پیوستہ رہ شجر

شاعر مشرق حضرت علامہ اقبال نے ایک صدی قبل قوم کو تلقین کی تھی کہ ”پیوستہ رہ شجر سے، امید بہاررکھ“ فلسفیوں کی باتیں ان کے دور کے لوگوں کو دیوانوں کی باتیں لگتی ہیں ابن انشا کو بھی لوگوں نے ان کی فلسفیانہ شاعری کی وجہ سے دیوانہ قرار دیا تھا۔ جس کے جواب میں فلسفی شاعر نے کہا تھا کہ”دیوانوں کی سی نہ بات کرے، تو اور کرے دیوانہ کیا“.وقت بدلنے کے ساتھ انسان کی زندگی میں آسانیاں پیدا ہوتی ہیں تو لوگ ان سہولتوں کے عادی بن کر سست اور سہل پسند بن جاتے ہیں۔زندگی میں سہولیات کاعادی بن کر ہم نے اپنے اقدار، روایات اور رسومات کو ترک کر دیا ہے شجر کی شاخ سے کٹ کر رہ گئے ہیں جس کی وجہ سے بہار کی آمد پر پھول، پتے اور پھل ملنے کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔ابھی تیس چالیس سال پہلے کی بات ہے محلے میں فوتگی ہوتی تو پورا علاقہ سوگوار ہوتا۔ لوگ سوگواروں کی صدق دل سے دلجوئی کرتے۔محلے کے تمام لوگ ایک خاندان کے افراد کی طرح ہوتے۔

چھوٹی چھوٹی خوشیاں بھی مل کر مناتے۔مکان کی تعمیر، کھیتی باڑی اور دیگر کاموں میں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹاتے، گھریلو سامان، اوزار اور برتن وغیرہ پڑوسیوں کو استعمال کے لئے دے دیتے۔تاکہ ان پر نیا سامان خریدنے کا اضافی بوجھ نہ پڑے۔ہر کام میں محلے والے ایک دوسرے کے ساتھ صلاح مشورہ کرتے اور جس بات پر اتفاق ہوجائے اس سے روگردانی کا تصور بھی نہیں کیا جاتا تھا۔ خاص مواقع پر خیرات پکائی جاتی اور سب لوگ مل کر کھاتے۔ پڑوسیوں کے گھر باقاعدگی سے پلیٹ بھر سالن بجھوایا جاتا اور خالی پلیٹ واپس کرنا معیوب سمجھا جاتا تھا۔پورے محلے میں کسی ایک گھر میں بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی ہوتا تھا اور محلے کے تمام مرد، خواتین اور بچے شام کو ٹی وی دیکھنے اس گھر میں جمع ہو جاتے۔ آج لوگوں کے پاس وسائل بہت ہیں لیکن ہم اپنے اقدار بھلا چکے ہیں ایک گھر میں ماتم ہو تو دوسرے گھر میں شہنائیاں بجتی ہیں۔ہمارے پڑوس میں کون اور کس حال میں رہتا ہے ہمیں کوئی خبر نہیں ہوتی موبائل کی آمد نے رہی سہی کسر پوری کردی۔اب صبح کوئی پڑھنے اور کوئی نوکری کے لئے گھر سے نکلتا ہے.

شام کو دسترخوان بچھا کر سب کو ایک ایک کرکے کھانے پر بلایا جاتا ہے۔ ماں، باپ۔ بیٹا،بیٹی سب اپنے اپنے موبائل میں مصروف ہوتے ہیں۔جدید سہولتوں نے ہمیں اپنے والدین، بہن بھائیوں اور رشتہ داروں سے بھی الگ تھلگ کر دیا ہے۔جس کی وجہ سے ہمارا خاندانی نظام، معاشرتی اقدار، اور روایات خطرے کی زد میں ہیں۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ گاؤں میں اب بھی کچھ نہ کچھ وہی انداز زندگی ہے جس میں ایک دوسرے کی خبر گیری کی جاتی ہے، غم اور خوشی میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر معاملات نمٹائے جاتے ہیں۔گاؤں میں اب میت کے موقع پر بہت سے کام محلے اور گاؤں والے کر دیتے ہیں، میت کے وارثوں کو اس حوالے سے تکلیف ہی نہیں دی جاتی، قبر کی تیاری ہو یا پھر تین دن کے دوران تعزیت کیلئے آنے والے لوگوں کی مہمان داری ہو، یہ سب کچھ محلے والے ہی کردیتے ہیں۔تاہم اس کے مقابلے میں شہر کی زندگی کو دیکھا جائے تو وہاں پر حالات بالکل مختلف دکھائی دیتے ہیں۔ میت کے موقع پر ایک طرف تو وہ غم سے  نڈھال ہوتے ہیں تو دوسری طرف ان کو بہت سے معاملات از خود انجام دینے ہوتے ہیں۔جس سے ان کی تکلیف دوچند ہوجاتی ہے۔بحیثیت مجموعی حالات ماضی کے مقابلے میں بہت بدل گئے ہیں۔ آپس میں فاصلے بڑھ گئے ہیں اور ایک دوسرے کی خبر گیری کی عادت عنقا ہوگئی ہے۔ اس حوالے سے ہم سب پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے، والدین، اساتذہ، علمائے کرام، دانشوروں اور اہل علم و قلم سب کو مل کر کو نئی نسل کو تنہائی اور تباہی کے خطرے سے بچانے کے لئے سوچنا ہوگا۔

 

بشکریہ روزنامہ آج