217

شہباز گل کی گرفتاری اور پیغام کی ڈیلیوری

شہباز گل کو گرفتار کر لیا گیا۔ ہماری رائے میں تو شہباز گل کو اس اصول کے تحت گرفتار کیا گیا ہے جو اپنے بچے سے نہایت محبت کرنے والی ماں نے اس کی استانی کو سمجھایا تھا۔ ”دیکھیں میرا بچہ بہت حساس ہے، اسے بہت لاڈ پیار سے پالا گیا ہے۔ اگر وہ کوئی غلطی یا بدتمیزی کر دے تو اس کے ساتھ بیٹھے بچے کو تھپڑ جڑ دیں، میرا بچہ خود بخود سمجھ جائے گا اور آئندہ غلطی نہیں کرے گا“ ۔ لاڈلے بچے کو پیغام تو ڈیلیور ہو گیا ہے لیکن غلطی بہرحال بہت بڑی ہے، عین ممکن ہے کہ استانی سے لاڈلے بچے کو بھی چند تھپڑ پڑ جائیں۔

شہباز گل نے یوٹیوب پر مقبول ترین پاکستانی ٹی وی چینل اے آر وائے کے ایک پروگرام میں کچھ انٹ شنٹ بولا تھا۔ ٹی وی چینل والے اتنی زیادہ لائیو ٹرانسمیشن بھی نہیں کرتے۔ وہ چند سیکنڈ کے وقفے سے نشر ہوتی ہے جس کے دوران کوئی شخص الٹی سیدھی بات کر دے تو اس پر ٹوں ٹوں چسپاں کر دی جاتی ہے۔ مگر شہباز گل تو کئی منٹ اپنی بات کہتے رہے لیکن ان کی بات پر ٹوں ٹوں نہ کی گئی۔ نہ پروڈیوسر نے ان کی آواز بند کی اور نہ اینکر نے دوسرے مہمان کو مائیک دیا۔ اب اے آر وائے والے کہتے ہیں کہ ہمیں کیا خبر کہ مہمان کیا کہہ دے، اور ہم اپنے مہمان کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔

اقتدار سے علیحدگی کے بعد سے تحریک انصاف مسلسل فوج کے خلاف مہم چلا رہی تھی۔ کبھی جنرل باجوہ کو میر جعفر قرار دے کر بعد میں کہا جاتا تھا کہ وہ شہباز شریف کو کہا گیا تھا، کبھی نیوٹرل جانور قرار پاتا تھا، کبھی کچھ اور۔ جب تک بات جنرل باجوہ کی ذات تک محدود رہی، نہ تو تحریک انصاف کے حامیوں کو کچھ کہا گیا اور نہ ہی اے آر وائے کو پوچھا گیا۔ لیکن اونٹ کی کمر پر آخری تنکا بلوچستان میں ہیلی کاپٹر حادثے میں شہید ہونے والے فوجیوں کے بارے میں الٹی سیدھی باتیں ثابت ہوا۔ اس کے بعد پہلا ایکشن ہوا اور ٹویٹیں کرنے والا اور اس کا ابا معافی مانگتے پائے گئے۔ اور پھر شہباز گل کے اے آر وائے پر بیان نے جس میں فوجی اہلکاروں کو حکم عدولی کی تلقین کی گئی تھی، صبر کا پیمانہ چھلک گیا۔

شہباز گل کو پکڑ لیا گیا۔ ان کے خلاف اداروں کے خلاف بیان بازی اور اداروں کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے سنگین الزامات ہیں۔ سٹی مجسٹریٹ اسلام آباد کی مدعیت میں درج ہونے والی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ

”ملزم نے یہ تمام الفاظ اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر باہم صلح مشورہ کرتے ہوئے ایک سوچے سمجھے ایجنڈے کی تکمیل کرتے ہوئے ایک چینل کی انتظامیہ نے بھی شریک جرم ہوتے ہوئے ٹی وی چینل پر بیان کیے جس میں ٹی وی ملزم کو دانستہ طور پر پورا پورا موقع فراہم کیا اور یہ پروگرام نشر کیا۔ ملزم کے اس سارے بیان اور تقریر کا مقصد ملک اور فوج میں بغاوت کرنا اور ملک کے اداروں کے خلاف جنگ پر اکسانے، جنگ پر مائل کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ اس بیان یا مقصد فوج کے خلاف عوام میں نفرت پھیلانا اور سازش کرنا تھا کہ فوج کے اندر مختلف گروہ بن جائیں اور اس طرح فوجی جوانوں کو اپنے افسران کا حکم نہ ماننے کی ترغیب دینا تھا۔ ملزم نے یہ بیان سوچ سمجھ کر اور ملک میں انتشار پھیلانے کے لیے دیا۔ اس طرح ملک پاکستان کی فوج کو کمزور اور تقسیم کرنے اور پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کے لیے بیان دیا تاکہ ملزم کے نفرت انگیز اور انتہا پسند ایجنڈے کی تکمیل ہو سکے۔“

گرفتاری کے بعد شروع میں تو تحریک انصاف کی لیڈر شپ نے الزامات لگائے تھے کہ سفید کپڑوں میں ملبوس افراد نے شہباز گل کو اغوا کیا ہے، ان پر تشدد بھی کیا گیا۔ ساتھ حسب معمول گلے میں بازو لٹکائے ڈرائیور بھی پیش کر دیا گیا۔ بعد میں ویڈیو سوشل میڈیا پر آئی تو پتہ چلا کہ ڈرائیور کو تو ہاتھ بھی نہیں لگایا گیا تھا، اور شہباز گل کو یونیفارم میں ملبوس اہلکاروں نے گرفتار کیا۔

پھر جب ایف آئی آر درج ہوئی، اور اے آر وائے کے خلاف بھی ایکشن ہوا تو حامیوں کو پتہ چلا کہ بڑی گڑبڑ کر دی گئی ہے۔ کسی ایک شخص کو نشانہ بنانے کو تو برداشت کر لیا لیکن شہدا کی توہین اور ادارے میں بغاوت کی کوشش کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ پھر قلابازیاں سامنے آئیں۔ سابقہ دوست دور جا کر کھڑے ہو گئے۔

شہباز گل کی ہتھکڑیاں پہنے کچہری میں پیشی نے اداس کر دیا۔ تنہائی سی تنہائی ہے جب کپتان کا چیف آف سٹاف پی ٹی آئی کے گڑھ اسلام آباد میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہو اور ارد گرد صرف پولیس والے ہوں، ایک بھی انصافی کارکن شکل نہ دکھائے۔ شہباز گل بھی عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کی دردناک آواز میں گاتا ہو گا

اونج پنڈی تے پشور لگا جاندا
وے بنی گالہ دور تے نئیں

شہباز گل کے خیر خواہ سوچ رہے ہوں گے کہ ایک اتنا پڑھا لکھا شخص جو یہاں بیٹھ کر بھی امریکی یونیورسٹی میں پروفیسری کر رہا ہے، اس دلخراش واقعے کے بعد ملک چھوڑ کر امریکہ چلا جائے گا۔ برین ڈرین ہو جائے گی۔ بدخواہ سوچ رہے ہوں گے کہ اس کیس میں محض برین ڈرین نہیں ہو گی۔ گرفتاری کے بعد بیانات دیکھتے ہوئے بدخواہوں کی بات میں وزن دکھائی دیتا ہے۔

شہباز گل: ”ادارے ہماری جان ہیں، کبھی ادارے کے خلاف بات نہیں کی“

فواد چودھری: ”ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت اور ملکی سلامتی کے ضامن ادارے کے درمیان تفریق ملک کے لئے تباہ کن ہے، پوری کوشش ہے غلط فہمیوں کا ازالہ ہو سیاسی جماعتوں کو بھی ایک دوسرے کے خلاف حد سے آگے نہیں جانا چاہیے حالیہ واقعات سے ملک میں جمہوریت کمزور ہوئی ہے اور انسانی حقوق پامال ہو رہے ہیں“

اسد قیصر: فوج کے خلاف جو بھی بات کرے اس کی مذمت کرتے ہیں جب کہ شہباز گل کی گرفتاری غیر قانونی ہے

پرویز الٰہی : میں نے شہبازگل کو ڈانٹا کہ یہ بڑی بری بات ہے، عمران خان کا بیان ہے کہ جو فوج کے خلاف ہو وہ پاکستانی نہیں ہو سکتا اس لیے تحریک انصاف کی قیادت کو بالکل شہبازگل کے بیان سے الگ ہونا چاہیے۔

کاشف عباسی نے فوج کے لیے اپنے ادارے کی خدمات یاد کرواتے ہوئے اپنے ادارے کے مالکان کا بیان پڑھا: اے آر وائے اور سلمان اقبال نے شہباز گل کے بیان کی مذمت کر دی اور اس سے لاتعلقی ظاہر کی۔ کاشف عباسی کے مطابق چینل کے مالک سلمان اقبال نے کہا کہ ہم ایک پلیٹ فارم ہیں، ہم جب کسی کو لائن پر لیتے ہیں تو اس کا دماغ نہیں پڑھ سکتے کہ وہ ٹی وی پر آ کر کیا کہے گا۔ سٹریٹجک میڈیا سیل کی سٹوری پر شہباز گل کو لائن پر لیا گیا، ادارے کو پتا نہیں تھا کہ وہ رینک اور فائل کے حوالے سے گفتگو کریں گے اور کہیں گے کہ لوگ حکم نہ مانیں، ہم اس کے خلاف ہیں اور اس کی مذمت نہیں کرتے، ادارے کے طور پر اس سازش سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

کاشف عباسی نے بتایا کہ ”ویڈیو کو بڑا سیریسلی لیا گیا ہے مختلف کوارٹرز میں“ ۔

اور وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا: شہبازگل کا بیان سب طے شدہ پروگرام تھا اور یہ سارے لوگ اس میں شامل ہیں جب کہ عمران خان کی صدارت میں میٹنگ ہوئی اس لیے اگر ثبوت ملے تو انہیں بھی گرفتار کیا جائے گا۔
ہماری رائے میں تو شہباز گل پر محبت کرنے والی ماں کا بیان کردہ فارمولا ہی لگایا گیا ہے لیکن استانی زیادہ غصے میں ہے۔ کہیں حساس بچہ بھی نہ دھر لیا جائے۔

بشکریہ ہم سب