96

کابل کہانی: کل اور آج میں فرق

کابل کا میرا تیسرا سفر تھا، پچھلی دونوں بار حامد کرزئی اور اشرف غنی کے ادوار میں جانا ہوا۔ تب اور آج کے کابل میں بہت نمایاں فرق دیکھنے کو ملا۔ سب سے بڑا فرق تو سکیورٹی اور امن وامان کی صورتحال کا ہے ۔ چند سال سال افغانستان گئے تو کابل ائیرپورٹ پر غیر معمولی سکیورٹی کا سامنا کرنا پڑا۔ انتہائی سخت چیکنگ اور وہ بھی کئی جگہوں پر ہوئی، بیلٹ اور جوتے تک اتار کر چیک کرائے گئے اور جب سامان لے کر باہر نکلے تو کم وبیش آدھا کلومیٹر سامان گھسیٹ کر پیدل چلنا پڑا ۔ باہر کا گیٹ اتنا دور تھا۔ یہ سب طالبان کے حملوں کے خوف سے تھا۔ کابل شہر میں بھی جگہ جگہ پر سکیورٹی چیک پوسٹیں بنی تھیں، وہاں پر امریکی ساختہ اسلحے اور تمام تر حفاظتی سامان سے لیس گارڈ کھڑے ہوتے ۔ فضا میں خوف اور دہشت کی بو سونگھی جا سکتی تھی۔ ان گارڈز نے بلٹ پروف جیکٹس، مخصوص قسم کے ہیلمٹ وغیرہ کے علاوہ گھٹنوں پر بھی خاص انداز کے خول چڑھائے ہوتے۔ جیسے ابھی کہیں سے حملہ ہوجائے گا اور ان گارڈز کو جنگی انداز میں مقابلہ کرنا پڑے گا۔ ہمارا قیام تب کابل کے معروف انٹرکانٹینٹنل ہوٹل میں تھا۔ ہوٹل میں داخل ہوتے ہوئے بھی انتہائی سخت چیکنگ اور کئی آہنی دروازوں سے گزرنا پڑا۔ سامان کے بیگ ہر جگہ کھلوا کر ایک ایک چیز چیک کرانی پڑی۔ بڑی مشکل سے کمرے میں پہنچے تو فوری طور پرسکیورٹی بریفنگ کے لئے بلا لیا گیا۔ ہوٹل والوں نے ایک سکیورٹی ایکسپرٹ کی خدمات حاصل کی ہوئی تھیں۔ اس گورے نے ہمیں ہوٹل کی چھت پر بلایا اور آدھے پونے گھنٹے تک سخت حفاظتی تدابیر اختیار کرنے پر لیکچر دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ کمرے میںچٹخنی لگانے کے ساتھ حفاظتی زنجیر بھی ضرور لگائیں، رات کو کوئی دستک دے تو بغیر آواز پہچانے دروازہ نہ کھولیں ، ہوٹل سے باہر اکیلے کسی صورت میں نہ جائیں، بازار وغیرہ میں قابل اعتماد مقامی گائیڈ کے بغیر نہ جائیں وغیرہ وغیرہ۔ ہم لوگ حیرانی سے یہ سب سنتے رہے۔ ممکن ہے اس بریفنگ سے ہم قدرے خوفزدہ ہوجاتے ، مگر ایک دو ساتھیوں نے ٹھٹھا لگا کر باآوازبلند کہہ دیا کہ گورا ہمیں جان بوجھ کر ڈرا رہا ہے کہ کہیں ہم اپنی مرضی سے گھومتے پھرتے نہ رہیں۔ یوں ہم لوگوں نے اس بریفنگ کو ایزی لیا اور زیادہ دل سے نہ لگایا۔ تین چار دن کا قیام تھا ، واپس آگئے۔ مشکل سے تین چار ہفتے گزرے ہوں گے کہ اخبارات میں خبر آئی کہ اسی ہوٹل میں گورنرز کانفرنس تھی تو اس پر بڑا حملہ ہوا، جنگجو ہوٹل کے اندر تک گھس گئے اور خاصا خون خرابا ہوا۔ تب یہ سوچ کر جھرجھری آئی کہ شکر ہے ہمارے سامنے یہ نہیں ہوا۔ کابل کے بازاروں میں گھومتے ہوئے تب ایک مخالفانہ کیفیت کا احساس ہوتا تھا۔ پولیس یا سکیورٹی کے لوگ کہیں پر روکتے اور پتہ چلتا کہ پاکستانی صحافی ہیں تو ان کا رنگ بدل جاتا اور چہرے سے ناگواری ٹپکنے پڑتی۔ مجھے تو اتفاق نہیں ہوا، مگر دیگر صحافی دوست بتاتے تھے کہ افغان انٹیلی جنس این ڈی ایس (NDS)کے اہلکار انہیں تنگ اور ہراساں کرتے رہے ہیں۔ اس بار کابل بالکل ہی تبدیل شدہ شہر تھا۔ ائیرپورٹ پر نارمل کی سکیورٹی تھی۔ کسی نے ہمارے جوتے اتروائے اور نہ ہی بیلٹ اتار کر الگ ٹوکری میں رکھنے کا کہا۔ چند منٹوں میں فارغ ہوگئے ۔ ائیرپورٹ پر عملہ پچھلی حکومت کے زمانے کا تھا، خواتین بھی نظر آئیں۔ ائیرپورٹ سے باہر نکلے تو بالکل ہی مختلف منظر تھا۔ زیادہ نہیں چلنا پڑا اور آرام سے باہر آ گئے۔ کمپائونڈ میں اکا دکا طالبان گارڈز نظر آئے ۔ میرے پچھلے دونوں وزٹ میں کابل ائیرپورٹ کی دیواروں پر مرحوم تاجک کمانڈر احمد شاہ مسعود کے بلند قامت بورڈ اور تصاویرنظر آتیں۔ یوں لگتا جیسے افغانستان کے مالک یہی صاحب تھے ۔ پہلی بار کابل گیا تو ائیرپورٹ پر احمد شاہ مسعود کی تصاویر کے سوا کچھ اور نظر نہیں آیا، دوسری بار یہ تصاویرتھوڑا کم ہوگئیں مگر موجود تھیں۔کسی اور رہنما کا نام یا تصویر نظر نہیں آئی۔ یاد رہے کہ احمد شاہ مسعود پروفیسر برہان الدین ربانی کی جماعت جمعیت اسلامی کے ممتاز جنگجو کمانڈر تھے۔ نائن الیون سے چار دن پہلے احمد شاہ مسعود پر ایک قاتلانہ حملہ ہوا،شدید زخمی ہوئے اور نو ستمبر کو ہلاک ہوگئے۔ احمد شاہ مسعود سخت ترین طالبان مخالف تھے اور طالبان کی پہلی حکومت کے دوران وہ اپنے مسکن وادی پنجشیر پر مسلسل قابض رہے ۔ نائن الیون کے چند ہفتوں بعد امریکہ افغانستان پر چڑھ دوڑا۔ طالبان حکومت ختم ہوگئی اور پھر حامد کرزئی افغان سربراہ بن گئے، اس دور میں تاجک اہم حکومتی پوزیشنز پر آگئے اور انہوں نے احمد شاہ مسعود کو ایک ملکی اور قومی ہیرو کا درجہ دے دیا۔ آج کے کابل میں احمد شاہ مسعود کا کوئی نام لینے والا نظر نہیں آتا۔ ائیرپورٹ پر مسعود کی تصویر یا نام نہیں تھا۔ ائیرپورٹ پر ویسے طالبان کی بھی کوئی نشانی موجود نہیں تھی۔ امارات اسلامیہ افغانستان کا نام البتہ بعض جگہوں پر نظر آیا، ایک دو جگہوں پر قرآنی آیات اور احادیث لکھی تھیں، جن میں اتحاد، اتفاق کی تلقین کے علاوہ یہ پیغام بھی تھا کہ اسلام دین امن ہے اور کسی کونقصان نہ پہنچائو وغیرہ وغیرہ۔ کابل شہر میں بھی کم وبیش یہی صورتحال تھی۔ پہلے جیسی سکیورٹی سے دس گنا کم حفاظتی انتظامات ۔ چیک پوسٹیں تھیں، وہاں پر سادگی سے نوجوان طالبان گارڈز اپنی یونیفارم میں کھڑے گزرتی گاڑیوں کو گہری نظروں سے دیکھتے رہتے۔کسی پر شک ہوجاتا تو روک کر پوچھ لیتے ۔ شام کے بعد یہ سکیورٹی قدرے زیادہ ہوجاتی ۔ زیادہ تربیس بائیس سالہ نوجوان مستعدی سے کھڑے ملتے۔ انہیں اندازہ ہوجاتا کہ مقامی نہیں تو پھر پاسپورٹ دیکھنے کا مطالبہ کرتے ۔ پاسپورٹ دیکھ کر واپس دے دیتے اور کبھی کبھار کوئی گارڈہمارے شہر کا نام پوچھتا یا اردو، پنجابی میں کوئی جملہ بول کر خوش مزاجی کا مظاہرہ کرتا۔ کابل اور دیگر شہروں میں مجموعی فضا پرامن اور پرسکون ہے۔ کہیں کچھ غیر معمولی، پریشان کن یا خوف پھیلانے والا تاثر نہیں ملا۔ پچھلے دونوں سفر کے دوران لوگوں میں ایک خاص قسم کا خوف، بے یقینی اور عدم تحفظ صاف نظر آتا تھا۔ اس بار خوف نہیں، سکون اور اطمینان تھا۔ کسی انہونی کا خطرہ بھی محسوس نہیں ہوتا ۔ داعش کی صورت میں البتہ ایک خطرہ موجود تو ہے، مگر اس کی سنگینی اور شدت ابھی زیادہ نہیں۔ طالبان بہرحال اس حوالے سے چوکس اور مستعد ملے۔ داعش نے پچھلے کچھ عرصے میں کابل کے اندر دھماکے کئے ہیں، طالبان انٹیلی جنس اس نیٹ ورک کو توڑنے میں کسی حدتک کامیاب ہوئی ہے۔ ایک بڑا مسئلہ بہرحال آج موجود ہے وہ ہے مالی وسائل کی کمی اور بے روزگاری۔ نیٹو افواج کے چلے جانے سے ہزاروں ، لاکھوں لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں۔ طالبان نے افغان بیورو کریسی یا انتظامی اہلکاروں اور صحت، تعلیم وغیرہ جیسے محکموں کے کارکنوں کو نہیں نکالا۔ ساڑھے چار لاکھ کے قریب یہ سرکاری ملازمین ہیں جنہیں ملازمت پر برقرار رکھا گیا۔ ان محکموں میںٹاپ کے کلیدی عہدوں پر طالبان نگرانی کے لئے آ گئے ہیں، مگر نیچے اور مڈل رینج میں وہی پرانے لوگ کام کر رہے ہیں۔ افغان آرمی کو البتہ تحلیل کر دیا گیا ، اس کے بارے میں تب کہا جاتا تھا کہ تین لاکھ فوج ہے، اب پتہ چلا کہ حقیقی آرمی ایک لاکھ سے کچھ زیادہ تھی، باقی وارلارڈز کی نجی ملیشا تھی، جس کی تنخواہوں وہ سرکار سے لیتے تھے، خاصا حصہ گھوسٹ ملازمین کا بھی تھا،صرف کاغذوں پر موجود۔ سابق افغان نیشنل آرمی میں سے کچھ جو طالبان حامی تھے، وہ تو ان کے ساتھ آ گئے ہیں، باقی اپنے شہروں، قصبات، دیہات میں چلے گئے، وہاںاپنے طور پر چھوٹے موٹے کام کر کے گزارہ کر رہے ہیں۔ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں تمام تر تنخواہیں اقوام متحد ہ کی طرف سے دی جا رہی ہیں۔ ہسپتالوں میں مفت دوائیاں اور علاج کے ساتھ تعلیمی اداروں میں بھی مفت تعلیم جاری ہے۔ روزگار ایک اہم مسئلہ ہے۔ امریکی دور میں ڈالروں کی برسات تھی، آج ظاہر ہے صورتحال بدل چکی۔ کچھ جگہوں پر تنخواہیں کسی قدر تاخیر سے مل رہی ہیں۔ امریکی اور عالمی پابندیوں کی وجہ سے بنکنگ چینلز بندہیں ۔لوگوں کے بینک اکائونٹ میں پیسے پڑے ہیں مگر پابندیوں کی وجہ سے وہ پیسے نکال نہیں سکتے۔ صرف دو سو ڈالر ہر مہینے نکالنے کی اجازت ہے، اس سے ایک پورے گھرانے کا کیا بن سکتا ہے؟ایک طالبان رہنما نے بتایا کہ پہلے لوگ کہا کرتے تھے کہ مالی وسائل کی ہمیں پروا نہیں، جان کی سلامتی چاہیے۔ اب جان ومال کا تحفظ تو ہم نے انہیں فراہم کر دیا ہے، تھوڑی بہت تنگی ترشی ہے تو اس کا مقابلہ ہم سب ہی کر رہے ہیں۔ مہنگائی بھی خاصی زیادہ ہوچکی ۔ آٹا اور پٹرول وغیرہ پہلے سے زیادہ مہنگا ہے۔ ویسے پٹرول ،ڈیزل پاکستان کی نسبت سستا ہے۔ افغان کرنسی پاکستان سے زیادہ مضبوط ہے، تقریباًپونے تین پاکستانی روپے کا ایک افغانی بنتا ہے۔ ستائیس سو پاکستانی روپوں کو افغانی میں بدلوایاتو ایک ہزار افغانی ملے۔کابل میں پٹرول ستتر77افغانی جبکہ ڈیزل ستانوے 97افغانی فی لٹر تھا، کسی پٹرول پمپ پرمعمولی اضافے کے ساتھ بھی فروخت ہو رہا تھا۔ پاکستانی روپیہ کمزور ہونے کا نقصان یہ ہوا کہ ہمارے لئے چیزیں زیادہ مہنگی ہوگئی ہیں۔پہلے افغانستان سے ڈرائی فروٹ سستا مل جاتا تھا، اب ہمیں پاکستانی روپوں میں لاہور کے ریٹ سے بھی مہنگا پڑ تا ہے۔ (جاری ہے)

 

بشکریہ نایٹی ٹو نیوز کالمز