90

کیا امریکا اور چین بھی جنگ کے قریب ہیں؟

روس اور یوکرین کی جنگ نے جتنا دنیا کو نقصان پہنچایا ہے، حالیہ جنگوں میں شاید ہی کسی جنگ نے اتنا نقصان پہنچایا ہوگا۔ اگر امریکا یوکرین کا ساتھ نہ دیتا تو شاید روس یوکرین کو کب کا پچھاڑ چکا ہوتا لیکن جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، اس کے اثرات پوری دنیا میں دیکھے جا رہے ہیں۔

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، مہنگائی ہر ملک کا مسئلہ بنا ہوا ہے، روس پر امریکی پابندیوں کے بعد عالمی تجارت کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، یوں لگتا ہے جیسے دنیا بھر میں توانائی کا بحران پیدا ہو چکا ہے۔ فی الوقت یہ بھی کہنا ممکن نہیں کہ یہ جنگ کب تک رہے گی اور اس کا خاتمہ کیسے ممکن ہوگا۔

 

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ابھی روس یوکرین جنگ ختم نہیں ہوئی کہ امریکا اور چین کے درمیان تائیوان کو لے کر نئی ’’سرد جنگ‘‘ نے جنم لے لیا ہے۔ چین امریکا کو انتباہ کر رہا ہے کہ تائیوان اُس کا حصہ ہے اور امریکی مداخلت آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ میں چونکہ آج کل ایک بار پھر امریکی یاترا پر ہوں تو یہاں عام عوام دوبڑی طاقتوں کے درمیان اس ممکنہ جنگ کو لے کر خاصے پریشان دکھائی دے رہے ہیں، امریکا میں پہلے ہی خاصی مہنگائی ہو چکی ہے اور اس ممکنہ جنگ کے بعد جوبائیڈن حکومت مزید مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے۔

 

خیر یہ سرد جنگ اُس وقت شروع ہوئی جب امریکا نے اسپیکر نینسی پلوسی کے دورہ تائیوان کا اعلان کیا۔ یہ 25برس بعد کسی بھی اعلیٰ امریکی عہدیدار کا دورہ تھا۔ اس دورے کی حساسیت اس قدر تھی کہ چین اور امریکا کے بحری بیڑے آمنے سامنے آگئے تھے۔

 

امریکی اسپیکر جب تائیوان کے ایئرپورٹ پر اتریں تو چینی حملے کا خطرہ بھانپتے ہوئے ایئرپورٹ سمیت تمام گردونواح کی لائٹس بجھا دی گئی تھیں۔ کئی بار فلائٹ کا رخ موڑا گیا، ٹریکنگ ویب سائٹ کے مطابق اس فلائٹ کو تین لاکھ لوگوں نے لمحہ بہ لمحہ چیک کیا۔ لیکن اسے چینی ناکامی سمجھیں یا کچھ اور مگر 82سالہ امریکی اسپیکر نینسی پلوسی نے تائیوان پہنچنا تھا تو وہ پہنچ گئیں اور پہنچتے ہی تقریر کی کہ تائیوان کی آزادی کو کوئی نہیں روک سکتا، وغیرہ۔

 

اگر ہم چین تائیوان مسئلہ پر نظر ڈالیں تو تائیوان ایک جزیرہ ہے اور عالمی سیاسیات کے تناظر میں ری پبلک آف چائنا کا حصہ ہے۔ اس کے مغرب میں چین، شمال میں جاپان اور جنوب میں فلپائن ہیں۔ اس کا رقبہ 36ہزار مربع کلومیٹر ہے اور آبادی تقریباً اڑھائی کروڑ ہے۔ اس کے اردگرد بہت سے چھوٹے چھوٹے جزیرے بھی ہیں۔ اس کی آبادی میں 21فیصد بدھ مت، 5فیصد عیسائی، ایک فیصد مسلمان اور باقی لامذہب لوگ ہیں۔

تاریخی اعتبار سے مین لینڈ چائنہ اور تائیوان کا مسئلہ آج کا نہیں بلکہ خاصا پرانا ہے۔ جاپان کے ساتھ 1894 سے 1895 تک ہونے والی جنگ کے بعد چین کو تائیوان سے دستبردار ہونا پڑا۔ مغربی طاقتوں نے چین کو تائیوان کے معاملے پر کئی بار دھوکا دیا۔ لہٰذا چین نے یہ اخذ کیا کہ یہ نئے علاقے بشمول تائیوان اس کے حصے میں آئیں گے کیونکہ چین نے ایک لاکھ شہریوں کو یورپ میں برطانیہ اور فرانس کی مدد کے لیے بھیجا تھا، لیکن یہ علاقے چین کے بجائے جاپان کو دے دیے گئے، مغربی اتحادیوں نے چین اور جاپان دونوں سے بیک وقت خفیہ معاہدے کیے تاکہ انھیں مغرب کا اتحادی برقرار رکھا جائے۔

اس کے بعد چین کو احساس ہوگیا کہ مغربی ممالک نے اس کے ساتھ دھوکا کیا ہے، 4 مئی 1919 کو چین میں بہت بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے۔ چینی قوم کے حافظے میں ’’4مئی تحریک‘‘ کی یادیں اب بھی محفوظ ہیں، اسی لیے امریکا یا کسی بھی مغربی ملک کی طرف سے تائیوان کو چین سے علیحدہ کرنے کی کوشش اُن تاریخی یادگاروں کو دوبارہ تازہ کر دیتی ہے۔

جنگ عظیم اول کے اختتام پر چین کو امریکا اور برطانیہ کی طرف سے یقین دہانی کروائی گئی کہ ورسائی امن کانفرنس کے دوران تائیوان چین کو واپس کر دیا جائے گا۔ ورسائی معاہدوں کے تحت جرمنی کو اپنی دیگر نوآبادیوں کے ساتھ ساتھ چینی سرزمین پر موجود اپنے علاقوں سے دستبردار ہونا تھا۔ پھر 1949 کی افیونی جنگ کے دوران چین نے بھاری نقصان اٹھایا تھا۔ جس کی تمام تاریخی نشانیوں کو چین نے یا تو ختم کر دیا یا حل کر دیا، جیسا کہ ہانگ کانگ اور مکاؤ کے علاقے لیکن تائیوان کا قضیہ حل نہ ہوسکا۔

بہرحال تائیوان دنیا کا واحد ملک ہے جس کی حاکمیت کا تنازعہ چین اور امریکا کے درمیان گلے کی پھانس بنا ہوا ہے۔ تائیوان اقوام متحدہ کا رکن نہیں اور مغربی دنیا بھی ’’وَن چائنا‘‘ پالیسی کو تسلیم کرنے پر مجبور ہے۔ جب چین کو 1949 میں ایک آزاد ملک کی حیثیت دی گئی تھی اور اسے اقوام متحدہ کا رکن بنا لیا گیا تھا تو چین کا حقِ حکمرانی تائیوان پر بھی تسلیم کر لیا گیا تھا۔ اس کے بعد چین کو سلامتی کونسل کا مستقل رکن تسلیم کر لیا گیا، 70 کی دہائی میں رچرڈ نکسن کی صدارت کے دوران اس وقت کے امریکی سیکریٹری خارجہ ہینری کسنجر نے چین کے ساتھ مصالحت کا عمل شروع کیا۔

1972 کو ایک مشترکہ بیان میں امریکا نے تسلیم کیا کہ ’تائیوان چین کا حصہ ہے، امریکی حکومت اس حیثیت کو چیلنج نہیں کرتی، ہم چاہتے ہیں کہ چین خود ہی تائیوان معاملے کا پرامن حل نکالے‘۔ یہ بہت قابل ذکر بات ہے کہ چین کی حالیہ حکومتوں نے اپنی پچھلی پالیسیز سے ہٹ کر تائیوان کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنے کی کوشش کی ہے۔ 2008 میں ایک لاکھ 88 ہزار 744 تائیوانی شہری چین کی سیاحت کے لیے گئے جب کہ چین کے 3لاکھ 29 ہزار 204 شہری تائیوان گئے۔ 2008 سے 2016 تک دونوں ممالک میں تعلقات بہتر ہوئے اور 2016 کے دوران 36 لاکھ تائیوانی شہری چین کی سیر کو گئے جب کہ 42 لاکھ کے قریب چینی شہریوں نے تائیوان میں سیاحت کی۔

لہٰذا اس وقت عالمی طاقتوں کو سمجھداری سے کام لینے کی ضرورت ہے اور تائیوان کے مسئلے پر چین اور امریکا دونوں کو لچک دکھانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں خارجہ محاذ پر بہت سمجھداری، احتیاط اور دوراندیشی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ موجودہ حکومت بھی عمران حکومت کی طرح بری طرح پھنس جائے گی کہ وہ کس کا ساتھ دے اور کس کا نہ دے۔

بشکریہ ایکسپرس