٹیوں کا حکمران ٹولہ 75سال کی ساری ناکامیاں اپنے کھاتے میں ڈال چکا ہے۔ بیانیہ مؤثر ہونے کی وجہ بھی یہی کہ سامنے کوئی دوسرا فریق میدان عمل میں ہے ہی نہیں ۔

 دوسری طرف سیلاب زدہ علاقوں میں نیا سیاسی منظرنامہ وجود میں آنے کو۔قوی امکان،پیپلز پارٹی کو جہاں سندھ میں خاطر خواہ سیاسی نقصان پہنچنا ہے،وہاں اسٹیبلشمنٹ کے لئے بلوچستان میں مشکلات بڑھی ہیں۔ اندرونی خلفشار اور تصادم ،ٹکراؤ کے بیانیہ نے عمران خان کی سیاست کو عروج دے رکھا ہے۔ بدقسمتی!گول پوسٹ اور اہداف میں تبدیلی ،بیانیہ کے تضادات عمران خان کی سیاست کا بال بھی بیکا نہ کر سکے۔

امریکی ساز ش کے سفرسے ابتدا ،غیر محب وطن کا فوجی سربراہ بن جانے کے شوشہ پر انتہا آج آرمی چیف کی تعیناتی کو متنازعہ بنانے کے لئے وقف ہے ۔ گو عمران خان کا مطالبہ انتخابات ضرور، عملاًپچھلے 6ماہ سے اپنے سامعین کو جس طرح اکسایا،انتخابات کی بجائے تصادم ہی راہ عمل ہے۔

اگرچہ وہ اسٹیبلشمنٹ کو بذریعہ زور زیر کرنے کی خواہش سے مالا مال ہیں،عملاً ممکن نہیں۔ پیش نظر یہ بھی، ’’پروجیکٹ عمران خان ‘‘ میں امریکیCIAقدم بہ قدم ساتھ رہی۔اہم امریکی شخصیت رابن رافیل کی بنی گالہ آمد ،عمران خان سے رازو نیاز ملاقات، امریکہ عمرا ن تعلقات کی نوعیت کی خبر ہی تو ہے۔ نوازشریف کیخلاف JITکے دس والیم میں کہیں نہ کہیں CIA بالواسطہ یا بلاواسطہ موجود رہی۔ وطن عزیز میںسیاسی عدم استحکام ،معاشی بحران ،انتظامی ناکامی کی عمارت کی تعمیرعمران خان نے محنت شاقہ سےکی۔ رابن رافیل کی بنی گالہ آمد اور ملاقات کے بعد عمران خان کی اسٹیبلشمنٹ قیادت سے ایک یا دو ملاقاتیں اسلئے ممکن رہیں کہ ماسٹر امریکہ، تمام فریقین میںمفاہمت کی پوزیشن میں ہے۔

چکوال کی تقریر نے اتنا ضروربتایا کہ ملاقاتیں بے نتیجہ اوربے فیض رہیں۔ طبل جنگ بجانا عمران خان کی مجبوری بن گیا ہے۔کیا عمران خان دھرنا 3کے لئے تیار ہیں؟۔ عمران خان کی کوشش کہ اپنے ساتھ ، ’’خود تو ڈوبے ہیں صنم ،تم کو بھی لے ڈوبیں گے‘‘،اس عمل میں پوری مملکت نے بھونچال کی زد میں رہنا ہے۔جبکہ حکومتی ٹولہ تہمت ناحق کی زد میں،اس لڑائی اور قومی دگرگوں حالات میںخواہ مخواہ خرچ ہونے کو۔آنے والے دن مملکت پر بھاری۔ یا اللّٰہ رحم!

بشکریہ جنگ نیوزکالم