79

مایوسی ہی مایوسی ……(2)

پھر یہ کیا ہوا کوئی ایسا ادارہ نہیں جس پر اعتماد کیا جاسکے۔ کوئی ایسا شخص نہیں جس کی بات اندھیرے میں کرن کی طرح چمکے۔ کوئی ایسا لیڈر نہیں جس سے ہاتھ ملایا جائے اور ایک عرصے تک بدن میں سرور کی لہریں دوڑتی رہیں۔ یہ واقعی کیا ہوا یہ زمین اتنی بانجھ کیوں ہوگئی۔ جب موجودہ حالات میں چاروں اطراف نظر دوڑاتا ہوں تو غیر یقینی کے بادل چھائے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ سیاستدانوں کو دیکھیں باہم الجھ پڑے ہیں۔ عدم برداشت کا عالم یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کے روادار نہیں رہے۔ جب اختلاف رائے کو نفرت اور ذاتی دشمنی میں بدلتے دیکھتا ہوں تو سچ پوچھیں ذہن چٹخنے لگتا ہے۔ انہی میں سے سچ پوچھیں کوئی ایک آدھ بندہ نچلی سطح پر نظر آتا ہے تو اس کے سامنے سے اٹھنے کو دل نہیں چاہتا۔ سوچ رہا ہوں۔ رہنمائی کے یہ اصول تو نہیں کہ جنہوں نے پوری قوم کو کنفیوژن کا شکار کردیا ہے۔ اسے بانٹ دیا ہے‘ میں سوچتا ہوں ہم بھی کتنے بدقسمت لوگ ہیں۔ وقت کے اس تنہا اداس اور ویران سفر میں ہمارے لئے کوئی بھی ایسا شخص نہیں جو من حیث القوم ہماری ہمت بندھاسکے۔ جو ہمیں تھپکی دے سکے۔ جو ہمیں اچھے برے کی تمیز سکھاسکے۔ جو ہماری رہبری کرسکے۔ ذرا بار بار مڑ کر دیکھیں۔ وہ لوگ جو ہماری رہنمائی کا دعویٰ کرتے ہیں۔ خود اپنے قول کے کتنے سچے ہیں۔ جو بات کہتے ہیں اس پر سچائی کے کس پیمانے پر پورے اترتے ہیں۔ آپ ان کی باتیں سنیں۔ آپ ان کے ایکشن دیکھیں ان کے قول و فعل کے تضادات دیکھیں۔ یہ سب کچھ دہل دہلادینے کیلئے کافی ہے۔ کبھی آپ نے تجزیہ کیا کہ ملک کی بڑی معاشی علامتوں اور وسیع پیمانے پر تنظیمی اصلاحات کی کتنی جدوجہد کی گئی۔ ذرا اس بات کا جائزہ لیں کہ آخر شہروں کے غیر تعلیم یافتہ اور بیروزگار نوجوانوں کیلئے کتنی ملازمتیں پیدا کی گئیں۔ غربت کو حقیقی معنوں میں کم کرنے کیلئے کیا کیا کوششیں کی گئیں۔ ہم نے عام صنعتوں اور تعمیراتی کمپنیوں میں ملازمتوں کے کتنے مواقع پیدا کئے۔ ہم نے صنعتی ترقی کیلئے کتنے نئے دروازے کھولے۔ کیا سہولتیں بہم پہنچائی گئیں اور اگر ہم نے اپنے دعوؤں کے مطابق کچھ کیا بھی تو اس کے کیا نتائج نکلے۔ کونسے ایسے منصوبے لگائے گئے جن میں کاریگروں اور مزدوروں کی طلب کے حوالے سے حوصلہ مند نتائج سامنے آئے۔ ان کی آمدنیوں میں کتنا اضافہ ہوا۔ کبھی ہم نے سوچا کہ اشیاء خورو نوش کی بڑھتی ہوئی ہوشربا قیمتوں کو کنٹرول کرنے کیلئے وہ کون سے اقدامات کئے گئے جن کو کنٹرول کیا جاسکے۔ کوئی یہ بتانے کی زحمت تو کرے کہ پرائس کنٹرول کے حوالے سے کبھی حکومت نے یہ کوشش کی ہے کہ غیر ضروری مہنگائی کو روکنے کیلئے موثر اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔ درحقیقت عام پاکستانی کے اپنے چند مسائل ہیں۔ اسے کھانے پینے کی اشیاء سستی مل جائیں۔ دودھ‘ گھی‘ سبزیاں سستی ہوں۔ اس کے بچوں کیلئے تعلیم کے مواقع ہوں اور صحت کی ممکنہ سہولت ملے۔ وہ اپنی زندگی کو چند چیدہ چیدہ حوالوں سے جانچنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ اسی طرح کسی لیڈر کی کارکردگی کو جانچتا ہے‘ لیکن یہاں بنیادی سوال یہی ہے کہ موجودہ حکومت یا اس سے پہلے عمران خان کی حکومت اس کیلئے کوئی ایسی سہولتیں فراہم نہ کرسکیں، جس کی ان سے توقع کی جارہی تھی یا جن کے متعلق عمران خان نے خاص طور پر بہت پرجوش انداز میں یقین دلایا تھا کہ لوگوں کیلئے ملازمتوں اور گھروں کے حوالے سے ترجیحی بنیادوں پر کام کریں گے‘ لیکن اپنی پونے چار سال کی حکومت کے بعد جب وہ رخصت ہوئے تو ان کے کریڈٹ پر اس حوالے سے رپورٹ منفی تھی۔ ہاں انہوں نے جو ہیلتھ کارڈ کا اجرا کیا اس کا خیر مقدم کیا گیا۔ ساتھ ساتھ کورونا میں بھی حکومت کی کارکردگی اطمینان بخش رہی‘ لیکن اس میں کرپشن سے بہت سے معاملات کھل کر سامنے آئے۔ موجودہ حکومت کی 100 دن کی کارکردگی کا جائزہ لیں تو وہ صرف عوام کو جھٹکے دے رہے ہیں اور ساتھ ساتھ عام لوگوں کو مستقبل کے سہانے خواب بھی دکھاتے جارہے ہیں۔ اس وقت پنجاب میں حکومت سازی میں پی ٹی آئی کو جہاں ضمنی انتخابات میں قابل لحاظ کامیابی حاصل ہوئی۔ پھر بعد میں وہ اس وقت عدالتی جنگ بھی جیت گئے۔ جب حکومت سازی کے اختیار کے حوالے سے معاملات سپریم کورٹ کے روبرو پہنچے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ 10 نشستوں کے زور پر وزیراعلیٰ پنجاب بن جانے والے چوہدری پرویز الٰہی کتنی کامیابی سے پی ٹی آئی کے لیڈر سمیت تمام کیڈرز کو کتنا مطمئن رکھ سکتے ہیں کہ پی ٹی آئی والے جلد ہی پرویز الٰہی سے اکتا جائیں گے۔ پرویز الٰہی یوں تو بڑے زیرک اور موقع شناس انسان ہیں‘ لیکن مفادات اور اختیارات کی جنگ میں کمپرومائز کی بھی حدود و قیود ہوتی ہیں اور یہ بیل اس لئے شاید منڈھے چڑھ جائے کیونکہ پرویز الٰہی اس وقت پی ٹی آئی کی ضرورت ہیں۔ یہ بھی عجیب بات ہے کہ اگر ان 10 نشستوں کا سہارا مسلم لیگ (ن) کو مل جائے تو پی ٹی آئی کا دھڑن تختہ ہوسکتا ہے‘ لیکن اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ پی ٹی آئی کے کئی اہم رہنماؤں کے ماتھے پر جھنجھلاہٹ کی شکنیں صاف نظر آرہی ہیں۔ یہ عمران خان کی بصیرت اور معاملہ فہمی کا بھی امتحان ہوگا کہ وہ پرویز الٰہی کو بھی اعتماد میں رکھیں اور اپنے قریبی ساتھیوں کے ماتھے پر بل نہ پڑنے دیں۔ دیکھتے ہیں اگلا منظر کیا ہوگا‘ لیکن یہ طے ہے کہ فلم ابھی ختم نہیں ہوئی۔ باخبر ذرائع بتارہے ہیں کہ جہاں نواز شریف فوری الیکشن کے انعقاد کے حق میں ہیں۔ نواز شریف کا خیال ہے کہ ہم جتنی تاخیر کریں گے معاملات اتنے ہی الجھتے جائیں گے۔ ان کا موقف ہے کہ اس وقت اداروں کو موجودہ حکومت کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے ان کا بھرپور انداز سے ہاتھ تھامنا چاہئے تھا‘ لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ دوسری طرف عمران خان کے قریبی ساتھی انہیں مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ فوری الیکشن کے مطالبے میں کچھ نرمی پیدا کرلیں تاکہ پنجاب اور سرحد میں انتخابی معرکہ آرائی سے پہلے عام لوگوں کیلئے ریلیف کا مزید بندوبست کرلیا جائے۔ وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ مرکز میں اتحادی حکومت جتنی دیر کام کرے گی اس کی عوامی پذیرائی میں کمی آتی جائے گی۔ بعض ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمن فوری عام انتخابات کے خلاف ہیں۔ ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ آصف علی زرداری مقتدر حلقوں سے وہ تعاون حاصل کرنے کے خواہاں ہیں جس کی مدد سے وفاقی حکومت کو چلانے میں مشکلات نہ ہوں۔ انصار عباسی کی رپورٹ کے مطابق آصف علی زرداری نے اپنے حالیہ دورہ دبئی میں آئی ایس آئی کے سربراہ سے ملاقات کی ہے اور ان سے مختلف امور پر گفت و شنید ہوئی ہے گو کہ ابھی تک اس کی پوری طرح تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ یہ خبریں سوشل میڈیا پر بھی چلتی رہیں۔ پی ٹی آئی کے رہنما چوہان نے خاص طور پر اس طرف اشارہ کیا تھا کہ آصف علی زرداری اور ڈی جی آئی ایس آئی میں ملاقات کو دبئی میں خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔ یہ افواہیں خاصی پھیل رہی ہیں۔ گو کہ انصار عباسی کے مطابق بعض عسکری ذرائع نے اس خبر کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ ڈی جی آئی ایس آئی اسلام آباد میں ہیں اور کہیں باہر نہیں گئے۔ انصار عباسی نے اس حوالے سے ممتاز نیوز رپورٹر ماریانہ بابر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اس خبر کی تصدیق کی ہے کہ یہ ملاقات ہوئی ہے۔ ذرائع کہتے ہیں کہ اگر واقعی یہ ملاقات ہوئی ہے تو اس کا موضوع یقینا جلد انتخابات کا انعقاد ہی ہوگا۔ اس وقت پاکستان کے سیاسی منظر میں غیر یقینی کے بادل چھائے ہوئے ہیں اس لئے اندازہ‘ چہ مگوئیاں اور رازدارانہ انداز میں باتیں کرنے کا رجحان زور پکڑ رہا ہے۔

 

بشکریہ نایٹی ٹو نیوز کالمز