203

حضرت عمر ؓ کےفتوحات کا تقابل چنگیز، تیمور اور سکندر سے


حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے دس سال میں 22 لاکھ مربع میل پر حکومت کی۔ صحابہ کرام نے اپنے جوش، جذبے، ولولے اوراستقلال کے باعث فاروقی خلافت کے عہد میں روم ایران کی عظیم الشان حکومتوں کا تختہ الٹ دیا؛ لیکن کیا تاریخ کوئی ایسی مثال پیش کرسکتی ہے کہ چند صحرا نشینوں نے اس قدر قلیل مدت میں ایسا اعظیم الشان انقلاب پیدا کیا ہو؟ بے شبہ سکندر اعظم، چنگیز اور تیمور نے تمام عالم کوتہ وبالا کر دیا؛ لیکن ان کے فتوحات کو فاروق اعظم ؓ کی کشورستانی سے کوئی مناسبت نہیں، وہ لوگ ایک طوفان کی طرح اٹھے اورظلم وخونریزی کے مناظر دکھاتے ہوئے ایک طرف سے دوسری طرف کو گزر گئے، چنگیز اور تیمور کا حال تو سب کو معلوم ہے، سکندر کی یہ کیفیت ہے کہ اس نے ملک شام میں شہر "صور" فتح کیا تو ایک ہزار شہریوں کے سر کاٹ کر شہر کی دیوار پر لٹکا دیئے اور تیس ہزار بے گناہ مخلوق کو لونڈی غلام بناکر فروخت کروایا، اسی طرح ایران میں "اصطخر" کو فتح کیا تو تمام مردوں کو قتل کر دیا، برخلاف اس کے عمر رضی اللہ عنہ کے فتوحات میں ایک واقعہ بھی ظلم و جبر، شدد وبربریت کا نہیں ملتا، فوج کو خاص طور پر ہدایت تھی کہ بچوں، بوڑھوں، عورتوں سے کچھ نہ کہا جائے ، قتل عام تو ایک طرف، ہرے بھرے درختوں تک کاٹنے کی اجازت نہ تھی، مسلمان حکام مفتوحہ اقوام کے ساتھ ایسا عدل وانصاف کرتے تھے اور اس طرح اخلاق سے پیش آتے تھے کہ تمام رعایا ان کی گرویدہ ہو جاتیں تھیں۔ اور اسلامی حکومت کو خدا کی رحمت تصور کرتے تھے، صرف یہی نہیں؛ بلکہ وہ لوگ جوش و خوشی میں مسلمانوں کی اعانت و مساعدت سے دریغ نہیں کرتے تھے، فتوحات شام میں خود شامیوں نے جاسوسی اور خبر رسانی کی خدمات انجام دیں،  ( بلاذری:128) حملہ مصر میں قبطیوں نے سفر مینا کا کام کیا، ( بلاذری:128) اسی طرح عراق میں عجمیوں نے اسلامی لشکر کے لیے پل بندھوائے اور غنیم کے راز سے مطلع کرکے نہایت گراں قدر خدمات انجام دیں، ان حالات کی موجودگی میں عمر رضی اللہ عنہ کے مقابلہ میں سکندر اور چنگیز جیسے سفاکوں کا نام لینا کس قدر بے موقع ہے، اور ان حضرات کا حضرت عمر سے کوئی تقابل ہی نہیں ہو سکتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی بعض خصوصیات ایسی ہیں کہ اللہ کی اس بھری کائنات میں وہ خصوصیات کسی اور کو نصیب نہیں ہوئی ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جنت کے خمیر سے بنایا گیا اور آج بھی جنت میں مدفون ہیں۔ عمر جب زمین پر بولتے تھے۔وہ قرآن بن کر وحی کی صورت میں نازل ہو جاتا تھا۔
سکندر اورچنگیز کی سفاکیاں فوری فتوحات کے لیے مفید ثابت ہوئیں؛ لیکن جس سلطنت کی بنیاد ظلم وتعدی پر ہوتی ہے وہ کبھی دیرپا نہیں ہوسکتی ہے؛چنانچہ مسلمانوں نے جو سلطنت قائم کی اس کی بنیاد عدل وانصاف، اخوت و راوداری پر قائم ہوئیں تھیں، اس لیے وہ آج چودہ سو برس کے بعد بھی اسی طرح ان کے جانشینوں کے قبضہ اقتدار میں موجود ہے۔ یورپین مورخین عہد فاروقی کے اس بدیع مثال کارنامے کی اہمیت کم کرنے کے لیے بیان کرتے ہیں کہ اس وقت فارس و روم کی دونوں سلطنتیں طوائف الملوکی اور مسلسل بدنظمیوں کے باعث اوج اقبال سے گزرچکی تھیں؛لیکن سوال یہ ہے کہ کیا دنیا کی ایسی زیردست سلطنتیں بادشاہوں کی تبدیلی اورمعمولی اختلاف سے اس درجہ کمزور ہو گئی تھی کہ روم و ایران میں قسطنطین اعظم اورخرد پرویز کا جاہ و جلال نہ تھا، تاہم ان سلطنتوں کا عرب جیسی بے سروسامان قوم سے ٹکرا کر پرزے پرزے ہوجانا دنیا کا عجیب وغریب واقعہ ہے۔ اور ہم کو اس کا راز ان سلطنتوں میں کمزوری میں نہیں؛بلکہ اسلامی نظام خلافت اورخلیفہ وقت کے طرز عمل میں تلاش کرنا چاہیے۔ بلاشبہ دنیا کے حکمرانوں کے لئے فاروقی طرز خلافت، اور فوجی اصلاحات میں ایسا سبق پوشیدہ ہے۔ جس میں حکمرانوں  کیلئے عزت اور دنیا و آخرت کی کامیابی پوشیدہ ہے۔ اور حکومت و سلطنت کی دہلیز اوج سرایا ہے۔ اللہ تعالی اہنی شان کے مطابق سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے درجات بلند فرمائے۔ آمین یا رب العالمین مین  

بشکریہ اردو کالمز