آدھا اسٹیل ملز چوری ہوگیا

پرویز مشرف حکومت میں اسٹیل ملز کا سودا 20 ارب روپے میں طے ہو گیا تھا۔ اب اسٹیل ملز سے 10 ارب روپے کا میٹریل چوری ہونے کا ہوش ربا انکشاف سامنے آیا ہے، جس کا مطلب ہے چور، لٹیرے ایک ہی واردات میں آدھا اسٹیل ملز لے اڑے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان اسٹیل ملز میں ملکی تاریخ کی سب سے بڑی چوری کی واردات ہوئی ہے جس میں تقریباً 10 ارب روپے مالیت کا میٹریل چوری ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

تحقیقات کے لیے وزارت صنعت و پیداوار نے ڈی جی ایف آئی اے کو ارسال کردہ خط میں پاکستان اسٹیل کے مختلف ڈپارٹمنٹس میں کی جانے والی چوریوں میں ملوث عناصرکو منظر عام پر لانے کے لیے شفاف اور فوری تحقیقات کی درخواست کی ہے۔

 

خط میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اسٹیل کے مختلف ڈپارٹمنٹس کے علاوہ مین پلانٹ چوروں کی رسائی سے محفوظ نہیں رہا جو سیکیورٹی عملہ کی ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ پاکستان اسٹیل کی اندرونی تحقیقات میں سینئر انتظامی افسران کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں جو وزارت نے ایف آئی اے کو فراہم کر دیے ہیں پاکستان اسٹیل ملز میں اندرونی سطح پر انکوائری جاری ہے۔

 

تاہم انتظامیہ کو جانبدار بننے سے بچانے کے لیے ضروری سمجھا گیا ہے کہ یہ تحقیقات وفاقی تحقیقاتی ادارے سے کروائی جائے۔ 10 ارب کا ہیوی میٹریل چوری کرنے یا لوٹنے کے لیے کتنا وقت درکار ہوگا؟ کس قدر ہیوی مشینری اور ان کی ٹرانسپورٹیشن کے لیے کتنے ہیوی وہیکل اور اسکلڈ افراد درکار ہوں گے؟ اس مسروقہ مال کو رکھنے کے لیے کتنی وسیع و عریض جگہ درکار ہوگی؟ اس کا اندازہ کرنا کوئی مشکل امر نہیں ہے، اگر ادارے چاہیں اور انھیں کام کرنے دیا جائے تو مسروقہ مال کی برآمدگی اور اس میں ملوث عناصر تک پہنچنا کوئی مشکل امر نہیں لگتا۔قومی المیہ یہ ہے کہ روز اول سے ہی پاکستان اسٹیل ملز میں سیاسی و غیر سیاسی دونوں ادوار میں منظم مافیا اور عناصر سرگرم رہے ہیں ہر مرحلہ اور سطح پر اس کو دھڑلے سے لوٹا گیا ہے۔

 

یہ عناصر و مافیا با اثر و مضبوط ہونے کی وجہ سے کبھی گرفت میں نہیں آئی البتہ ان افراد کو نشان عبرت بنا دیا گیا جنھوں نے اس ادارے سے خیر خواہی کی کوششیں کیں۔ ادارے کی کرپشن پر وائٹ پیپر تیار کرنے والوں کی زندگی کا چراغ بھی گل کردیا گیا جن کے قاتلوں کا آج تک کوئی سراغ نہیں ملا۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مافیا کس قدر مضبوط، منظم اور با اثر ہے۔

فولادی صنعتی، صنعتوں کی ماں کا درجہ رکھتی ہے اور صنعت و حرفت کا محور سمجھی جاتی ہے صنعتوں کی ترقی اور ملکی دفاعی ضروریات کی وجہ سے اس کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔ قیام پاکستان کے بعد سے ہی حکومتیں ملک میں اسٹیل ملز لگانے کے لیے سرگرداں تھیں لیکن کوئی ملک یہاں فولاد سازی کا کارخانہ قائم کرنے میں مدد دینے کو تیار نہیں تھا۔ بالآخر 1968 میں روس نے پاکستان میں فولاد سازی کا مکمل کارخانہ قائم کرنے کا معاہدہ کیا اور 17 سالوں کی محنت کے بعد 1995 میں اس نے مکمل پیداواری عمل شروع کیا اور 2019 تک اس نے مختلف ٹیکسز کی مد میں ایک سو دس ملین روپے قومی خزانے میں جمع کرائے یہ ملز سالانہ 5 ارب سے زائد ریونیو دینے والا ادارہ تھا۔

پھر اربوں روپے کمانے والا یہ ادارہ خسارے و تباہی و بربادی سے دوچار ہوتا چلا گیا اور بالآخر اسے بند کردیا گیا جس سے بالواسطہ یا بلاواسطہ لاکھوں خاندانوں کا روزگار وابستہ تھا۔ اس سے وابستہ دیگر صنعتیں بھی بحران و خسارے کا شکار ہوئیں۔ اس کی پیداوار کا متبادل درآمد کرنے پر کثیر زرمبادلہ خرچ ہو رہا ہے۔ معاشی ماہرین نے اسٹیل ملز کی بندش کو معاشی غلامی قرار دیا ہے۔

گزشتہ تقریباً تین دہائیوں سے اداروں کی بحالی اور بیمار اور خسارہ زدہ اداروں کی نج کاری کے لیے Economic Drive اور Restructuring جیسی اصلاحات استعمال کرکے بدنیتی، بددیانتی اور گھپلے بازی سے منافع بخش اور حساس اداروں کو کوڑیوں کے مول نجی و غیر ملکی کمپنیوں کو فروخت کرکے ملکی خزانے اور ملک و قوم کی بربادی کے اسباب پیدا کیے گئے۔

اداروں کی نجکاری میں شفافیت بھی نہیں رہی۔ قومی معاملات میں حکومتی اکابرین کی سنجیدگی کا یہ حال ہے کہ پچھلے دور حکومت میں مفتاح اسمٰعیل نے بڑی کشادہ دلی اور فیاضی کے ساتھ یہ الفاظ ادا کیے تھے کہ ’’ جو پی آئی اے لے گا ہم اسٹیل ملز اس کو مفت دے دیں گے۔‘‘ پرویز مشرف حکومت نے پاکستان اسٹیل ملز کا سودا محض 20 ارب روپے وہ بھی قسطوں میں ادائیگی پر کردیا تھا جس وقت ادارے کی انوینٹری دس ارب روپے سے زائد کی تھی اگر سپریم کورٹ مداخلت نہ کرتی تو یہ ادارہ اسی وقت قومی افق سے غائب ہو جاتا۔ عالمی قوتیں تو ایک عرصے سے تقاضا کرتی آ رہی ہیں کہ پاکستان میں فولاد، کیمیکل اور شوگر انڈسٹریز کو بند کیا جائے۔

عمران حکومت میں بھی اسٹیل ملز کو سفید ہاتھی قرار دے کر وزیر اعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں نجکاری کی منظوری دے دی گئی تھی جس پر معاشی و قانونی ماہرین نے سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا۔ معاشی ماہرین نے اس اقدام کو معیشت کے لیے سم قاتل اور معاشی غلامی سے تعبیر کیا تھا۔ جسٹس (ر) وجیہہ الدین نے کہا تھا کہ حکومت ملک کی قسمت اور وسائل سے کھیل رہی ہے عدالتی ریمارکس کا غلط استعمال اور اس کے احکامات کی غلط تشریح و تعبیر کر رہی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 153 کے تحت اسٹیل ملز کے لیے سی سی آئی میں پالیسی وضع کرنی چاہیے لیکن حکومت نے اس کے برعکس اکنامک کوآرڈینیشن کمیٹی میں فیصلہ کرکے کابینہ کی منظوری لے کر ایک ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعے ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

اب موجودہ حکومت نے ملک کی ابتر معاشی و اقتصادی صورتحال کو جواز بنا کر نئی منصوبہ بندی کرلی ہے جس کے تحت گزشتہ دنوں وزیر اعظم نے قومی اداروں کی نجکاری کے لیے کابینہ سے آرڈیننس منظور کرا لیا ہے جس پر صدر کی منظوری کے بعد عملدرآمد شروع ہوگا۔

اسی آرڈیننس کے تحت مختلف کمپنیز اور پاور پلانٹس جیسے اداروں کے فروخت کی بازگشت سنائی دے رہی ہے، جب کہ قوم کو یہ طفل تسلیاں دی جا رہی ہیں کہ یہ ادارے صرف دو سال کے لیے دیے جائیں گے اس کے بعد واپس لے لیے جائیں گے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دو سالوں میں معیشت اتنی مستحکم ہو جائے گی کہ حکومت ان اداروں کی ادائیگی کرکے انھیں واپس لے سکے؟ دو سال بعد جو حکومت ہوگی کیا وہ اس پالیسی پر عمل پیرا ہوگی؟ دو سال جو پارٹیاں یہ ادارے چلائیں گی کیا وہ اس کی مینٹیننس اور حالت زار پر توجہ دیں گی یا ان اداروں کو ناکارہ اور نچوڑ کر واپس کریں گی؟ واپسی کے عمل میں قانونی تنازعات بھی پیدا کیے جاسکتے ہیں ان عناصر کو حکومت کے اندر سے پشت پناہی اور آشیرباد مل سکتی ہے تو ایسی صورت حال میں کیا ہوگا؟ بادی النظر میں یہ ایک خطرناک فیصلہ نظر آتا ہے، اللہ اس ملک و قوم کے حال پر رحم فرمائے۔(آمین۔)

بشکریہ روزنامہ آج