40

Other days

Other days ارشد وحید کا انگریزی زبان میں شائع ہونے والا نیا ناول ہے۔ ارشد وحید کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ اردو اور انگریزی زبان میں خوبصورت افسانے اور ناول تحریر کرتے ہیں۔

ارشد وحید نے لندن کے اسکول آف اکنامکس سے سوشل پالیسی اینڈ پلاننگ میں 1997ء میں ایم ایس سی کی سند حاصل کی۔The University of Buckinghamسے گورنمنٹ کے موضوع پر فیلوشپ کی۔ 1998میں سویڈن کی UPPSALA یونیورسٹی سے ایک سال کا ریسرچ بیس کورس مکمل کیا۔

 

ارشد وحید بنیادی طور پر ڈاکٹر ہیں۔ سب سے پہلے انھوں نے ملتان کے نشتر میڈیکل کالج سے 1988 میں ایم بی بی ایس کی سند حاصل کی تھی، پھر برطانیہ چلے گئے جہاں انھوں نے سوشل سائنس کے مضامین میں تحقیق کی۔ ارشد وحید نے پہلا ناول گومن اردو میں تحریر کیا تھا۔ اس ناول کا پہلا ایڈیشن کورا پبلی کیشنز نے اور دوسرا ایڈیشن جمہوری پبلی کیشنز نے شائع کیا۔ ارشد وحید نے کئی انگریزی ناولوں کے اردو میں اور اسی طرح اردو کے معروف ناولوں کے انگریزی میں ترجمے کیے۔

 

لندن میں مقیم پاکستانی صحافی اور مارکسٹ دانشور امین مغل نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ یہ ایک الگ ہی ناول ہے۔ مخصوص حقوق کی سوچ رکھنے والی اور ایک ایسے موضوع پر جس پر اکثر ہماری دنیا توجہ نہیں دے پاتی۔ یہ ناول حقیقی کام کرنے والے سماجی اداروں پر خصوصی توجہ دیتا ہے۔

بالکل مصدقہ اور انتہائی نازک قربت، اس ناول کے کردار سایہ کے ساتھ تعامل عمل کرتے ہیں ،جو علامتی مفہوم کی ترجمانی کرتا ہے۔ منزل مقصود انتہائی مشکل ترین حالات کے بعد ثمرمند ہوتی ہے، تاہم رحم دل طرز کی وجہ سے پروقار اور بے داغ نتائج برآمد ہوئے۔ 2000 میں نئے سال کے موقع پر برطانیہ میں مقیم دو پاکستانیوں کو ملنے کا موقع ملا، اس شہر کے یادوں کے دریچے جس کو وہ 70ء کی دہائی میں چھوڑ کر چلے گئے تھے ۔

 

خواب ، رشتہ دار سب یاد آئے، یہی شہر ان کو دوبارہ یاد کررہا ہے۔ اس ناول کے بارے میں کتاب کی پشت پر شائع ہونے والی یہ تحریر کتاب کے متن کو ظاہر کرتی ہے اور اس ناول کا پس منظر یورپ میں چلنے والی بائیں بازو کی تحریک ہے جس سے بہت سے پاکستانی متاثر ہوئے۔ اس ناول میں سارا ، داؤد ،ظفر اور سامی بنیادی کردار ہیں۔ سارا نیویارک یونیورسٹی میں زیر ِ تعلیم ہے۔

سارا اپنی ایک کلاس فیلو مہرین کے گھر پر ہے۔ اس کلاس فیلو نے اپنے ساتھیوں کو بسنت منانے کے لیے جمع کیا ہے۔ مہرین فائن آرٹس کی طالبہ ہے۔ ظفر بائیں بازو کا طالب علم رہنما ہے۔ مصنف نے خوبصورتی سے متحدہ پاکستان کے آخری برسوں کا ذکر کیا ہے۔ سارا پاکستان کے ایک گاؤں سے تعلیم حاصل کرنے کے لیے نیویارک یونیورسٹی میں داخلہ لیتی ہے۔ سارا کے والد مقامی پرائمری اسکول میں استاد تھے اور والدہ ایک گھریلو خاتون ہیں۔

 

سارا کے والد کی گاؤں میں بڑی عزت ہے۔ ایک دن سارا کی دوست مہرین اس کو اسٹڈی سرکل میں مدعو کرتی ہے۔ اس اسٹڈی سرکل میں ظفر روس کے عظیم ادیب میکسم گورکھی کی کتاب ’’ماں‘‘ کے کردار پر بحث کررہا ہوتا ہے۔ مصنف نے کتاب کے پہلے حصہ میں 10ویں باب میں لکھا ہے کہ داؤد اور سارا اپنے کمرے میں بات چیت کررہے ہوتے ہیں۔ اس دوران چند طلبہ کمرے میں داخل ہوجاتے ہیں اور داؤد پر ہاکیوں سے حملہ کرتے ہیں۔ ایک شخص سارا کو بالوں سے پکڑتا ہے اور کمرے سے باہر پھینک دیتا ہے۔ داؤد بے ہوش ہو جاتا ہے اور اسپتال منتقل کردیا جاتا ہے۔

سارا کی دوست مہرین ایک پینٹنگ بناتی ہے۔ سارا اس پینٹنگ کو تکتی رہی جس میں آسمان پر کچھ بادل، کچھ پرندے اور پانی دریا کے کنارے کو چھو رہا تھا جب کہ خاتون کا نصف دھڑ پانی میں ڈوبا ہوا نظر آرہا تھا۔ اس کے کپڑے ہوا سے پھڑپھڑارہے تھے اور کچھ پتے بھی دریا میں تیرتے ہوئے نظر آرہے تھے۔ اس خاتون کا آدھا چہرا اڑتے بالوں سے چھپا ہوا تھا اور پرندے بھی اس کے پاس سے اڑتے ہوئے جارہے تھے۔

مہرین نے پوچھا یہ کیسی لگی؟ سارا نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا کہ یہ پینٹنگ مجھے اچھی لگی ہے اور تمہاری تصوراتی تخلیق کی تو کوئی حد ہی نہیں۔ مہرین نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ پینٹنگ تمہارے لیے ہے۔ سارا نے کہا شکریہ، مہرین تمہارے برش نے تو اس پینٹنگ میں زندگی ڈال دی ہے۔ دونوں دریا کے کنارے سے سڑک کی طرف چل دیتے ہیں اور پھر دونوں یہاں سے براہِ راست یونیورسٹی کے موسیقی کے پروگرام میں شرکت کرنے پہنچ جاتی ہیں۔ پورا اسٹیج روشنیوں سے جگمگا رہا تھا۔ کنسرٹ کے منتظمین تیاری میں مصروف تھے اور بہت سے لوگ اپنی اپنی نشستوں پر براجمان ہوچکے تھے۔

حاضرین گلوکارہ کی آواز اور دھن کے ساتھ جھوم اٹھے۔ طلبہ اپنی اپنی نشستوں سے کھڑے ہو کر تالیاں بجانے لگے جب کہ سارا ایک ہاتھ میں اپنی پینٹنگ دبوچ کر حاضرین کے ساتھ ہم نوا ہوگئیں۔ اسی دوران میں طلبہ کا ایک گروہ اسٹیج پر چڑھ دوڑا، انھیں طلبہ میں سے ایک نے گن نکال کر ہوا میں فائر داغ دیا۔ ہر فرد سہم گیا اور ساز بجائے جانے والے اسٹیج سے فرار ہوگئے۔ سازندے اس افراتفری کے عالم میں اپنے ساز و سامان بھی چھوڑ کر بھاگ گئے۔

گلوکارہ بھی اپنے جوتے چھوڑ کر اسٹیج سے غائب ہوگئی۔ فائر کرنے والے نے چلا کر کہا ’’ہم اس طرح کی سرگرمیوں کی اجازت اپنے ملک میں نہیں دے سکتے۔ یہ حرام ہے۔ ہم یہاں اپنے معاشرہ کو کافروں کی ثقافتی یلغار سے بچانے آئے ہیں۔‘‘ اور دیکھتے ہی دیکھتے موسیقی کا پورا پروگرام ہی ختم ہوگیا۔

پورا اسٹیج جان بچا کر بھاگنے والوں کی چپلوں اور جوتوں سے بکھرا پڑا تھا۔ سارا ابھی اپنے آپ کو سنبھال بھی نہ پائی تھی کہ ایک اسٹوڈنٹ سارا کے پاس آگیا اور اس سے پینٹنگ چھیننے کی کوشش کی۔ سارا نے مزاحمت کی لیکن اسے یہ بھی ڈر تھا کہ کہیں پینٹنگ پھٹ نہ جائے۔اس لڑکے نے سارا کو اس کی قمیض کے کالر سے پکڑ کر جھٹکا دیا۔ سارا نے لڑکے سے اپنی پینٹنگ چھین لی اور اپنے بازو اور سینے کے ساتھ لپیٹ کر رکھ لی۔ اس لڑکے نے پینٹنگ پھاڑنے کی کوشش کی لیکن اسی اثناء میں بھاگتا ہجوم درمیان سے گزرا اور اسے پیچھے کی جانب دھکیل دیا۔ سارا بھی اپنی اس پینٹنگ کو لپیٹ کر ہال سے باہر نکل گئی۔ اس ناول کا اختتام لاہور میں داؤد کے قتل پر ہوتا ہے۔

اس ناول کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصنف نے اگرچہ یہ ساری منظر کشی نیویارک یونیورسٹی کی کی ہے مگر حقیقتاً پاکستان کی یونیورسٹیوں میں دائیں بازو کے رجعت پسندوں کی دہشت گردی کو اجاگر کیا ہے۔

اسد بٹ نے اپنی زندگی مزاحمتی تحریکوں کو منظم کرنے میں گزاری ہے، وہ آج کل ایچ آر سی پی کے کو چیئرمین ہیں۔ اسد بٹ اس ناول کے مطالعہ کے بعد لکھتے ہیں کہ کتاب یا ناول جو کسی خاص موضوع پر لکھی گئی ہو اگر کتاب کا پہلا باب قاری کو اپنی گرفت میں نہ لے تو پھر قاری کتاب کا پورا مطالعہ نہیں کرتا۔ مگر ارشد وحید نے مختصر اور آسان انگریزی جملے لکھ کر ہم جیسے قارئین کے لیے کتاب کے مطالعہ کو آسان کردیا ہے۔

یہ ناول بائیں بازو کی تحریک کی کامیابی اور ناکامیوں کے گرد گھومتا ہے۔ اس آرٹیکل میں اس کتاب کا بہت ہی مختصر جائزہ لیا گیا ہے، پوری کتاب میں زیادہ دلچسپی کا مواد موجود ہے۔

بشکریہ ایکسپرس