104

5,اگست کشمیر  کے حقوق کی پامالی !

5,اگست 2019 کو بھارتی جنتا پارٹی کی مودی حکومت نے جہاں اقوام متحدہ اور اپنے آئین کے ساتھ غداری کی وہاں دنیا میں دہشت گردی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا  اور  بربریت کی ایسی مثال قائم کی جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی بھارت نے جس طرح انسانی حقوق پامال کیے کشمیریوں کے ساتھ اس کا وحشیانہ رویہ قابل مذمت ہے یہ خود بھارت کے اپنے منہ پر طمانچہ ہے وہ دنیا بھر میں جمہوریت اور سکیولرازم کے گیت گاتا رہتا ہے اور یہاں خود انسانوں کے ساتھ جانوروں والا سلوک کر رہا ہے انسانیت کی تمام حدیں پار کردیں پوری وادی میں دفعہ 144 لگا کر انسانی بنیادی سہولیات کی نفی کی گئ اشیاء خورد نوش سے لے کر وادی کا دنیا بھر سے رابطہ ختم کر دیا گیا انٹر نیٹ کی سہولیات سے پوری وادی کو محروم  کر دیا گیا ذرائع ابلاغ پر پابندی لگا دی گئ کشمیر کے سیاسی رہنماؤں کو نظر بند کر دیا گیا 2014میں محبوبہ مفتی کی جماعت کے ساتھ بھارتی جنتا پارٹی نے الائنس بنایا تھا  کچھ عرصہ تک وہاں نام نہاد حکومت قائم رہی پھر وہاں پر  حکومت کو ختم کر کے گورنر راج لگا دیا گیا بھارٹی جنتا پارٹی کی حکومت مسلسل ڈھونک رچاتی رہی  اگرچہ حالات مکمل طور پر صاف نظر آرہے تھے جب امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے  ثالثی کی پیش کش کی تھی کہ اگر دونوں فریقین چائیں تو امریکہ ثالثی کا کردار ادا کر سکتا ہے مودی حکومت خاموش ہوگئ تھی بھارتی میڈیا نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا مگر  اس وقت مودی حکومت کا رویہ بتا رہا تھا کہ اس حکومت کے کشمیر کے حوالے سے ارادے اچھے نہیں ہیں مودی کی پہلے الیکشن کی  مہم بھی مسلمانوں کے خلاف تھی وہ ہندو طبقے کو بار بار مسلمانوں کے خلاف ابھارتے رہے مودی نے مذہبی کارڈ کیھلا آخر کار مذہبی کارڈ کیھلنے میں کامیاب ہوگیاا گر بھارت میں 2019ء کے انتخابات کے حوالے سے بات کی جائے تو مودی حکومت نے پلواما کا ڈرامہ رچایا تھا اور پھر ساری الیکشن مہم میں آرٹیکل 370 کے  خاتمہ  کا حوالہ دیتے رہے کہ اس کو ختم کروں گا اور آرٹیکل 35اے کے حوالے سے بھی بات کرتے رہے کہ اس کو بھی تبدیل کیا جائے گا آرٹیکل 370جو اکتوبر 1947ء کو نافذ کیا گیا تھا صدارتی آرڈیننس کے ذریعے اور کشمیر کو خصوصی حیثیت دی گئ تھی اور 1954ء میں 35اے کے ذریعے مزید کشمیریوں کو خوش کرنے کی ناکام کوشش کی گئ تھی کہ کشمیر میں کشمیریوں کے علاوہ کوئی زمین نہیں خرید سکے گا لیکن کشمیر کے اندر آزادی کی جد و جہد جاری رہی روز بروز یہ تحریک زور پکڑتی گئ وہاں کے نام نہاد سیاسی رہنماؤں کو بھارتی حکومتیں نوازتی رہیں کہ کسی طرح تحریک آزادی کو دبایا جائے مگر ناکام رہیں بھارت مسلسل اپنی  بربریت میں اضافہ کرتا گیا پائلٹ گن کا استعمال کیا گیا کئ ہزار لوگ بینائی سے محروم ہوئے ایک عالمی رپورٹ کے مطابق 1989ء سے لے کر دسمبر 2019ء تک 96ہزار کے قریب کشمیری شہید ہوئے ہزاروں کی تعداد میں حراست میں لے کے شہید کیے گئے 22ہزار کے قریب عورتیں بیوہ ہوئیں بہنوں کے سامنے بھائیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا مگر تحریک آزادی کشمیر دب نہ سکی کشمیریوں کی تیسری نسل تحریک آزادی کشمیر سے وابستہ ہے برہان وانی کی شہادت کے بعد اس تحریک کو نیا جوش و جذبہ ملا ہے اب یہ تحریک منزل کے قریب پہنچ چکی ہے 5اگست 2019ء کے بھارتی اقدامات نے تمام کشمیری رہنماؤں کو یکجا کر دیا ہے آزادی پسند کشمیری رہنماؤں کے مؤقف کی جیت ہوئی ہے اب تین سال ہوگئے  ہیں تمام تعلیمی اداروں  ایک عجیب سی بے چینی ہے  پوری وادی میں تین سال سے  مسلسلکر فیو لگا رہتا ہے پوری وادی کو جیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے 5اگست کے بعد کوئی دن ایسا نہیں آیا جس دن کسی کشمیری کو شہید نہ کیا گیا ہو لاکھوں کی تعداد میں زخمی ہوئے ہیں  سری نگر,بارا مولا,شوپیاں میں مسلسل آپریشن جاری ہے  بھارتی فوجی تمام حدیں پار کرچکے ہیں کشمیریوں کا مؤقف تبدیل  نہیں کرا سکے  پاکستان  دنیا بھر میں کشمیر کا مقدمہ لڑ رہا ہے- پاکستان نے دنیا کے ہر فورم پر دستک دی ہے اور مسلسل آواز آٹھا رہا ہے بہت سارے عالمی رہنماؤں نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے نومبر 2019 میں پاکستان کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا  تھا کہ کشمیر میں انسانی صورت حال بہتر بنانے پر زور دیا جائے کشمیریوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے اسی طرح ترک صدر رجب طیب اردگان عالمی فورم پر کئ بار کشمیریوں کی آواز بن چکے ہیں اسی طرح ملائشین صدر مہاتیر محمد بھی کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کے حامی رہے ہیں چین اقوام متحدہ میں مسلسل کشمیر کے ایشو کو اٹھاتا ہے چین اور پاکستان ایک جان کی ماند ہیں پاک چین دوستی زندہ باد, پاکستان پائندہ باد -

بشکریہ اردو کالمز